وزیراعظم شہباز شریف و اہلخانہ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس: عدالت سے بڑی خبر آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) احتساب عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز اور دیگر اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی۔ تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت نمبر 9 کے جج قمر الزمان نے منی لانڈرنگ کیس پر سماعت کی

Almarah Advertisement

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز پیش نہیں ہوئے، شہبازشریف اور حمزہ شہباز کے وکلاء کی جانب سے انکی حاضری معافی کی درخواست جمع کرائی گئی، عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست منظور کر لی۔ احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر دلائل طلب کر لئے۔ منی لانڈرنگ ریفرنس میں شہبازشریف، حمزہ شہباز سمیت ٹوٹل 16 ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، نیب ریفرنس میں شہباز شریف ،سلمان شہباز ،حمزہ شہباز، رابعہ شہباز ،نصرت شہباز کو فریق بنایا گیا ہے۔ شریف فیملی سمیت دیگر پر 7 ارب 32 کروڑ سے زائد کی منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کا الزام عائد ہے، شہباز شریف پر 5 ارب سے زائد منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر ایک ایک ارب تک کے اثاثے اور منی لانڈرنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے گندم کے ذخائر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ فصل تک اجرا کے ساتھ بفراسٹاک یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر، ممکنہ طلب اور درآمد کے ٹینڈرز پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گزشتہ پونے 4 برس میں گندم کے ذخائر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں گزشتہ دورِ حکومت میں غذائی بحران آتے رہے۔