لانگ مارچ توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا کیس!! تحریک انصاف کو بڑا ریلیف مل گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت نے لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصانات پہنچانے کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 5 اگست تک توسیع کردی۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگری کی خصوصی عدالت کی جج عبہر گل خان نے 18 پی ٹی آئی رہنماؤں کی 4 مقدمات میں عبوری ضمانتوں پر سماعت کی

Almarah Advertisement

ڈاکٹر یاسمین راشد ،حماد اظہر ،اسلم اقبال سمیت دیگر نامزد ملزمان پیش ہوئے۔ عدالتی استفسار پر تفتیشی نے بتایا کہ تمام ملزمان شامل تفتیش ہوچکی ہیں جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر وکلا کو حتمی بحث کے لیے طلب کر لیا۔ دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چوہدری کی عبوری ضمانت عدم پیشی کی بنیاد پر خارج کر دی، عدالت نے اعجاز چوہدری کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست مسترد کردی۔ ادھر تحریک انصاف کے رہنما ملزمان نے پولیس اور پراسیکویشن کو مقدمہ سے دہشت گردی کی دفعات 7 اے ٹی اے خارج کرنے کی درخواست بھی دائر کر دی اور موقف اپنایا کہ دہشگردی کا قانون دہشتگردوں کے لیے بنایا گیا ہے سیاسی رہنماؤں کے لیے نہیں موقف میں مزید کہا گیا ہے کہ مقدمات میں دہشتگردی کی دفعات فعال نہیں کرتیں، دہشت گردی کی دفعات خارج کیں جائیں۔ دوسری جانب احتساب عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نمبر 9 کے جج قمر الزمان نے منی لانڈرنگ کیس پر سماعت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز پیش نہیں ہوئے، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے وکلاء کی جانب سے انکی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی، عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔ احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر دلائل طلب کر لئے۔ منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہبازشریف، حمزہ شہباز سمیت ٹوٹل 16 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، نیب ریفرنس میں شہباز شریف ،سلمان شہباز ،حمزہ شہباز، رابعہ شہباز ،نصرت شہباز کو فریق بنایا گیا ہے۔ شریف فیملی سمیت دیگر پر 7 ارب 32 کروڑ سے زائد کی منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کا الزام عائد ہے، شہباز شریف پر 5 ارب سے زائد منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر ایک ایک ارب تک کے اثاثے اور منی لانڈرنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔