سینئر کالم نگار نے دلائل کے ساتھ دعویٰ کردیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار شفیق اعوان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پھر ایسا ہو کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان سے ناراض ہو گئی اور ہمیشہ کی طرح عمران خان کی حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے فارغ کرنے کے لیے آصف زرداری کو چنا۔ اطلاعات کے مطابق

Almarah Advertisement

نوٹوں اور ڈالروں کے بورے کھول دیے گئے۔ آصف زرداری کے انسانوں کے ضمیر کی خرید و فروخت کا ہنر کام آیا اور پہلی واردات انہوں نے پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والوں 20 اراکین قومی اسمبلی پر ڈالی اور بقول میڈیا کے ایک ایک رکن کو ضمیر بیچنے کے 25 کروڑ روپے دیے گئے۔ اس کے بعد زرداری نے نواز شریف، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کو یقین دلایا کہ پی ٹی آئی کے تمام اتحادی عمران خان کی مرکزی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کو تیار ہیں۔ یہ سب کچھ ان کے لیے حیران کن ہونے کے علاوہ پریشان کن بھی تھا۔ اطلاعات کے مطابق زرداری کے مشورے پر اسٹیبلشمنٹ کے چند سینئر اراکین نے لندن میں نواز شریف سے ملاقات بھی کی اور زرداری فارمولے کی یقین دہانی کرائی جس سے نواز شریف کی تسلی ہو گئی۔ نواز شریف کو بتایا گیا کہ قانون سازی کے ذریعے ان کی سزائیں ختم اور واپسی یقینی بنائی جائے گی اس لیے وہ بھی انکار نہ کر سکے اور زرداری اسٹیبلمنٹ کی چال کا شکار بن گئے۔ آصف زرداری نے شاطرانہ چال چلتے ہوئے شہباز شرہف کو باور کرا دیا کہ اگلے وزیراعظم وہی ہوں گے جس پر وہ بھی تن من دھن سے اسٹیبلشمنٹ کی ویگن کے جنگلے سے لٹک گئے۔ جس کے بعد اتحادی ایک ایک کر کے مرکزی حکومت سے علیحدہ ہو گئے اور بالآخر عدم اعتماد کامیاب ہو گئی اور شہباز شریف کی وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش بھی پوری ہو گئی جو بڑے بھائی کی سسٹم میں

موجودگی میں نا ممکن تھی۔ اسٹیبلشمنٹ اور ’’اداروں‘‘ نے بھی زرداری فارمولے کی بھرپور حمایت کی اور بالآخر عمران خان حکومت کوچلتا کیا گیا اور شہباز شریف حکومت وجود میں آئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے نئی حکومت کو ملک میں اقتصادی حالات درست کرنے، مہنگائی کنٹرول کرنے، دوست ممالک سے رعایتوں اور آئی ایم ایف سے بروقت قرض کے حصول جیسے ٹارگٹس دیے۔ لیکن شہباز حکومت یہ اہداف تو حاصل کیا کرتی اس کی ترجیحات نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا۔ دوست ممالک سے امداد کیا ملتی آئی ایم ایف نے بھی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے طے شدہ قرض دینے سے لیت و لعل سے کام لینا شروع کر دیا۔ جبکہ حکومت نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط مان کر ملک کو مہنگائی کی دلدل میں پھینک دیا گیا۔ ڈالر 250 کا ہو گیا پٹرولیم مصنوعات میں شرمناک اضافے اور تاریخی مہنگائی کی وجہ سے عوام بھی نئی حکومت سے مایوس ہوتے چلے گئے۔ اور تو نواز شریف کی واپسی کے لیے قانون سازی بھی نہ ہو سکی جس پر مریم نواز بھی برہم ہو گئیں۔ اسی دوران وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب آ گیا اور زرداری فارمولے کے تحت پی ٹی آئی کے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کو خریدا گیا اور ان لوٹوں کی مدد سے حمزہ شہباز وقتی طور پر وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئے۔ ان 25 ووٹوں کو چیلنج کیا گیا اور الیکشن کمیشن نے ان کی پنجاب اسمبلی کی رکنیت فارغ کر دی۔ ضمنی انتخابات میں عوام نے شہباز کی متحدہ حکومت کو مسترد کیا

اور تخت لاہور بھی گنوایا۔ ان 25 میں سے 20 عام نشستوں کے انتخاب میں 16 پی ٹی آئی کے حصے میں آئیں اور حمزہ شہباز ایک بار پھر اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا میدان ایک بار پھر سجا۔شاطر زرداری یہاں بھی باز نہ آئے اور چودھری شجاعت کو نجانے کیا گھول کر پلایا کہ انہوں نے اپنے خاندان اور چچا زاد بھائی کو چھوڑ کر ق لیگ کے دس ممبران حمزہ شہباز کی گود میں ڈال دیا۔ اس حرکت کو بھی سپریم کورٹ نے غلط قرار دے کر پرویز الٰہی کو وزیر اعلیٰ قرار دے دیا۔ زرداری کی کرامات سے چودھری خاندان تقسیم ہو گیا۔ اور چودھری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہی فارغ کر دیا گیا۔ دوسری طرف شہباز شریف اور نواز شریف کے تعلقات میں بھی دراڑ آ گئی اور پہلی بار بڑے بھائی کو احساس ہوا کہ آصف زرداری نے محض شہباز شریف کی وزارت عظمیٰ اور حمزہ کی وزارت اعلیٰ کے لیے پارٹی کی ساکھ کو داؤ پر لگایا گیا۔ اب اگر ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر واپس جاتے ہیں تو کون یقین کرے گا۔ یہی حال مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کا ہے کیونکہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ بظاہر آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کے لیے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ اور اس منصوبے کا ماسٹر مائنڈ نیرو، آصف زرداری کی شکل میں دبئی میں بیٹھا بانسری بجا رہا ہے اور پی ڈی ایم کا روم جل رہا ہے۔ بے شک ایک زرداری سب پہ بھاری۔