اوریا مقبول جان نے قصہ ہی ختم کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں میں جماعتِ اسلامی، تحریک انصاف اور کسی حد تک پاکستان عوامی تحریک ایسی پارٹیاں ہیں جو اپنے لئے عوام سے براہِ راست فنڈز وصول کرنے کا ایک نظام رکھتی ہیں اور باقاعدہ ان فنڈز کا

Almarah Advertisement

حساب کتاب ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ ورنہ گذشتہ پچھتر سالوں میں بڑی سے بڑی سیاسی پارٹی خواہ ’’قدیمی‘‘ مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی، نون لیگ، ق لیگ ہو یا نیشنل عوامی پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی ہو یا جمعیت العلمائے اسلام، کسی نے ان کو عوام سے فنڈ مانگتے نہیں دیکھا ہو گا۔ ہر ایک کے اپنے ’’ڈونرز‘‘ ہیں جو ان پر سرمایہ نچھاور کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے اندر یہ تصور بھی عام ہے کہ چونکہ ان سیاسی پارٹیوں میں بڑے بڑے زمیندار اور سرمایہ دار ہوتے ہیں، اس لئے انہیں چندہ اکٹھا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تحریک انصاف چونکہ اپنے آغاز سے ہی زمینداروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے لئے ایک جاذبِ نظر پارٹی نہیں تھی، اس لئے اسے اپنے معاملات چلانے کے لئے براہِ راست لوگوں سے چندہ مانگنا پڑا۔ اس طرح سے چندہ اکٹھا کرنے کا رواج پہلے صرف جماعتِ اسلامی کے ہاں تھا جو ’’اعانت‘‘ کے نام سے فنڈ اکٹھا کرتے تھے۔ ایم کیو ایم بھی کراچی شہر سے چندہ اکٹھا کرتی تھی مگر نہ چندہ دینے والا فریاد کناں ہوتا، اور نہ ہی چندہ وصول کرنے والا شکریے کے الفاظ بولنا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔ بس ’’شہرِ خموشاں‘‘ میں سب چلتا تھا۔ آج اگر تمام سیاسی پارٹیوں کو صرف ایک ہفتے کی مہلت دی جائے کہ تم اپنے قیام سے لے کر اب تک جمع ہونے والے چندے کا حساب لے کر آئو تو اس حکم کا حشر بھی بالکل ویسا ہی ہو گا جیسا اس ملک کے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے احکامات کا

ہوتا ہے یا کسی لیڈر سے اس کے اثاثوں کی منی ٹریل مانگنے کا ہوتا ہے۔ہر کوئی اسے سیاسی پارٹیوں کی آزادی پر حملہ، جمہوریت کی بساط اُلٹنے کے مترادف اور آمرانہ اقدام قرار دے گا، اور ایسا کرنے میں سب سے پیش پیش ٹی وی چینل والے ہوں گے، جنہیں رائی سے پہاڑ بنانے کا فن خوب آتا ہے۔ اس قوم کی بدقسمتی کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھنے والے تجزیہ نگار، سیاسی قائدین اور ان کی گفتگو کا راستہ متعین کرنے والے اینکر پرسن سب کے سب پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ انہیں قانون کی تمام موشگافیاں معلوم ہیں اور وقتاً فوقتاً یہ پاکستان کے اعلیٰ ترین ماہرینِ قانون کو بھی بلاتے رہتے ہیں۔ ان تمام ’’عظیم اذہان‘‘ کو بخوبی علم تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس الیکشن ایکٹ 2017ء کے آرٹیکل 204 کے تحت صرف دو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ اگر کسی پارٹی کو کسی غیر ملکی شخص نے فنڈ دیئے ہیں تو وہ انہیں ضبط کر سکتا ہے اور اگر مناسب خیال کرے تو عمران خان سے اس کا انتخابی نشان ’’بلا‘‘ چھین سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ تھا سب قیاس آرائیاں اور دور کی کوڑیاں تھیں، جنہیں ملا کر آٹھ سال ہیجان برپا کیا گیا۔ پوری قوم کو سُولی پر چڑھا کر ریٹنگ حاصل کر کے اشتہارات کی آمدن حاصل کی گئی۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ ان لوگوں کے لئے مایوس کن ہے جو سنسنی پسند کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس بظاہر ’’مایوس‘‘ فیصلے کے بعد بھی کچھ عظیم دانشور 1970ء کی دہائی میں زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ اس فیصلے کی بنیاد پر حکومت تحریک انصاف پر ویسے ہی سپریم کورٹ سے پابندی لگوائے گی، جیسے ذوالفقار علی بھٹو نے دس فروری 1975ء کو نیشنل عوامی پارٹی پر لگوائی تھی۔ ان ’’عقلمندوں‘‘ کو اندازہ نہیں کہ اس سے پہلے عراق کے سفارت خانے سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے ، اکبر بگٹی نے پاکستان توڑنے کا لندن پلان افشا کیا تھا اور پھر سپریم کورٹ میں مقدمہ چلا کر پابندی لگوائی گئی، جس کے نتیجے میں حیدر آباد بغاوت کیس بھی چلایا گیا تھا۔ خواہشات رکھنا جرم نہیں لیکن ماہرینِ نفسیات ہر بڑی نفسیاتی بیماری کی ایک بنیادی وجہ بیان کرتے ہیں اور وہ ہے ’’حقائق سے ماورا خواب دیکھنا‘‘ جن سے انسان میں وسوسے (Delusions) جنم لیتے ہیں اور پھر یہ وسوسے خفقان، واہموں اور فریب ِ نظر (Hallucination) میں بدل جاتے ہیں۔ اس قوم کی بھی کیا قسمت ہے۔