بریکنگ نیوز! حکمران اتحاد نے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی مشروط پیشکش کر دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ گارنٹی دیتا ہوں کےپی، پنجاب اسمبلی تحلیل کریں تو قومی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔ ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے راناثنا نے کہا کہ پی ٹی آئی آج کےپی اور پنجاب اسمبلی تحلیل کریں کل قومی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔

Almarah Advertisement

انہوں نے کہا کہ کےپی اور پنجاب اسمبلی تحلیل کریںقومی اسمبلی کےاستعفوں کی تصدیق کرادیں ایسی صورت میں یقین دہانی کراتاہوں ضمنی الیکشن نہیں عام انتخابات ہوں گے۔ وزیرداخلہ نے کہا کہ داعی رہے ہیں اپوزیشن قومی اسمبلی سےچلی جائےتو ضمنی الیکشن ممکن نہیں مخلص ہیں توصبح اسمبلیاں توڑیں اور عام انتخابات کی طرف بڑھیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے بھی رانا ثنااللہ کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف آج کےپی اور پنجاب اسمبلی تحلیل کریں کل عام انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔ دوسری جانب ایک خبر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی نے جمعرات کو پنجاب کابینہ کے پہلے مرحلے کے لیے 21 اراکین اسمبلی کو شارٹ لسٹ کیا جس میں مسلم لیگ (ق) کے اراکین پارلیمنٹ اور سابق وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی کابینہ کے کچھ قابل ذکر افراد کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کو علی الصبح اسلام آباد میں ون آن ون ملاقات میں عمران خان کی جانب سے فائنل کیے گئے نام وزیر اعلیٰ کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی کے حوالے کیے گئے، کابینہ کے ارکان (کل) ہفتہ کو حلف اٹھائیں گے۔ مونس الٰہی کو پہلے مرحلے کے لیے 21 رکنی مجوزہ کابینہ کی فہرست موصول ہوئی اور انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو یقین دلایا کہ وہ پہلے ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ مسلم لیگ (ق) کو دے چکے ہیں اور مزید کچھ نہیں چاہیے، عمران خان نے انہیں بتایا کہ دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ (ق) کے

پارلیمنٹرینز کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔مونس الٰہی نے ٹوئٹ کی کہ میں نے آج عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ ہمیں پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنا چکے ہیں اور مزید کچھ نہیں چاہیے، انہوں نے دل بڑا کرتے ہوئے دوسرے مرحلے میں کابینہ میں مسلم لیگ-ق کے اراکین کو جگہ دینے کی بات کی۔معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا گیا ہے۔تحریک انصاف نے محسن لغاری کو فنانس پورٹ فولیو کی پیشکش کر دی ہے، محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کو کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر کے کنٹرول میں دے دیا گیا ہے، خرم ورک کو قانون اور پارلیمانی امور، ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزیر صحت، راجا یاسر ہمایوں کو اعلیٰ تعلیم اور آئی ٹی جبکہ مراد راس وزیر کو اسکول ایجوکیشن کا وزیر برقرار رکھا گیا ہے۔سابق وزیر داخلہ اور قانون راجا بشارت کو کوآپریٹو اور پراسیکیوشن کا قلمدان دیا گیا ہے، آصف نکئی کو محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن جبکہ علی ساہی کو کمیونیکیشن اینڈ ورکس (سی اینڈ ڈبلیو) کا شعبہ دیا گیا ہے۔تیمور ملک کو اسپورٹس اینڈ کلچر کا قلمدان، انصار نیازی (لیبر)، منیب چیمہ (ٹرانسپورٹ)، شہاب الدین سحر (لائیو اسٹاک)، نوابزادہ منصور خان (ریونیو)، جہانیاں گردیزی (زراعت)، غضنفر عباس چھینہ (سوشل ویلفیئر)، لطیف نذر(مائنز اینڈ منرلز)، حسنینم دریشک (توانائی اور خوراک)، میاں محمود الرشید (لوکل گورنمنٹ)، میاں اسلم اقبال (ہاؤسنگ اینڈ انڈسٹریز)، علی عباس شاہ (فاریسٹ اینڈ وائلڈ لائف) اور عمر چیمہ کو وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے کی 21 رکنی کابینہ کی فہرست میں سابق وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، سابق وزیر برائے پبلک پراسیکیوشن چوہدری ظہیرالدین اور سابق وزیر خواندگی و نان فارمل بیسک ایجوکیشن راجہ راشد حفیظ اور دیگر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔