ضمنی الیکشن کا انوکھا معرکہ : دو ایسے امیدوار جو جیت کا 100 فیصد یقین ہونے کے باوجود ہار گئے ۔۔۔۔۔ انکی شکست کی وجہ کیا تھی ؟ تمام حلقوں میں جا کر الیکشن کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی کی ڈائری

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اسد اللہ خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جھنگ کے ایک امیدوار جو دریا پار انتخابی مہم پر تھے، ٹریس نہیں ہو پا رہے تھے۔ تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں تو ہمارے نمائندے کو ایک ترکیب سوجھی ، انہوں نے شہر کے مرکزی پولیس آفس میں ایک تعلق دار سے

Almarah Advertisement

رابطہ کر کے معلوم کیا کہ فلاں امیدوار کے ساتھ کو ن سا پولیس اہلکار ڈیوٹی پر ہے ، پھر اس کا نمبر حاصل کیا اور پھر اس کے افسر کا حوالہ دے کر پوچھ لیا کہ ان کی لوکیشن کیا ہے ۔اس واقع میں امیدوار کا نام اس لیے نہیں بتا رہا کہ اس سے پولیس اہلکارکی شناخت ہو جائے گی۔ خیر جھنگ کے چند امیدواروں کی بات کرتے ہیں ۔ فیصل حیات جبوآنہ ن لیگ کے امیدوار تھے۔ پچھلی مرتبہ آزاد حیثیت میں جیت کرتحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔اب انہیں ایک مشکل معرکے کا سامنا تھا۔ وہ جھنگ کی تحصیل اٹھارہ ہزاری کے ایک گائوں میں مہم پر تھے، کچے پکے رستوں سے جاتی یہ کوئی آدھ گھنٹے کی مسافت تھی۔ ایک چھوٹے سے تنگ راستے پر ہم انہیں سامنے سے جا ٹکرائے ، وہ گاڑی سے نکلے اور بہت گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ ہماری بھرپور خواہش یہی تھی کہ وہ وہیں کھڑے کھڑے ہمیں انٹرویو دیں اور پھر وہ اپنی راہ لیں اور ہم اپنی ۔ لیکن فیصل جبوآنہ نے اصرار کیا کہ ہم اگلے گائوں تک ان کے ساتھ چلیں وہیں انٹرویو بھی ہوجائے گا۔ فیصل جبوآنہ ڈرائیور کو ہٹا کر سٹیرنگ پر آ گئے اور میں ان کے برابر والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ فیصل حیات جبوآنہ گپ شپ والے آدمی ہیں، خوب گفتگو ہوئی۔ حلقے کی صورتحال کے حوالے سے انہوں نے مجھ سے دریافت کیا۔اس وقت تک میری رائے یہی تھی کہ سخت مقابلے کے بعد وہ جیت جائیں گے۔میری رائے سن کر بھی وہ بہت خوش نہیں ہوئے ، انہیں الیکشن کی باریکیوں اور سیاست کے حالات کا بخوبی علم تھا۔صاف نظر آتا تھا کہ وہ بہت زیادہ پر اعتماد نہیں ہیں۔ ان سے انٹرویو کرنے کے بعد میں عوام میں نکلا تو اندازہ ہوا کہ حالات تو یکسر مختلف ہیں ۔ تحریک انصاف کو بیانیہ خوب سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ عوام ن لیگ کی مہنگائی سے بہت ناراض تھے۔ حلقے کے ایشوز پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ہر کوئی قومی سیاست پر اپنی رائے کا اظہار کر کے عمران خان کو ووٹ دینے کا اعلان کر رہا تھا۔ میرا جی چاہا کہ فیصل جبوآنہ کو فون کر کے اپنی رائے تبدیل کرنے کی اجازت چاہوں اور انہیں بتائوں کہ وہ جیت نہیں رہے ۔عمران خان کی ہوا طوفانی شکل اختیار کر کے ان کے خلاف چل رہی تھی مگر مروت کے باعث میں ایسا نہ کر سکا ۔نتیجہ نکلا تو اعظم چیلہ تیس ہزار ووٹوں کی لیڈ سے جیت چکے تھے۔