بریکنگ نیوز: حکمران اتحاد نے سپریم کورٹ کی آج کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ڈپٹی اسپیکر رولنگ کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ کی جانب سے فل کورٹ بینچ کی استدعا مسترد کیے جانے کے بعد حکومتی اتحاد اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے قائدین نے مقدمے کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں حکمراں اتحاد کے رہنماؤں کی

Almarah Advertisement

پریس کانفرنس کے دوران پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدلیہ نے ہمارے مطالبے پر غور کرنےکے بجائے اسے مسترد کردیا اس لیے اگر فل کورٹ نہ بنایا گیا تو عدلیہ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ کوئی ادارہ مداخلت نہ کرے، پینجاب کے کیس کے سلسلے میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے اور سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بدقسمتی سے عدلیہ نے غیر جانبداری سے ہمارے مطالبے پر غور کے بجائے اسے مسترد کردیا، عدالت میں ہمارے وکلا نے بینچ کو آئین کے مطابق مشورہ دیا۔پیپلز پارٹی کے چیئر مین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ہمارے اتحاد کا متفقہ فیصلہ ہے، عدالت کے وقارکے لیے ہم نے فل کورٹ کا مطالبہ کیا تھا، سپریم کورٹ باربارپارلیمنٹ کے دائرہ کارمیں فیصلہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرفل کورٹ ہماری بات سنتا توپورا پاکستان فیصلے کومانتا۔مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے کہا کہ اب امتحان سپریم کورٹ کا ہے، یہ انصاف اورقانون کا تقاضا ہے، جب جج یا بینچ پر انگلی اٹھادی جائے تو وہ اپنے آپ کو ہٹالیں، ہم آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں ہماری درخواست تھی یہ پارلیمان کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے مخصوص بنچ کے بجائے فل کورٹ سماعت کرے، 20اراکین اسمبلی کے زبردستی ووٹ نکال دیئے گئے، 20ووٹ نکالنے پر نظر ثانی درخواست عدالت میں موجود ہے۔ان کا کہنا تھا

کہ نظرثانی درخواست کا فیصلہ آئے بغیر یہ معاملہ غلط سمت میں جا رہا ہے، اگر عمران خان کی ہدایت محترم تھی تو چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت بھی اتنی ہی محترم ہونی چاہیے، یہ کھلا تضاد ہے۔ن لیگی رہنماؤں نے کہاکہ ایک سربراہ کی ہدایت پر 20 اراکین کو نااہل کر دیا جاتا ہے اور دوسرے سربراہ کی ہدایت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ان جج صاحبان کے فیصلے یکطرفہ ہیں، ہم نہیں چاہتے لوگ سپریم کورٹ پرانگلیاں اٹھائیں، عمران خان سیاسی شکست کھانے پرعدلیہ کواستعمال کرتے ہیں۔ اس سے قبل ڈپٹی اسپیکر رولنگ کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومتی اتحاد اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے قائدین نے فل کورٹ کے مطالبے سے دستبردار نہ ہٹنے کا فیصلہ کرلیا۔حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین کا مشاورتی اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا جس میں مذکورہ معاملے پر غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ فل کورٹ کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم کے قائدین نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے تناظر میں مکمل حکمت عملی تیار کرلی اور تمام لوگوں نے متفقہ طور پر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے پر اتفاق رائے کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ مشاورتی اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز سمیت دیگر ایم کیو ایم، اے این پی کے قائدین نے شرکت کی۔خیال رہے کہ اس سے قبل وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ فل کورٹ تشکیل نہیں دیا تو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہماری اتحادی جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اگر فل بنچ تشکیل نہیں دیا جاتا تو ہم عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے، تمام سیاسی جماعتوں نے معزز عدالت عظمی سے استدعا کی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے ،اس سے عدالت کی عزت میں اضافہ ہوگا، ہماری استدعا ہے کہ نظرثانی پٹیشن اور متعلقہ پٹیشن سب کو اکٹھا سنا جائے، الیکشن کمیشن نے 25 ارکان کو پارٹی ہیڈ عمران خان کی ہدایات نہ ماننے پر ڈی سیٹ کیا تھا۔