رؤف کلاسرا کا ناقابل یقین انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی گجرات کے چودھری برادران ہیں کبھی ان دونوں خاندانوں میں بہت قرب تھا مگر ان کے تعلقات کو ’’کسی ‘‘ کی نظر لگ گئی اب یہ تعلقات دشمنی میں تبدیل ہو چکے ہیں کاش ایسا نہ ہوتا چنانچہ میں آج بھی وہی کہوں گا جو کل کہتا تھا۔

Almarah Advertisement

نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں اس خاندان کی کچھ اچھائیاں بالکل نہیں بھول سکتا۔ جب شریف خاندان سے ان کے مسائل چل رہے تھے اور چودھری پرویز الٰہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب چودھری پرویز الٰہی کی گاڑی اور ان کے سارے پروٹوکول کو اپنے گھر کے دروازے پر پایا، میں نے پوری گرم جوشی سے ان کا استقبال کیا اور ان کے معانقہ میں بہت محبت تھی، ہم کافی دیر بیٹھے گپ شپ کرتے رہے، دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو میں نے ملازم کو کھانا لگانے کا کہا۔ چودھری صاحب نے عزت بخشی اور ہم نے گھر میں جو دا ل روٹی تھی اس سے لذت کام و دہن کا کام لیا۔ میں اس روز چودھری صاحب کی خاندانی روایت سے ایک بار پھر بہت متاثر ہوا کہ اختلافات اپنی جگہ مگر یہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ تاہم اگلے روز برادرم شعیب بن عزیز نے اخبارات کو خبر جاری کردی کہ عطاء الحق قاسمی نے پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ کے اعزاز میں اپنے گھر پر ظہرانہ دیا۔ مگر میری بدتمیزی ملاحظہ کریں کہ میں نے اگلے روز یہ خبر اخبارکو جاری کی کہ یہ کوئی خصوصی ظہرانہ نہیں تھا، کھانے کا وقت تھا ، چودھری صاحب نے مجھے اعزاز بخشا کہ میرے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے، میں کیا کرتا شریف خاندان سے میرے دیرینہ محبت بھرے تعلقات ہیں۔ اس موقع پر اس خبر کی اشاعت دو کشتیوں میں پائوں رکھنے کے مترادف تھی جو میری جبلت ہی میں شامل نہیں۔چودھری برادران کے اس طرح کے بہت سے شکریے مجھ پر واجب ہیں، چودھری ظہور الٰہی کے بعد اس خاندان کے انتہائی قابل احترام بزرگ چودھری شجاعت حسین میرے والد ماجدؒ کی وفات پر میرے گھر تعزیت کیلئے تشریف لائے، میں گھر نہیں تھا، دوسری مرتبہ تشریف لائے، میں اس بار بھی موجود نہیں تھا، فاتحہ خوانی کرکے چلے گئے اور کبھی اظہار بھی نہ کیا۔ ایک بات اور ہر طرح کے حالات میں ہم ایک دوسرے کی خوشی اور غمی میں شریک ہوتے رہے ہیں اور کبھی ہم میں سے کسی نے ایک دوسرے کو غیر نہیں سمجھا۔ میں جب پی ٹی وی کا چیئرمین تھا چودھری پرویز الٰہی نے ایک جینوئن آرٹسٹ کیلئے سفارش کی جس کی تعمیل میں، میں نے وقت نہیں لگایا، یہ قصہ بہت طویل ہے مگر کالم، کالم ہی ہونا چاہیے، جوابِ مضمون نہیں۔ بس آخر میں یہ کہ اس ’’لڑائی ‘‘ کا اختتام کسی اچھے پوائنٹ پر ہونا چاہیے، چودھری کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کی مبارک۔ رئوف کلاسرا کے ان الفاظ پر بے حد معذرت کے ساتھ کہ چودھری پرویز الٰہی آخر دوبارہ وزیر اعلیٰ بن گئے چاہے خاندان ٹوٹے، خون سفید ہوا، گھر میں ڈانگ سوٹے چلے اورکزنز نے ایک دوسرے کے ساتھ کیا کچھ کیا ، اگلے جملے بہت سخت ہیں، اپنی روایتی آنکھ کی شرم کی وجہ سے چھوڑے جا رہا ہوں۔