آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں کیا طے ہوا ؟ تفصیلات آگئیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹری پارٹی کا اختیار نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، آرٹیکل 63 اے کہتا ہے کہ جو رکن پارلیمانی پارٹی کی ہدایات نہ مانے اس کے خلاف ڈکلیئریشن دیا جاتا ہے، میرے دماغ میں کوئی ابہام نہیں کہ کس نے ڈائریکشن دینی ہیں۔انہوں نے کہا کہ

Almarah Advertisement

سیاسی جماعت خود وہی ہوتی ہے جو پارلیمانی پارٹی ہوتی ہے، پارٹی سربراہ کا کردار بہت اہم ہے، منحرف رکن کےخلاف پارٹی سربراہ ہی ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرتا ہے، ووٹ کس کو ڈالنا ہے، ہدایت پارلیمانی پارٹی دے گی اور ریفرنس سربراہ بھیجے گا۔وکیل منصور اعوان نے کہا کہ جے یو آئی ف پارٹی سربراہ کے نام پر ہے، مولانا فضل الرحمٰن پارلیمانی پارٹی کا حصہ نہیں ہیں، عوام میں جوابدہ پارٹی سربراہ ہوتا ہے، پارلیمانی پارٹی نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت میں واضح ہو گیا تھا کہ پارٹی سربراہ کی ڈکٹیٹر شپ ختم ہونا ضروری ہے، ایک سینئر پارلیمانی لیڈر نے صدارتی ریفرنس کے دوران پارٹیوں میں آمریت کی شکایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو اپنے ارکان کو سننا ہو گا، بیرون ملک بیٹھے سیاسی لیڈر پارلیمانی ارکان کو ہدایات دیا کرتے تھے، آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمانی پارٹی کو مضبوط کیا گیا، پارلیمانی پارٹی کی بھی اپنی منشا ہوتی ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے ہمارے ہی فیصلے پر انحصار کر کے ووٹ مسترد کیے، آپ اگر ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کا دفاع کر رہے ہیں تو آپ نے آرٹیکل 63 اے کا فیصلہ تسلیم کر لیا، ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 اے کے فیصلے کو قبول کر کے ہی اس پر انحصار کیا، بس اب یہ تعین ہونا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو صحیح سے سمجھا یا نہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی معاملات میں پارلیمانی پارٹی کا بااختیار ہونا ضروری ہے، پارٹی سربراہ کی آمریت برقرار رہنے سے موروثی سیاست کا راستہ بند نہیں ہو گا۔