حیران کن تاریخی واقعہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کے سیاسی اُفق پر موجود شاید ہی کوئی سیاست دان ایسا ہو گا جو بھٹو کی قید بچا ہو، وہ اس محفل میں ضرور آ نکلتا۔ اسی دوران گجرات کی ایک نشست پر ضمنی الیکشن آ گئے۔

Almarah Advertisement

بھٹو مقابلہ برداشت نہیں کیا کرتا تھا۔ اس الیکشن سے پہلے گجرات شہر میں انور سمّاں کو زندگی سے محروم کیے جانے کے بعد اعتزاز احسن کو ٹکٹ ملا تو ’’بیچارے ڈپٹی کمشنر‘‘ کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ اسے بلا مقابلہ جیتنا چاہئے۔ اس ’’غریب‘‘ نے چوبیس اُمیدواروں کو ایسا غائب کیا کہ کوئی کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے نہ آ سکا اور بیرسٹر اعتزاز احسن بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ لیکن اس دفعہ انتظامیہ کی گرفت کمزور پڑ چکی تھی اور اُمیدواروں کی وجہ سے الیکشن کروانے پڑے تھے۔ یہ پوری انتخابی مہم چوہدری صاحب کی قیادت میں چل رہی تھی اور پورے ملک سے نوجوان طلب علم رہنمائوں کا جتھہ بارک اللہ خان کی قیادت میں گجرات میں جمع تھا۔ بارک اللہ پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا ابتدائی صدر تھا جس پر امیر محمد خان نے شاہی قلعے میں بدترین زدوکوب کا نشانہ بنوایا تھا۔ اس جتھے میں جاوید ہاشمی بھی تھا جسے بھٹو نے امیر محمد خان کی روایت دہراتے ہوئے شاہی قلعے میں برف کے بلاک کے ساتھ بندھوایا تھا۔ شیخ رشید اپنے جذباتی لہجے اور قدرتی بالوں کے ہمراہ جلسوں میں گرجتا تھا۔ چوہدری ظہور الٰہی اس وقت پورے ملک کی اپوزیشن کے دائرے کا وہ نکتہ تھے جہاں سب اکٹھا ہوتے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سیاسی محفلوں سے چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کو شاید عمداً دور رکھا جاتا تھا۔ لاہور کا ظہور الٰہی ہائوس بھی پہلے ختمِ نبوت کی تحریک کا مرکز بنا اور پھر بھٹو کے خلاف اپوزیشن کی سرگرمیوں کا محور۔ چوہدری صاحب کو گرفتار کر کے بلوچستان کے

دُور افتادہ اور پسماندہ ترین علاقے کوہلو کی پرزن میں رکھا گیا۔ نواب اکبر بگٹی نے ایک دفعہ اس سارے قصے کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ بھٹو نے مجھے ظہور الٰہی کو زندگی سے محروم کروانے کے لئے کہا، جس کے جواب میں، مَیں نے اُسے کہا کہ ’’ہم کرائے کے ٹٹو نہیں ہیں‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں گھرانوں میں عزت و احترام اور محبت کا رشتہ مسلسل قائم رہا۔ بھٹو چلا گیا، ضیاء الحق آ گیا، بھٹو کو سزا دے دی گئی۔ چوہدری ظہور الٰہی نے وہ قلم ایک سووینئر کے طور پر اپنے پاس رکھ لیا جس سے حکم نامہ تحریر ہوا تھا اور پھر 25 ستمبر 1981ء کو ماڈل ٹائون میں ان پر اس وقت اٹیک ہوا جب وہ بھٹو کو سزا سنانے والے جج مولوی مشتاق کے ہمراہ ایک گاڑی میں تھے۔ نشانہ دونوں تھے، لیکن چوہدری صاحب داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ میں پنچاب سے بلوچستان جا چکا تھا اور اس شام کو نواب بگٹی کی محفل میں جن الفاظ میں چوہدری صاحب کا ذکر ہوا، میں نے کسی پنجابی لیڈر کا ایک بلوچ محفل میں ایسا ذکر نہیں سنا۔ چوبیس سال کے طویل وقفے کے بعد مجھے مشرف نے زبردستی پنجاب بھیجا، جہاں پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ تھا۔ یہ خاندان اس وقت پرویز مشرف کا دست و بازو تھا اور میں سول سروس کی نوکری میں ہوتے ہوئے مشرف کے خلاف کالم لکھ رہا تھا۔ وضع دار خاندان میں چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی، دونوں نے کبھی ماتھے پر شکن ڈالی اور نہ ہی عبرت کا نشان بنانے کی بات کی ۔ ہم اپنے اپنے دائروں میں وقت گزارتے رہے۔ ان سے ایک تعلق خاطر قائم رہا جس میں کوئی غرض شامل نہ تھی۔ جب بھی کبھی ان کے گھر گیا دونوں کو یوں شیروشکر پایا کہ رشک آتا۔ چند سالوں سے بچوں کی رنجشیں معلوم ہوئیں، وہ گلہ بھی کرتے تھے، لیکن لگتا نہیں تھا کہ بات اس قدر بڑھ جائے گی۔ ذاتی رنجشیں اور گلے اپنی جگہ لیکن اس وقت پاکستانی سیاست ایک ایسے دوراہے پر آ کر کھڑی ہو چکی ہے کہ لگتا ہے یہ اس ملک کی پچھتر سالہ تاریخ کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں کے بوسیدہ ملبوس کو اُتار پھینکنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ ابھی تو یہ آغاز ہے لیکن اس آغاز میں بھی کسی طور پر غلط رُخ یا غلط کیمپ میں کھڑا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو بھی اس عوامی سیلاب کے مقابلے میں کھڑا ہو گا، بہہ جائے گا، اس کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ میری خواہش ہے کہ اس گھڑی میں چوہدری ظہور الٰہی کا گھر ایک بار پھر ویسا ہی نظر آئے جیسا 1970ء کی دہائی میں تھا۔ ہر تحریک کا مرکز، ہر احتجاج کا منبع اور ہر تبدیلی کی محور۔