فیصلہ کن وقت آگیا!! پارلیمنٹ سپریم، عمل کریں یا شکایات کرنا بند کریں، پیپلزپارٹی کھل کر سامنے آگئی

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز دیدی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ ارکان پارلیمنٹ اور پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اگر آپ واقعی اختیارات کے توازن کو بحال کرنے کی فکر کرتے ہیں

Almarah Advertisement

تو آرٹیکل 191 کو پڑھیں اور فیصلہ کن عمل کریں۔ یا شکایات کرنا بند کریں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کا ٹویٹ وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بھی ری ٹویٹ کیا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ایک نیا سیاسی فلسفہ بنایا جا رہا ہے، پارلیمنٹ نہیں آئین سپریم ہے، آئین وہ نہیں ہے جو اس میں لکھا ہوا ہے بلکہ وہ ہے جو سپریم کورٹ آف پاکستان کہتی ہے۔ طاقت کو منتخب لوگوں سے لیکر غیر منتخب کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے، ارکان پارلیمنٹ اس سے متعلق سوچیں اور جاگ جائیں۔ اس سے قبل مریم نواز نے بھی ڈپٹی سپیکر رولنگ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سنائے جانے سے کچھ وقت قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرے یا سٹیٹس کو کا شکار بنے۔ حکومت کو چاہیے سخت موقف اختیار کرے اور ڈٹ جائے۔لیڈر تب بنتا ہے جب وہ مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان نے سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ثالثی کی پیش کش کر دی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کے لیے میزبان بننے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت شدید لوڈ شیڈنگ اور معاشی بدحالی ہے لیکن حکومت و اپوزیشن دھینگا مشتی میں لگی ہیں جبکہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو ان مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے باہمی لڑائی خود حل کرنے کے بجائے ہمیشہ راولپنڈی کی طرف دیکھا، کبھی پی ڈی ایم نے فوج پر الزامات لگا کر اسے متنازع بنایا تو کبھی پی آٹی آئی کی طرف سے یہ کیا گیا، نیوٹرلز سے بھی کہتا ہوں سیاسی جماعتوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اب عدالتوں کو متنازعہ بنا دیا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر عدلیہ کیخلاف باتیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے تنازعہ پر پھر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی عدالت میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ جیسا مقدس ادارہ بھی بے توقیر ہوگیا، عدلیہ میں بھی تقسیم کا تاثر پیدا ہوگیا ہے اور اداروں کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ 2018 کا الیکشن متنازعہ تھا اور اس وقت سے ابتک حالات خراب ہیں جبکہ عوامی مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی البتہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر جو قانون سازی ہوئی اس پر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی اکٹھے نظر آتی ہیں۔