Categories
آرٹیکلز

پنجاب کے مشہور صوفی اور ولی اللہ خواجہ نور محمد مہاروی ؒ کی چند کرامات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ظہور دھریجہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ انسان دوستی کے حوالے سے بزرگان دین کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، برصغیر پاک و ہند میں صوفیاء کرام نے انسانوں کو راہ راست لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان بزرگان دین میں ایک نام

حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ کا ہے، آپ کو قبلہ عالم کا لقب حاصل ہوا، آپ کا وصال 1205ہجری میں ہوا، ہر سال یکم ذوالحجہ سے پانچ ذوالحجہ تک آپ کا عرس مہار شریف چشتیاں میں عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے، لاکھوں عقیدت مند عرس کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ سرائیکی زبان کے عظیم شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے ایک کافی منقبت کی صورت میں لکھی جس میں انہوں نے حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ کو سندھ پنجاب کا راجہ لکھا ہے، کافی کے اشعار آخر میں پیش کروں گا۔ حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ کی پیدائش 14 رمضان 1146 ہجری کو بستی چوٹالہ مہار شریف چشتیاں میں ہوئی۔ آپ کے والد کا نام ہندال خان کھرل اور والدہ کا نام عاقل خاتون تھا، ابتدائی تعلیم اپنے گائوں مہار شریف سے حاصل کی اور روحانی فیض حاصل کرنے کے لئے آپ نے ڈیرہ غازی خان ، لاہور، دہلی و دیگر علاقوں کا سفر اختیار کیا اور حضرت خواجہ فخر الدین دہلویؒ کے مرید ہوئے۔ خواجہ فخر الدین دہلویؒ کا سلسلہ عقیدت حضرت نظام الدین اولیاء اور بابا فریدؒ شکر گنج سے ملتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آپ پاکپتن شریف سے بہت محبت رکھتے تھے، آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ نواب بہاول خان کو آپ سے والہانہ عقیدت اور محبت تھی، حضرت خواجہ سلیمان تونسویؒ ، حضرت خواجہ غلام فریدؒ، خواجہ غلام رسول توگیری ، خواجہ نور محمد نکی مانیکا ، حضرت خواجہ عبدالکریم نوری اور خواجہ خدا بخش خیر پور ٹامیوالی اور اس طرح ہزاروں بزرگان دین

آپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہیں۔ حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ کی بہت سی کرامات اور روایات ہیں، ایک روایت کے مطابق ایک شخص آپ سے بیعت ہونے کے لئے حاضر ہوا کہ آپ نے فرمایا کہ تم بڑی دیر سے آئے ہو کہ دودھ کی بالائی تو ’’پیر پٹھان‘‘ کھا گیا، یعنی میری فقیری ، کشف اور روحانیت کا زیادہ حصہ شاہ سلیمان تونسویؒ لے گئے ہیں، باقی لسی رہ گئی ہے۔ قبلہ عالم حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ کے ہاتھوں بہت سارے غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، آپ سلسلہ چشتیہ کے اہم ترین بزرگان میں شامل ہیں، حضرت خواجہ نور محمد مہارویؒ سلسلہ چشتیہ کے صوفیاء بالخصوص اجودھن (پاکپتن) سے آنے والے بابا فریدؒ کے ساتھ گہری نسبت رکھتے تھے، انہی صوفیاء کے سبب اس علاقے میں اسلام کی روشنی پھیلی، پاکپتن کے بعد سلسلہ چشتیہ کا اہم مرکز چشتیاں شریف بنا اسلام کی روشنی پھیلی تو جیسلمیر، بیکانیر کے اطراف میں مقیم راجپوت اور جاٹ قبائل مزاحمت پر آ گئے، جواب میں بابا تاج سرور بھی عسکری قوت بن کر میدان میں آئے۔مورخین کی رائے میں جہاں بابا تاج فرید سکونت پذیر تھے وہاں برلب دریا اونچے ٹیلوں پر ایک قدیم قلعہ تھا، یہ قلعہ بابل و نینوا کی تہذیب سے بھی بہت قدیم تھا، اس کے درمیان میں بابا فریدؒ کی معروف چلہ گاہ بھی ہے، اس قلعہ کو عرف عام میں حضرت بابا صاحب کی بیٹھک بھی کہا جاتا ہے، اس علاقے کے باشندے خانہ بدوشوں کی طرح نقل مکانی کرتے رہتے ، خشک موسم میں دریا کے کنارے پر ،برسات کے موسم میں صحرائے راجپوتاان کے مویشیوں کی چراگاہ ہوتا۔

دامن دریا اجناس خوردنی اور نیل کی پیدوار میں مشہور تھا، چشتیاں کا قدیم نام بستی تاج سرور تھا، اس نو آبادی قریہ کا نام ساتویں صدی ہجری میں ایران کے ایک مشہور شہر کے نام سے چشت شریف رکھا گیا، چشتیاں تحصیل خیر پور ٹامیوالی ضلع بہاولپور کا حصہ رہا ہے، 10ویں صدی ہجری میں بابا جی گرونانک صاحب اس علاقے میں تشریف لائے، انہوں نے اس بستی میں پچاس پیروں کے جنڈ والی جگہ پر قیام کیا ۔ سید شرف جہانگیر سمنائی متوفی 808ھ کے ملفوظات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چشتیاں تشریف لائے اور اس علاقے کا محل وقوع بیان کیا، بمطابق ریکارڈ محکمہ مال قصبہ چشتیاں 1935ء تک تحصیل خیر پور کی عملداری میں رہا، 1936ء میں اس کو تحصیل کی حیثیت حاصل ہوئی۔ یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جب دریائے ستلج بہتا تھا تو یہ پورا خطہ بہت زرخیز تھا، سمہ سٹہ سے ریلوے لائن بہاولنگر اور امروکا بٹھنڈہ کے راستے دہلی تک جاتی تھی اور اس ریلوے لائن کو تجارتی لحاظ سے بہت اہمیت حاصل تھی کہ کراچی بندر گاہ سے دہلی تک اسی ریلوے روٹ سے سامان پہنچتا تھا مگر یہ ریلوے لائن بند کر دی گئی ہے حالانکہ ریل کی پٹڑی موجود ہے اور ملازمین کو سالہا سال سے تنخواہیں بھی دی جا رہی ہیں،اس ریلوے لائن کو فنکشنل کرنے کی ضرورت ہے اور جس طرح واہگہ بارڈر کھولا گیا ہے اسی طرح ملتان ، دہلی روڈ جو کہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانیؒ اور حضرت نظام الدین اولیاء کا راستہ کہلاتا ہے اور دوسری طرف امروکہ بٹھنڈہ جو کہ خواجہ نور محمد مہارویؒ اور حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے زائرین کا روٹ ہے کو بحال کرنا چاہئے کہ اس سے دونوں ملکوں کے مسلمانوں کے ساتھ پاکستان کا بہت فائدہ ہے۔ کرتار پور راہداری کا فائدہ مسلمانوں کو نہیں سکھوں کو ہے، ہمارے حکمران لاہور تا امرتسر موٹرے کی بات کرتے ہیں اور بابا گرونانک یونیورسٹی بھی بنا دی ہے جبکہ بابا گرونانک کے مرشد بابا فریدؒ یونیورسٹی اور ملتان تا پاکپتن موٹر وے کی ضرورت ہے، چشتیاں میں بھی خواجہ نور محمد مہارویؒ یونیورسٹی ہونی چاہئے۔ کیا ہمارے حکمران اس پر توجہ کریں گے ؟۔ آخر میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے دیوان میں شامل کافی جو کہ منقبت کی صورت میں ہے قارئین کی خدمت میں حاضر ہے: ساڈٖا دوست دلیں دا نور محمد خواجہ ڈھولا یار چہیندا نور محمد خواجہ ساڈٖی ساری شرم بھرم دا تیڈٖے گٖل وچ لاجا عرب وی تیڈٖی ‘ عجم وی تیڈٖی سندھ‘ پنجاب دا راجا زمین زَمن وچ وجٖدا گجدا فیض تیڈٖے دا واجا قدم تیڈٖے وچ نوں من بھاگے انگن میڈٖے پَون پَاجا دلبر جانی یوسفؑ ثانی ہوہن مُکھ ڈٖکھلا جا