سپریم کورٹ کے اختیارات محدود!!!! بلاول نے فرحت اللہ بابر کی تجویز کی حمایت کر دی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے ججز تقرریوں اور پروموشنز کے حوالے سے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز دے دی۔ فرحت اللہ بابر نے اپنی ٹوئٹ میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اور حکومتی اتحاد کو سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کی تجویز دی

Almarah Advertisement

اور کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور پی ڈی ایم آئین کا آرٹیکل 191 پڑھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 191 کے تحت سپریم کورٹ عدالتی کارروائی کا طریقہ کار طے کرتی ہے۔ وزیرخارجہ و چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے فرحت اللہ بابر کا ٹوئٹ ری ٹوئٹ کیا۔ دوسری جانب جماعت اسلامی پاکستان نے سیاسی بحران ختم کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں ثالثی کی پیش کش کر دی۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کے لیے میزبان بننے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت شدید لوڈ شیڈنگ اور معاشی بدحالی ہے لیکن حکومت و اپوزیشن دھینگا مشتی میں لگی ہیں جبکہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کو ان مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے باہمی لڑائی خود حل کرنے کے بجائے ہمیشہ راولپنڈی کی طرف دیکھا، کبھی پی ڈی ایم نے فوج پر الزامات لگا کر اسے متنازع بنایا تو کبھی پی آٹی آئی کی طرف سے یہ کیا گیا، نیوٹرلز سے بھی کہتا ہوں سیاسی جماعتوں کو اپنے فیصلے خود کرنے دیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اب عدالتوں کو متنازعہ بنا دیا گیا جبکہ سوشل میڈیا پر عدلیہ کیخلاف باتیں ہو رہی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے تنازعہ پر پھر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی عدالت میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ جیسا مقدس ادارہ بھی بے توقیر ہوگیا، عدلیہ میں بھی تقسیم کا تاثر پیدا ہوگیا ہے اور اداروں کو تقسیم کیا جارہا ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ 2018 کا الیکشن متنازعہ تھا اور اس وقت سے ابتک حالات خراب ہیں جبکہ عوامی مفاد میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی البتہ آئی ایم ایف کے مطالبے پر جو قانون سازی ہوئی اس پر پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی اکٹھے نظر آتی ہیں۔