اندرونی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل دانش اپنے ایک کالم میں لکھتے ہییں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا لگتا ہے (11) گیارہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے منظور کرکے سب سے پہلے اس امکان کو ختم کرنے کی کوشش ہے کہ اگر وہ واپس اسمبلی میں آجاتے ہیں تو پھر کہیں وفاقی حکومت

Almarah Advertisement

پر عدم اعتماد کی تلوار نہ لٹکنا شروع ہوجائے اور دوسری منطق یہ نظر آتی ہے کہ آئندہ 120 دن کے اندر جب الیکشن کمیشن ان نشستوں پر انتخاب کا اعلان کرے تو اتحادی مجتمع ہوکر عمران کا مقابلہ کریں اور اس بات کا اندازہ بھی کریں کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے اور وہ اگر الیکشن میں جاتے ہیں تو ان سب کی اجتماعی قوت کتنی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ڈی ایم میں یہ آواز روز بروز توانا ہوتی جارہی ہے کہ فوری الیکشن ہی کسی بڑے نقصان سے بچنے کا واحد حل ہے۔ گو کہ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن دونوں مل کر نواز شریف کو قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ خود کو میدان میں ایک مضبوط حریف کے طور پر موجود رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ وفاقی حکومت سے دستبردار ہونے سے انکار کیا جائے تاکہ مرکزی حکومت کے بل پر اقتدار اور اختیار کے کھیل میں ایک مضبوط حریف کی پوزیشن برقرار رکھی جائے۔ خود کو اقتدار کے ایوانوں میں ایک مضبوط پوزیشن پر رکھا جائے اور وقت پڑنے پر نہ صرف اپنے کردار کو زیادہ فعال اور متحرک رکھا جاسکے بلکہ ساتھ ساتھ ایسی قانون سازی بھی کی جاسکے جو آئندہ مقابلوں میں ان کیلئے زیادہ موثر ثابت ہوسکے۔ اس کے ساتھ آصف علی زرداری کا خیال ہے کہ عمران خان کی پنجاب میں حکومت قائم ہونے کے بعد اب طاقت کے توازن کو کسی طور پر برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی

حکومت قائم رہے۔ سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اگر مقتدر حلقوں نے اپنی سافٹ مداخلت سے عمران خان کو اس بات کیلئے راضی کرلیا کہ عام انتخابات کے جلد انعقاد کیلئے ضروری ہے کہ قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ چاروں اسمبلیوں کو بھی تحلیل کردیا جائے تاکہ قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنایا جاسکے۔ تو عمران کا جواب اگر مثبت ہوا تو کیا اتحادی‘ کیا وفاق میں اپنی حکومت تحلیل کرنے اور آصف علی زرداری سندھ میں اسمبلی تحلیل کرنے پر رضا مند ہوجائیں گے۔ تو لگتا یہ ہے کہ اتحادی جماعتوں کا جواب نفی میں ہوگا۔ اس کی ایک وجہ سندھ میں اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کی یہ بن سکتی ہے کہ آصف علی زرداری یہ سمجھیں کہ وہ باآسانی جب پاکستان کے اہم ترین صوبے پر حکومت کا استحقاق ایک سال مزید تک رکھتے ہیں تو وہ اپنے اس حق سے دستبردار کیوں ہوں۔ یہ بھی حقیقت ہے اور یقینا آصف علی زرداری کو اس بات کا یقین ہے کہ آئندہ الیکشن جب بھی ہوں گے سندھ میں پیپلز پارٹی کثرت رائے سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔ جہاں تک وفاق کا تعلق ہے اس کیلئے فیصلہ کرنے میں متعدد عوامل اور محرکات ہیں۔ سب سے پہلے وفاق میں اتحادی حکومت کے قیام کے پیچھے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کی کاوشوں اور جوڑ توڑ کا بنیادی کردار ہے۔ اس طرح وزیراعظم بننے کا شہباز شریف کا وہ دیرینہ خواب پورا ہوگیا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی درست ہے کہ اگر اس وقت اقتدار میں

آنے کے فیصلے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا تو ممکن تھا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف عدالتوں میں مقدمات میں انہیں سزائیں سناکر نااہل کرادیا جاتا۔ ایک عمومی تاثر یہ بھی تھا اور بعد میں اس کا برملا اظہار بھی کیا گیا کہ نومبر میں آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ بھی عدم اعتماد کی تحریک کا سبب بنا۔ ایک وفاقی وزیر نے یہ تک کہہ دیا کہ ہمیں خدشہ تھا کہ نومبر میں عمران خان لیفٹیننٹ جنرل کو آرمی چیف بنادیں گے اور پھر وہ باآسانی ہیئت مقتدرہ کی مدد سے 2023ئ کا انتخاب بھی جیت لیں گے اور ڈر یہ تھا کہ اس طرح عمران خان اپوزیشن کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ خرم دستگیر نے یہ اعتراف کیا تھا کہ ان کے پاس ایسی خبریں مصدقہ انداز میں موجود تھیں کہ عمران خان کے اپوزیشن کے متعلق کیا عزائم ہیں۔ اس اندیشے نے بھی اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں ایک نیا جوش و جذبہ پیدا کیا۔ دوسری طرف اعلیٰ عدالتوں کے حوالے سے بھی کئی متنازعہ خبریں چل رہی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کی لکیریں واضح ہوتی جارہی ہیں۔ سپریم کورٹ میں مختلف ہائی کورٹس کے ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے بھی جس طرح اختلاف رائے سامنے آرہا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر اعتزاز احسن نے کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اختلافات اب دراڑوں کی صورت میں ابھر آئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ چیف جسٹس میرے کالج کیمبرج کے فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے کالج کے یوم تاسیس پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میرے اور ان کے تعلقات کا برملا اظہار بھی کیا۔ اب صورتحال جو ہے اس میں چیف جسٹس پر منحصر ہے کہ وہ کیا رویہ اور اقدام کرتے ہیں۔ جو لوگ انہیں شکست دینا چاہتے ہیں وہ یہ بات زیر نظر رکھیں کہ یہ چیف جسٹس اور وہ دونوں جج صاحبان اس بنچ میں بھی تھے‘ جنہوں نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف بھی فیصلہ دیا تھا‘ جس کے بعد عمران خان کی حکومت ختم ہوگئی۔ یہ اس بنچ میں تھے جن میں حمزہ کی حکومت ختم ہوئی۔ پہلے تو ان کی بہت تعریفیں ہورہی تھیں‘ اب سب ان کے پیچھے لگ گئے ہیں۔