Categories
آرٹیکلز

جاوید چوہدری کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر صحافی جاوید چوہدری نے اپنے ایک کالم میں لندن میں نواز شریف اور حسین نواز سے اپنی ملاقات کا تذکرہ کیا ہے ، جاوید چوہدری کے مطابق جب انہوں نے حسین نواز سے کاروباری حالات کے بارے میں پوچھا تو حسین نواز کا جواب تھا ’’اﷲ کا کرم ہے لیکن ہمارے

خلاف کمپیئن نے ہمارے بزنس کو بہت نقصان پہنچایا‘ سعودی عرب میں میری کمپنی کا آڈٹ بھی ہوا‘ سعودی اتھارٹیز کئی دن ہمارے دفتر اور فیکٹری میں رہیں لیکن الحمد للہ انھیں ایک ریال کی بھی گڑ بڑ نہیں ملی‘ میرا خیال ہے یہ کنٹرول عمران خان کی درخواست پر کیا گیا تھا جب کہ حسن نواز کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا‘ یوکے اور یورپ میں پراپرٹی کے بزنس بینکوں کے بغیر ممکن نہیں ہیں اور بینک معمولی سے منفی پروپیگنڈے سے بھی بھاگ جاتے ہیں جب کہ ہم مسلسل آٹھ برسوں سے منفی پروپیگنڈے کا شکار ہیں لہٰذا آپ خود اندازہ کر لیجیے ہمارے بزنس کی صورت حال کیا ہو گی؟ بہرحال اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ کرم ہے‘‘۔مجھے دو مرتبہ میاں نواز شریف کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا‘ مجھے محسوس ہوا پارٹی ضمنی الیکشنز کے بارے میں پرامید تھی‘ یہ مریم نواز کی کوششوں اور بھرپور جلسوں پر بھی خوش تھی لیکن 17 جولائی کے نتائج نے پارٹی کو حیران کر دیا‘ نتائج پارٹی کے لیے غیرمتوقع تھے‘ میری ضمنی الیکشن سے پہلے میاں صاحب سے ملاقات ہوئی تھی تو انھوں نے پوچھا ’’آپ کا اب تک کیا تخمینہ ہے؟میں نے بتایا ’’میرا خیال ہے اسٹیبلشمنٹ سیاسی امور میں سو فیصد نیوٹرل ہو چکی ہے‘ یہ اب کسی کا بھی ساتھ نہیں دے گی‘ سیاسی فیصلے میدان اورگھوڑے کریں گے‘ آپ اگر اچھا الیکشن لڑیں گے تو آپ جیت جائیں گے اور اگر غلطیاں کریں گے تو آپ ہار جائیں گے‘ میری ذاتی معلومات کے مطابق فوج نے یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا ہے اور اگلے بیس سال تک کی قیادت اس فیصلے سے آگاہ ہے‘

یہ لوگ خود کو اب صرف جغرافیائی سرحدوں اور بدامنی کے خلاف کارروائی تک محدود کر رہے ہیں‘‘ میاں صاحب اطمینان سے میری بات سنتے رہے‘ وہاں موجود ایک صاحب بولے ’’کیا اب 20سال بعد سیاسی مداخلت ہو گی؟میں نے ہنس کر جواب دیا ’’میں صرف اپنی معلومات شیئر کر رہا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’میری اوپر نیچے عمران خان‘ اسٹیبلشمنٹ اور آپ تینوں اہم ترین کھلاڑیوں سے ملاقات ہوئی‘ میرا خیال ہے تینوں لیول پر احساس موجود ہے‘ عمران خان نے بھی کہا تھا یہ فیصلہ ضروری ہے ملک کس نے چلانا ہے‘ وزیراعظم اگر بے اختیار ہو گا تو پھر ملک نہیں چل سکے گا‘ آپ بھی یہ کہہ رہے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے لیول پر بھی یہی سوچا اور کہا جا رہا ہے‘ یہ بھی مانتے ہیں سیاست ہمارے بس کی بات نہیں‘ ہم اگر فوج کی عزت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں سیاست سے پرہیز کرنا ہوگا‘ سیاست دان جانیں اور سیاست جانے‘ ہمیں ہر حکومت کو چپ چاپ مان لینا چاہیے اور ان کی جائز اور قانونی مدد کرنی چاہیے‘ ہمیں اب حکومتیں بنانے اور توڑنے کا کام نہیں کرنا چاہیے لہٰذا میرا خیال ہے ملک میں گرینڈ ڈائیلاگ کا اب بہترین وقت آ چکا ہے‘ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر اب فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ ہم فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے‘‘۔میاں صاحب نے خاموشی سے میری بات سن لی‘ ہمیں جس طرح عمران خان کی دو خوبیوں کا اعتراف کرنا چاہیے بالکل ہمیں اسی طرح میاں نواز شریف کی خوبیوں کو بھی تسلیم کرنا چاہیے‘ عمران خان گیواپ نہیں کرتے‘ یہ ہارنے کے بعد بھی ہار نہیں مانتے اور ان کی دوسری خوبی ان میں بے انتہا انرجی ہے‘ یہ توانائی سے بھرے ہوئے ضدی انسان ہیں بالکل اسی طرح اﷲ تعالیٰ نے میاں نواز شریف کو توکل اور صبر کی نعمت سے نواز رکھا ہے‘ ان کا صبر لاجواب ہے‘ یہ بڑے سے بڑا دکھ بھی برداشت کر جاتے ہیں اور حالات جیسے بھی ہوں یہ توکل کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے‘ شاید اسی لیے اﷲ ان پر کرم کرتا ہے اور یہ بار بار پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ واپس آ جاتے ہیں‘ یہ اب چوتھی مرتبہ واپس آ رہے ہیں‘ گویہ واپسی سے انکار کر رہے تھے‘ یہ ’’آپ واپس کب آ رہے ہیں؟‘‘ کے سوال پر بار بار پوچھ رہے تھے ’’ کیا میرے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے تھا؟‘‘ لیکن اس کے باوجود مجھے محسوس ہو رہا تھا یہ اب زیادہ دنوں تک ملک سے باہر نہیں رہ سکیں گے‘ یہ جانتے ہیں یہ جتنا عرصہ ملک سے دور رہیں گے ان کی پارٹی اتنی ہی کم زور ہوتی چلی جائے گی اور اگر اگلے الیکشن ان کے بغیر ہو گئے تو پھر ن لیگ سمٹ کر چھوٹی جماعت ہو جائے گی اور میاں نواز شریف یہ نہیں چاہیں گے۔