ایک بھر پور سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار مزمل سہروردی اپنےا یک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔پاکستان مسلم لیگ (ن) میں آج کل ایک عجیب بحث شروع ہوئی ہوئی ہے کہ کیا انھوں نے اقتدار لے کر غلطی کی ہے۔ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں شکست نے مسلم لیگ (ن) کے اندر خطرے کی گھنٹیاں تو بجائی ہیں لیکن

Almarah Advertisement

ساتھ ساتھ ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ لوگ خوف میں بھی مبتلا ہو گئے ہیں۔دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے ناقدین جو پہلے ہی ایسی کسی صورتحال کی تلاش میں رہتے ہیں‘ جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں۔ ویسے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر دھڑے بندی موجود ہے، لیکن موجودہ صورتحال نے اس دھڑے بندی کو ایک نئی بحث کا موقع دے دیا ہے۔ایک ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ ووٹ بینک کو نقصان ہورہا ہے۔ اس لیے واپس اپوزیشن میں آجانا چاہیے۔ دوست یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر آج پاکستان کو مشکل سے نکالنے سے آپ بھاگ جائیں گے تو کل مزید مشکل میں گھرے پاکستان کی باگ ڈور کون آپ کو دے گا۔اس کا مطلب تو ہوا کہ جب پاکستان ایک خوشحال ملک بن جائے‘ تمام مسائل حل ہو جائیں‘ تب آپ کو اقتدار دیا جائے تاکہ آپ کو کوئی مشکل فیصلے نہ کرنے پڑیں۔ ایسے تو شاید آپ کو کبھی اقتدار نہیں ملے گا۔ کیونکہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ سیاسی جماعتیں اپنی کارکردگی سے عوام کا دل جیتتی ہیں۔ بیانیے کی مدد سے اقتدار میں تو آیا جا سکتا ہے لیکن اقتدار برقرار رکھنے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے کارکردگی ہی دکھانی پڑتی ہے۔ یہی جمہوریت کا اصول ہے۔کیا پاکستان مسلم لیگ (ن) کو شہباز شریف کی صلاحیتوں پر شک ہے؟ کیا میاں نواز شریف کے بعد

شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پہلی اور بہترین چوائس نہیں ہیں؟ کیا شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ہمیشہ میچ وننگ کھلاڑی نہیں رہے ہیں؟ کیا ماضی میں مشکلات سے نکالنے میں شہباز شریف کے کردار کو مسلم لیگ (ن) میں ایک امتیازی حیثیت حاصل نہیں ہے؟ کیا شہباز شریف نے سب سے زیادہ قید نہیں کاٹی ہے؟ کیا وہ میدان چھوڑ کر بھاگے ہیں۔کیا مشکل سے مشکل وقت میں بھی انھوں نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو متحد نہیں رکھا ہے؟ میاں شہباز شریف کو نواز شریف سے علیحدہ کرنے کے کتنے اسکرپٹ بنے ہیں اور کتنے اسکرپٹ ناکام ہوئے ہیں‘ کیا شہباز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اندر سے اپنے اوپر تنقید کے بعد بھی سر نگوں نہیں رکھا ہے۔ کیا کبھی انھوں نے جماعت کے فیصلوں سے لاکھ اختلاف کے باوجود کبھی انحراف بھی کیا ہے؟ ان پر تنقید کے کیا کیا نشتر نہیں برسائے گئے لیکن وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ڈسپلن کے پابند رہے۔ اس لیے آج ان پر دوبارہ تنقید سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بحیثیت جماعت نقصان ہوگا۔ اس لیے جو بھی کر رہے ہیں انھیں اندازہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔میری رائے میں مسلم لیگ (ن) کے اندر موجود اختلاف اس وقت مسلم لیگ (ن) کے لیے خطرناک بن گیا ہے۔مل کر مشکلات کا حل نکالنے کے بجائے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے کی روش زیادہ نقصان کر رہی ہے۔ اقتدار سے باہر رہنے والے اقتدار میں آنے والوں کی ٹانگ کھینچ رہے ہیں۔

بیانیے کے نام پر اپنے ذاتی اسکور برابر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ذاتی اختلافات کو جماعتی اختلافات بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے۔ میاں نواز شریف کو اس صورتحال کا نوٹس لے کر جماعت میں ڈسپلن کو قائم کرنا چاہیے۔ نمبر بنانے کی روش بند ہونی چاہیے۔ نواز شریف کے پیچھے چھپ کر کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ایک سوچ نظر آنی چاہیے۔ ابہام نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔شہباز شریف کے ناقدین کو یہ خیال کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو کس منجھدار میں سے نکال کر لائے ہیں۔ آج باتیں کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر آج تبدیلی نہ لائی جاتی تو 2023کے انتخابات میں کسی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ای وی ایم اوور سیز اور مرضی کی انتخابی اصلاحات اور مرضی کے نامزد گیوں کے بعد عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کو اس بند گلی میں لیجانا تھا جہاں سے انتخاب لڑنا بھی مشکل ہو جانا تھا۔ عمران خان خود کہہ رہے ہیں کہ اگر دس بیس لوگ نا اہل ہو جاتے انھیں سزائیں ہو جاتیں تو کیا تھا۔ اس لیے ایک طرف نواز شریف کو نا اہل کرنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ساری مرکزی قیادت کو پابند سلاسل کرنے کا منصوبہ تھا دوسری طرف اس سے بچنے کے لیے عمران خان کو نکالنا تھا۔ کون اس صورتحال میں کہہ سکتا ہے کہ غلط فیصلہ کیا گیا۔کیا آزاد کشمیر کے انتخابات میں جلسے کم بڑے تھے۔ مقبولیت نظر نہیں آرہی تھی۔ بیانیہ بھی تھا۔

نتائج کیا تھے۔ حکومت چلی گئی۔ اپوزیشن میں بھی چھوٹی جماعت بن گئے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات کو دیکھ لیں۔ بیانیہ تھا۔ مقبولیت تھی۔ کیا ہوا۔ اقتدار بھی گیا۔ سب ہار گئے۔ پارٹی ٹوٹ گئی۔ آج جن پندرہ سیٹوں پر انتخاب ہارے ہیں 2018میں ان میں سے سات سیٹوں پر مسلم لیگ (ن) کے پاس امیدوار ہی نہیں تھا۔ کوئی ٹکٹ لینے کو تیار نہیں تھا۔ مقبولیت تھی۔ بیانیہ تھا۔اس لیے مقبولیت اور بیانیہ 2023میں جیت کی کوئی گارنٹی نہیں تھے۔جیت کے لیے جن بند دروازوں کو کھولنا تھا۔ اس کے لیے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ شہباز شریف نے جانتے بوجھتے کانٹوں کے اقتدار پر قدم رکھا ہے تا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو کانٹوں سے باہر نکالا جا سکے۔ باقی جو دوست ہتھیلی پر سرسوں جمانا چاہتے ہیں انھیں اندازہ ہونا چاہیے۔ سیاست صبر کا کھیل ہے۔ یہاں ہر قدم کی اپنی قیمت ہے۔شہباز شریف اگر موجودہ معاشی مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اگر وہ معیشت کو سمت دینے میں کامیاب ہو گئے تو بیانیہ دوبارہ بن جائے گا۔ لیکن اگر ان کی ٹانگیں اسی طرح کھینچی جاتی رہیں تو کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔دوبارہ اقتدار میں آنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ شہباز شریف کو مضبوط کیا جائے۔ اب کارکردگی کی بنیاد پر ہی دوبارہ اقتدار میں آنا ممکن ہوگا۔ جو مسائل آج نظر آرہے ہیں وہ بھی حل ہو جائیں گے۔ نواز شریف کی واپسی بھی تب ہی ممکن ہے اگر اقتدار ہوگا۔ اقتدار چھوڑ کر نواز شریف کی کیا واپسی ہوگی۔ اسٹبلشمنٹ سے لڑائی ختم کرنا ہوگی تا کہ واپسی ممکن ہو سکے۔ جلدی میں کام خراب ہو جائے گا۔ سب کو علم ہے کہ راستے کی رکاوٹیں کیا ہیں اور کب دور ہونگی۔ وقت کا انتظار ہی بہترین آپشن ہے۔