سینئر کالم نگار عطاالحق قاسمی کا واضح اعلان

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے دو سیاسی خاندانوں سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں بلکہ یوں کہتے ہیں کہ گجرات کے چودھری برادران سے بہت اچھے،اور شریف خاندان سے بالکل گھریلو مراسم۔ ہم ماڈل ٹائون میں تھے تو شریف برادران ایچ بلاک میں رہتے تھے

Almarah Advertisement

میاں محمد شریف مرحوم ومغفور والد ماجد مولانا بہائوالحق قاسمی سے بہت عقیدت رکھتے تھے ۔میاں شریف مرحوم اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ جامع مسجد اے بلاک میں نماز ادا کیا کرتے تھے وہاں کبھی کبھی ان سے ملاقات ہو جا تی ۔اس کے بعد نواز شریف سیاست میں آگئے اور اس وقت کی سیاسی روایت کے مطابق جنرل غلام جیلانی سے ہوتے ہوئے جنرل ضیاالحق کی ’’بیعت‘‘ کر لی بالکل اسی طرح جس طرح مرحوم وہ مغفور ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب خان کو ’’ڈیڈی‘‘ کا درجہ یدیا تھا ۔نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے اور انکے اس سیاسی ملاپ کے بعد میں نہ پہلے ان سے زیادہ قریب تھا اور بعد میں تو بالکل نہ ہوا۔میں نے انہیں اپنے دل میںبھرپور جگہ 1990کے بعد دی جب وہ اس چنگل سے باہر آئے اور پھر میں نے ان کیلئے بیسوں نہیں سینکڑوں کالم لکھے بلکہ ان دنوں میاں صاحب نےکبھی کبھار مجھے اسٹیج پر اپنے ساتھ بٹھانے کی دعوت بھی دی، میں دیکھنے میں جو بھی لگوں مگر درحقیقت بالکل غیر سیاسی آدمی ہوں مگران کی اس محبت بھری دعوت کو ٹالنا میرے لئے ممکن نہ تھا ۔میاں صاحب میرے گھر پر بھی دو تین مرتبہ اپنی مرحومہ بیگم کے ساتھ تشریف لائے اور وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ایک دن اچانک میرے دفتر ’’معاصر‘‘ خود ڈرائیو کرکے کسی کو اطلاع دیئے بغیر تشریف لے آئے، ایک مرتبہ مجھے فون آیا کہ قاسمی صاحب آپ کہاں ہیں میں نے بتایا الحمرا آرٹس کونسل میں ہوں ذرا عجزو انکسار ملاحظہ فرمائیں ’میں اس وقت مال روڈ سے گزر رہا ہوں اگر آپ فارغ ہوں تو کچھ دیر کیلئے حاضر ہو جائوں‘ اب اس ادا پہ کون نہ مر جائے اے خدا چنانچہ تشریف لائے اور الحمرا کا عملہ وزیر اعظم کو اچانک اپنے درمیان پاکر بے پناہ خوش ہوا ۔جب انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکر لی اور پھر اس کی وجہ سے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتی تو میرا دل بجھ کر رہ گیا میں انہیں قید میں بھی ملنے گیا ،واضح رہے چور چور، کے نعروں میں اگر ایک فیصد بھی حقیقت ہوتی تو میں نواز شریف کو کب کا چھوڑ چکا ہوتا۔ مگر میں کل بھی ان کے ساتھ تھا آج بھی ان کے ساتھ ہوں اور اگر کل بھی وہ اپنے اصولوں پر اسی طرح قائم رہے تو میں کل بھی ان کے ساتھ ہوں گا ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف سے بھی میرے بہت دوستانہ تعلقات رہے ہیں، ان دنوں بھی تعلقات ہیں ۔