بریکنگ نیوز: پاکستان کے اہم ترین صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

کراچی (ویب ڈیسک ) سندھ میں شدید بارشوں کے پیش نظر محکمہ صحت نے ایمرجنسی نافذ کر دی ، میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ۔ سندھ میں بارشوں کے پیش نظر محکمہ صحت نے ایمرجنسی نافذ کر دی ، محکمہ صحت نے تمام اضلاع میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کرنےکی ہدایت دی ،

Almarah Advertisement

محکمہ صحت کی جانب سیلاب زدہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کرنےکی ہدایت کی گئی جبکہ ہرضلع میں ادویات کی فراہمی کویقینی بنایاجائے۔خیال رہے کہ بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی جس سے اموات کی مجموعی تعداد 136 ہو گئی جبکہ سینکڑوں مکانات ، پل اور شاہرات پانی کی نذر ہو گئے ۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( پی ڈی ایم اے ) کے مطابق مختلف حادثات میں 136 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں 33 خواتین ، 47 بچے اور 56 مرد شامل ہیں جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق بارشوں سے 13 ہزار 535 مکانات متاثر ہوئے ، 3 ہزار 406 مکمل تباہ ہو گئے ، 16 پلوں اور 640 کلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق پانی میں بہہ کر 23 ہزار 13 مویشی ہلاک ہوئے ، 8 ڈیم اور متعدد بند متاثر ہوئے ، ایک لاکھ 98 ہزار ایکڑ پر کاشت فاصلوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے صوبہ بلوچستان میں سیلاب سے ہلاکت پر فی کس 20 لاکھ دینے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، اس دوران قلعہ سیف اللہ میں سیلاب زدگان کے کیمپ کے حالات دیکھ کر وزیراعظم نے افسوس اور ناراضگی کا اظہار کیا، انہوں نے بلوچستان میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں حادثات سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو

20 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو دیے جانے والے 20 لاکھ روپے میں سے 10 لاکھ روپے وفاقی حکومت اور 10 لاکھ روپے صوبائی حکومت دے رہی ہے، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں سے ملاقات کی ہے، امدادی سرگرمیاں بھرپور انداز میں جاری ہیں تاہم امدادی کیمپس میں کھانے کی فراہمی نہ ہونا افسوس ناک ہے، امدادی کیمپس میں کھانے فراہم نہ کرنے پر انتظامیہ کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ساتھ موجود وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ کیمپس میں کھانا فراہم نہ کرنے پر متعلقہ افسران کو معطل کر دیا ، سیلاب متاثرین کے حوالے سے جس علاقے میں غفلت سامنے آئی تو ڈی سی اور دیگر متعلقہ لوگ خود کو معطل سمجھیں۔ قبل ازیں وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ضلع قلعہ سیف اللّٰہ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی گئی، انہیں متاثرہ علاقوں میں ہونے والی امدادی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ طوفانی بارشوں سے فصلیں اور مکانات تباہ ہوئے اور مواصلات کا نظام شدید متاثر ہوا۔ اس سے پہلے جب وزیرِ اعظم شہباز شریف کوئٹہ پہنچے تو وفاقی وزراء بھی ان کے ہمراہ تھے، کوئٹہ پہنچنے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو، وزراء اور اراکینِ صوبائی اسمبلی نے استقبال کیا ، وزیرِاعظم شہباز شریف کو ایئر پورٹ پر چیف سیکریٹری بلوچستان نے سیلاب کی صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے بلوچستان میں سیلاب سے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔