حیران کن داستان

لاہور (ویب ڈیسک) بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف فن کارجمال شاہ کی شخصیت میں ایک خاص قسم کا وقار اور دِھیما پن ہے، جو انہیں دیگر فن کاروں سے ممتاز کرتا ہے۔ بلوچستان کے خُوب صورت شہر کوئٹہ کی مٹی سے ان کا خمیر اٹھا۔ انہوں نے فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں میں طبع آزمائی کرکے ثابت کیا کہ

Almarah Advertisement

فن کسی مخصوص خطے، رنگ ونسل کا محتاج نہیں ہوتا ہے۔ جمال شاہ، اپنی فنی صلاحیتوں سے لاہور کے سبزہ زاروں، اسلام آباد کے پہاڑوں، کراچی کی روشنیوں، پشاور کی سنگلاخ چٹانوں اور کوئٹہ کے برف زاروں کو گل و گلزار بنا رہے ہیں۔ NCA لاہور اور لندن کے اعلیٰ اداروں سے آرٹ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی، مگر ان کے ہاتھ بچپن ہی سے رنگوں، برش اور کینوس سے آشنا تھے اور ان میں چُھپے ہوئے فن کار کو ننھے مصور اور مجسمہ ساز کو والدہ نے چار برس کی عمر میں ہی پہچان لیا تھا۔ اگر چے وہ ٹیلی ویژن فن کار کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں، لیکن وہ ایک منجھے ہوئے اداکار، ہدایت کار ہونے کے ساتھ مجسمہ ساز، مصور اور سوشل ورکر بھی ہیں۔ آرٹ سے منسلک کئی بڑے اداروں کی سربراہی کرچکے ہیں۔ پی این سی اے اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے دُنیا بھر میں پاکستان کے فن و ثقافت کو پروان چڑھایا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ دو برس قبل اسلام آباد میں انٹرنیشنل آرٹ فیسٹیول کا غیر معمولی انعقاد کیا، جس میں دو درجن ممالک سے سینکڑوں فن کاروں نے شرکت کی۔یہ جان کر سب کو خوش گوار حیرت ہوگی کہ جمال شاہ نے پاکستان ٹیلی ویژن کوئٹہ سینٹر سے اپنے فنی سفر کا آغاز بہ حیثیت گلوکار کیا تھا۔ انہوں نے اردو کے علاوہ پشتو، پنجابی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں رسیلے گیت گائے، اُن ہی دِنوں ایک پروڈیوسر نے ڈرامے میں اداکاری کی پیش کش کی، تو انہیں وہ پیش کش بہت عجیب سی لگی، لیکن بعد میں وقت نے ثابت کیا

کہ جمال شاہ نہ صرف ایک اچھے گائیک اور مصور ہیں، بلکہ اداکاری میں بھی ان کا کوئی جواب نہیں ہے۔ کم و بیش چار عشروں پر محیط فنی سفر میں انہوں نے موسیقی سمیت پرفارمنگ آرٹ کے مختلف شعبوں میں اپنے فن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اپنے سنجیدہ اور منفرد کرداروں کی وجہ سے ہر عمر اور مختلف شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں یکساں مقبول ہیں۔ ہالی وڈ کی مشہور فلم ’’کے ٹو‘‘ میں جمال شاہ نےسیاسی کارکن کا کردار مہارت سے ادا کیا، تو ہرطرف ان کی اداکاری کے چرچے ہونے لگے۔ ڈراما سیریل ’’تپش‘‘ میں ان کی لاجواب اداکاری کون بُھول سکتا ہے۔ ان کے دیگر ڈراموں میں بارش کے بعد، گرداب، پالے شاہ، پاپا اور وہ، تم ہی کہو، شہزادی، ممکن اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ عالمی سطح پر ’’ٹریفک‘‘سے انہیں غیر معمولی شہرت ملی، جو انگلینڈ کے چینل4 نے جرمنی اور انگلینڈ کے باہمی اشتراک سے بنائی تھی، یہ ڈراما سیریز دنیا بھر میں بے حد مقبول ہوئی۔اس ڈرامے میں ان کے ساتھ سینئر اداکار طلعت حسین، شکیل اور راحت کاظمی بھی تھے۔ ’’ٹریفک‘‘ کو شوبزنس کے اہم اعزاز انٹرنیشنل ایمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ علاوہ ازیں اور بھی کئی نیشنل اور انٹرنیشنل ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ جمال شاہ ایک موبائل کمپنی کے برانڈ ایمبیسڈر بھی رہ چکے ہیں۔ ہدایت کار فاروق مینگل کی فلم ’’ہجرت‘‘ میں اہم کردار ادا کیا۔ فلم ’’ہومن جہاں‘‘ میں ماہرہ خان کے والد کا کردار بھی خُوب صورتی سے نبھایا، سوات میں بدامنی کے دروان حقیقی واقعات کے موضوع پران کی ڈائریکشن میں بننے والی فلم

“REVENGE OF THE WORTH LESS” بھی سنیما اسکرین کی زینت بنی ،جس میں فردوس جمال نے صُوفی محمد کا کردار ادا کیا، جب کہ ایوب کھوسہ، مائرہ خان، نور، نجیب اللہ انجم بھی فلم کی کاسٹ میں شامل تھے اور خود جمال شاہ بھی اس فلم میں ایک اہم کردار میں نظر آئے ۔ بہترین مصور، باکمال مجسمہ ساز، شفیق استاد، باصلاحیت ڈائریکٹر اور اداکار جمال شاہ گزشتہ دنوں ڈرامے کی شوٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد سے کراچی آئے، تو اس موقع پر ہم نے ان کی فنی زندگی کے بارے میں گفتگو کی۔ ’’اپنے خاندان کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ میرے والد سید یار محمد شاہ بہت ایمان دار اور محنتی انسان تھے، وہ پہلے فوج میں جانا چاہتے تھے، لیکن وہ فوج میں بھرتی نہیں ہوسکے، تو انہوں نے پولیس کا محکمہ جوائن کیا۔ پولیس میں نامی گرامی افسر کے طور پر شہرت رکھتے تھے۔ میری والدہ بہت ذہین اور باشعور تھیں۔ مجھے بچپن میں آرٹ کی طرف مائل میری والدہ نے کیا۔ بچپن میں جب بھی کوئلہ یا چاک میرے ہاتھ لگتا، میں دن بھر دیواریں کالی کرتا رہتا تھا اور میری والدہ تمام دیواریں صاف کرتی تھیں۔ انہوں نے ہم گیارہ بہن بھائیوں کو بہترین انداز سے پالا، چھ بھائی اور پانچ بہنوں میں میرا نمبر دسواں ہے۔ میں گھرمیں چھوٹا تھا، بہن بھائی کو اسکول جاتے دیکھتا تو میں بھی اسکول جانے کی ضد کرتا تھا۔ اُس زمانے میں پانچ برس کی عمر سے پہلے اسکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔ میرے بڑے بھائی میری ضد کرنے پر کبھی کبھار مجھے اپنے ساتھ اسکول لے جاتے تھے،

چار سال کی عمر میں اچھی ڈرائنگ کی وجہ سے میرا داخلہ اسکول میں ہوگیا تھا۔ید ماسٹر نے مجھ سے کہا کہ میری تصویر بنادو گے، میں نے چاک لیا اور اسی وقت بورڈ پر ان کی تصویر بنادی، تو انہوں نے میرا داخلہ اسکول میں کرلیا۔ میرے والدین مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں، میں نے میڈیکل پڑھا بھی، لیکن میرا رجحان میڈیکل کی طرف نہیں تھا۔ اسی دوران میں نے والد سے چُھپ کر موسیقی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ میں ڈاکٹر نہیں بنوں گا۔ آج سوچتا ہوں کہ اگر ڈاکٹر بن جاتا، تو شاید مریض پریشان ہوجاتے، بعد ازاں میں نے بلوچستان یونی ورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کیا اور پھر لندن سے فائن آرٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ٹیلی ویژن پر پروڈیوسر منور توفیق نے میرا آڈیشن لیا اور مجھ سے کہا کہ نوجوانوں کے لیے موسیقی کا ایک مکمل پروگرام ترتیب دو، میں نے دوستوں کی مدد سے وہ پروگرام ترتیب دیا۔ہم نے پانچ دُھنیں بنائیں اور میں نے خُود بھی گایا۔ اتفاق سے وہ پروگرام کام یاب ہوگیا، کیوں کہ یہ کام میں نے والد صاحب سے چُھپ کر کیا تھا۔ انہوں نے ٹیلی ویژن پر مجھے گانا گاتے دیکھا ، تو بڑے غصے سے مجھے بُلایا اور کہنے لگے، لوگ کیا کہیں گے، یار محمد شاہ کا بیٹا گانے گاتا ہے۔ میں نے جواب میں کہا کہ آپ بھی تو اکثر موسیقی سُنتے ہیں۔ آپ کی وجہ سے تو مجھے شوق ہوا ہے!! کہنے لگے ’’موسیقی سُننے کی حد تک تو ٹھیک ہے۔‘‘

بعد میں وہ میرے شوق کی خاطر مان گئے اور مجھے اس سلسلے میں گائیڈ بھی کرتے تھے کہ سینئر گلوکاروں کو توجہ سے سنو اور سیکھو۔ اس کے بعد مجھے اداکاری کی پیش کش ہوئی تو میں حیران رہ گیا، آج بھی سوچتا ہوں کہ کیا میں اداکاری کرسکتا ہوںاپنی فیملی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں جمال شاہ کا کہنا تھا کہ آمنہ شاہ کے ساتھ خوش گوار زندگی بسر کررہا ہوں،ہمارے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی، دونوں باصلاحیت اور ذہین ہیں۔ بیٹی کو موسیقی کا شوق ہے ،گانے گاتی ہے اور بیٹا پاگلوں کی طرح ڈرائنگ کررہا ہوتا ہے۔ میرا بیٹا ڈرائنگ میں مجھ سے آگے جائے گا، آمنہ شاہ بھی آرٹسٹ ہیں اور ہم دونوں مل کر اپنا ادارہ ’’ہنر کدہ ‘‘چلارہے ہیں اور ہم ہر ہفتے موسیقی کا پروگرام بھی کرتے ہیں، جس میں نئی نسل کے گلوکار آواز کا جادو جگاتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ میں بہت بدمزاج ہوں، یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ یہ بات صحیح ہے کہ میں تنہائی پسند ہوں، مجھے تنہا رہنے میں بہت مزہ آتا ہے، تنہائی میں سوچنے کا موقع ملتا ہے۔ آپ مسلسل اپنے آپ سے مکالمہ کررہے ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے معاشرے میں جتنی بھی خرابیاں ہیں اور بگاڑ ہے، وہ سب بدعنوانی کی وجہ سے ہے۔ اس لیے بدعنوانی کا سب سے پہلے خاتمہ کیا جائے۔ آج بھی میں روزانہ چار پانچ گھنٹے موسیقی کی ریاضت کرتا ہُوں۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ آپ کسی ایک شعبے میں ساری توجہ دے دیں، پھر بھی اس کو پُورا نہیں کرسکتے، جب ہم کسی ایک شعبے کا حق ادا نہیں کرسکتے تو ایک ہی شعبے کے پیچھے کیوں پڑیں، میں نے جو کام کیا، اس کے ذریعے سوسائٹی کو پیغام دینے کی کوشش کی۔میں نے فلم ڈائریکشن کے شعبے میں سوچ سمجھ کر قدم رکھا ہے، ہم نےچائنا کے ساتھ مل کر ایک فلم بنائی، پاک چین مشترکہ فلم سازی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم نے چین اور پاکستان کی پہلی مشترکہ فلم ’’ باتی گرل‘‘Ba Tie girl کے معنیٰ دوست لڑکی کے ہے۔ ان دِنوں اسے ریلیز کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ یہ فلم چینگ چینگ فلم کلچر چائنا اور ہنر کدہ فلمز کی مشترکہ کاوش ہے۔ رومانس اور دوستی کے موضوع پر اس فلم کو ضرور پسند کیا جائے گا۔