مظہر عباس کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مظہر عباس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔گجرات کے چوہدری پرویز الٰہی ان خوش قسمت سیاست دانوں میں شامل ہیں جو حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں کے لیے قابلِ قبول تھے۔ شاید خود ان کیلئے سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوگا جب ان کے کارکنوں نے

Almarah Advertisement

چوہدری شجاعت حسین کے پوسٹر پھاڑے ہوں گے، نعرے لگائے ہوں گے۔سیاست کے اس میدان میں اس دوران عمران خان بھی آگئے تھے۔ اس شعبہ میں تو نوآموز تھے مگر اسکرین کے ہیرو تھے۔ 2000میں شریفوں نےپرویز مشرف سے 10سال کا معاہدہ کر کے سعودی عرب میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو مشرف نے 2002کے الیکشن میں بےنظیر بھٹو اور شریفوں کو باہر رکھنے کا انتظام کرلیا۔ عمران خان نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور مشرف کو سیاست کا مسیحا سمجھ بیٹھے۔تاہم جب الیکشن کا وقت آیا تو عمران کو صرف اپنی نشست ملی اور مشرف نے شفقت کا ہاتھ چوہدریوں کے سر پر رکھ دیا۔ چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیراعلیٰ ہوگئے۔ پانچ سال ڈٹ کر حکومت کی اور کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب 2007 میں عدلیہ بچائو تحریک میں سپریم کورٹ نے جناب جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کیا تو مشرف نے استعفیٰ دینے اور نئے انتخابات کا فیصلہ کرلیا مگر چوہدریوں نے انہیں ایسے کرنے سے باز رکھا۔بےنظیر کی ناگہانی موت کے بعد ان کے اس خط کا بڑا ذکر رہا جس میں دیگر افراد کے علاوہ چوہدری پرویز الٰہی اور بریگیڈئر اعجاز شاہ پر بھی شک کیا گیا تھا۔ 2008 میں الیکشن ہوئے تو پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی مشترکہ حکومت بنی مگر ججز کی بحالی پر اختلاف ہونے لگا تو زرداری صاحب نے چوہدریوں کو اپنا ہمنوا بنالیا۔ پرویز الٰہی صاحب نے ایک بار مجھے بتایا کہ زرداری صاحب یہ پیغام لے کر آئے کہ

’’پرانی دشمنی ختم کریں تاکہ ہمارے بچے دوستیوں میں جوان ہوں۔‘‘ اس بار پرویز الٰہی ڈپٹی وزیراعظم بن گئے اب آئین میں اس کی گنجائش تھی یا نہیں۔اتنے برسوں میں مسلم لیگ (ق) جوان ہو چکی تھی۔ عمران خان صاحب کیلئے وہ بڑا تکلیف دہ لمحہ تھا جب 2018کے ساتھ پنجاب میں حکومت بنانا پڑی، وہ کہتے ہیں ناں ’’ وقت کرتا ہے پرورش برسوں… حادثہ اک دم نہیں ہوتا،‘‘ ان ساڑھے تین برسوں میں دوسال ان کے درمیان گفتگو صرف اس وقت ہوتی جب عمران مشکل میں ہوتے۔عدم اعتماد کی تحریک آئی تو زرداری صاحب اور چوہدری ایک پیچ پر تھے۔ زرداری ہائوس میں ’دعا‘ کی گئی، ’ماشاء اللہ‘ رب کی شان ہے۔ پرویز الٰہی صاحب وہاں سے روانہ ہوئے تو اچانک ایک ’نامعلوم نمبر سے کال آگئی‘ اور گاڑی کا رُخ چوہدری ہائوس کی بجائے بنی گالہ کی طرف کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وہ گاڑی وہیں پارک ہے۔ میں نے کہا تھا ناں،وقت وقت کی بات ہے عمران صاحب کو جن کی شکل پسند نہیں تھی وہی مونس الٰہی آج آنکھ کا تارا ہیں اور کل کا چور وزیراعلیٰ ہے۔ رہ گئی بات باپ بیٹے کی تو شہباز شریف نہ خود کامیاب نظر آ رہے ہیں نہ حمزہ۔ اب شاید بات بڑے بھائی کے ہاتھ سے بھی نکلتی نظر آ رہی ہے۔ پنجاب بدل رہا ہے یا پھر سیاست کا اندازبدل رہا ہے۔