جو جو حکومتیں آئیں اپنے اپنے گناہ معاف کروا کے۔۔۔نیب ترامیم کے خلاف درخواست کی سماعت پر سپریم کورٹ نے ناقابل یقین ریمارکس دے دیے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ، دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کر الئے ، اگلی آئے گی تو اپنے کرا لے گی ۔ سپریم کورٹ میں نیب ترمیم

Almarah Advertisement

کے خلاف چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت ہوئی ، دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا گزشتہ روز کوئی مزید ترمیم کی گئی ہے؟، وکیل پی ٹی آئی نے عدالت کو بتایا کہ جو دوسری ترامیم کی گئی ہیں ان کو ابھی چیلنج نہیں کیا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیل جمع کرائیں، شائد پہلے 5 ملین والی بات نہیں تھی جو اب شامل کی جا چکی ہے ۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا آپ وہ ترامیم جو ہوئی ہیں وہ چیلنج کررہے ہیں؟ ، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا یہ ترامیم جو کی گئی ہیں وہ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لئے بھیجی گئی ہیں؟ ۔دسمبر1906ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام پرہندو بڑے نالاں ہوئے اور مسلمانوں کےخلاف سازشیں شروع کر دیں خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں نے ایک ترمیم شدہ درخواست بھی جمع کرائی ہے جس میں تفصیلات ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ کیسے کارروائی آگے چلانا چاہتے ہیں؟،مخدوم علی خان نے معروضات جمع کرانی ہونگی اور نیب کی جانب سے بھی ۔خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ گڈ گورننس اور احتساب بھی عوام کے بنیادی حق ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز افسران گرفتار ہوجاتے تھے، گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کیلئے کوئی فیصلہ کرے گا، نیب ترامیم کے بعد فیصلہ سازی پر گرفتاری نہیں ہو سکتی،

نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد تمام مقدمات عدالتوں سے خارج ہو جائیں گے۔ آپ جوا ءنہیں کھیلتے تو لاس ویگاس میں کرنے کےلئے کچھ نہیں تھا لیکن ہم نے شہر میں واقع تھیٹرز کے بارے میں سوچا نجی ٹی وی “ہم نیوز “کے مطابق جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ رواں سال ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا، ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہونگی اور جرمانے بھی واپس ہونگے،اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی، کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کیلئے قانون سازی کر سکتی ہے؟۔نجی ٹی وی “ایکسپریس نیوز ” کے مطابق جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ان نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق کے معاہدے کے تحت ملنے والے شواہد ناقابل قبول ہیں، اگر بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو ہی درخواست سنیں وگرنہ یہ عدالت کا دائرہ اختیار نہیں بنتا ، آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنی کرا لے گی، اگر عوامی پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے ۔ ہنزائی نوجوان آگ کے الاؤ کو پھلانگتے اور آگ سے کہتے تھے،”میری زردی تجھے لگے ، تیری سرخی مجھے لگے!“ دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ جو مقدمات ختم ہوچکے ہیں ان پر ترامیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا سب سے پہلا سوال حضرت عمر سے ہوا تھا، ترمیم کے بعد کرپشن ثابت ہونے تک آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس نہیں بن سکتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ قانون پارلیمنٹ سے منظور کیا ہے اس کا احترام بھی ضروری ہے، آپکے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کیخلاف ہیں،آئین کا بنیادی ڈھانچے ہونے سے متفق نہیں ہوں۔خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کا تصور موجود ہے آپ چاہیں تو ماضی کا عدالتی فیصلہ واپس لے لیں۔عدالت نے نیب ترامیم کیخلاف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست پر مزید سماعت 19اگست تک ملتوی کر دی ۔