Categories
منتخب کالم

فیصلہ کرنے کا وقت : ایک بندہ شہباز حکومت کو لے ڈوبے گا یا پھر ایک بندہ ڈوبتی کشتی کو پار لگا سکتا ہے ۔۔۔۔۔جاوید چوہدری کی زبردست تجاویز

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ میاں شہباز شریف بلاشبہ پاکستانی تاریخ کے کام یاب ترین وزیراعلیٰ تھے‘ پوری قوم کو ان سے بے تحاشا توقعات تھیں‘ وزیراعظم بننے کے بعد اسٹاک ایکسچینج اور ڈالر دونوں نے انھیں سلامی بھی دی لیکن شاید ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں

یا ملکی مسائل ان کی توقع سے زیادہ ہیں لہٰذا یہ اب تک پرفارم نہیں کر سکے اوریوں ریاست اور قوم دونوں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔حکومت کا پہلا غلط فیصلہ مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ بنانا تھا‘ مفتاح اسماعیل ایک غیرسنجیدہ انسان ہیں‘ یہ بڑے سے بڑا ظالمانہ فیصلہ بھی ہنستے ہنستے سناتے ہیں اور یہ ان کے عہدے کے شایان شان نہیں‘ یہ صنعت کار بھی ہیں اور صنعت کاروں کو روپے کی ڈی ویلیویشن سے ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے چناں چہ یہ ڈالر کنٹرول نہ کر سکے یا انھوں نے ملک میں جان بوجھ کر معاشی ایمرجنسی بھی پیدا کر دی تاکہ انھیں فوری طور پر نہ ہٹایا جا سکے‘ حکومت اگر اسحاق ڈار کو واپس لے آتی یا یہ شوکت ترین کو کام جاری رکھنے کا موقع دے دیتی تو آج صورت حال بالکل مختلف ہوتی‘ہمیں یہ ماننا ہو گا اسحاق ڈار اور شوکت ترین دونوں معیشت کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں چناں چہ دونوں کے دور میں معیشت بہتر ہوئی تھی جب کہ مفتاح اسماعیل نے اپنے دونوں ادوار میں بیڑہ غرق کر دیا۔لہٰذا آج مفتاح اسماعیل ن لیگ کی مقبولیت کو تابوت بنا کر اس میں کیل ٹھونکتے چلے جا رہے ہیں اور مجھے یقین ہے اگر اسحاق ڈار واپس نہ آئے تو مفتاح اسماعیل اپنی جہد مسلسل سے ن لیگ کو الیکشن کے قابل نہیں چھوڑیں گے‘ دوسرا حکومت شروع میں بری طرح کنفیوز تھی‘ یہ پورا مہینہ یہ سوچتی رہی ہمارے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے‘ عمران خان کو گرین چٹ دے کر نکال لیا گیا ہے

اور باقی تمام پارٹیوں کو گرتی ہوئی چٹان کے نیچے کھڑا کر دیا گیا ہے چناں چہ ہمیں پٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھانی چاہییں اور جلد سے جلد الیکشنز کرا دینے چاہییں لیکن عمران خان نے جب میر صادق اور میر جعفر کی گردان شروع کی تو حکومت کی سانس میں سانس آئی مگر یہ اس کے باوجود 25مئی تک استعفیٰ دے کر الیکشن میں جانے کا فیصلہ بھی کرتے رہے۔اس دوران یہ فیصلہ بھی ہو گیا وزیراعظم 27 مئی کو مستعفی ہو جائیں گے‘ اسمبلی ٹوٹ جائے گی اور یوں اکتوبر میں الیکشن ہو جائیں گے لیکن عمران خان غلطی کر گئے‘ انھوں نے 25 مئی کے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا‘ اس کے نتیجے میں حکومت ڈٹ گئی اور اس نے لڑنے کا فیصلہ کر لیا لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں میاں شہباز شریف کی حکومت عملاً 25 مئی کو شروع ہوئی اور یہ اگلے سال 25مئی تک قائم رہے گی‘ یہ جب تک معیشت کو الیکشن کے قابل نہیں بناتی یہ اس وقت تک قائم رہے گی‘ ملک ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹ میں آ رہا ہے۔آئی ایم ایف بھی اپنا وزیر خزانہ لانے کے بعد اپنا پیکیج بحال کر دے گا‘ حکومت کو اس کے بعد چین اور سعودی عرب سے بھی امداد مل جائے گی اور انھیں قطر بھی تین بلین ڈالر کی ادھار ایل این جی اور 2 بلین ڈالر دے دے گا جس کے بعد ڈالر ایک سو نوے روپے سے نیچے آ جائے گا اورکسی حد تک مہنگائی کنٹرول ہو جائے گی‘روس اور یوکرین وار نہ رکی تو حکومت امریکا کو راضی کر کے ایران سے سستا پٹرول بھی حاصل کر لے گی اور یوں حالات سنبھل جائیں گے لیکن یہ تمام چیزیں صرف دو چیزوں پر بیس کرتی ہیں۔ایک شریف فیملی کو پنجاب کا اقتدار اپنے خاندان سے باہر کسی دوسرے کے حوالے کرنا ہو گا اور شہباز شریف کو آزادی سے فیصلے کرنے کی اجازت دینا ہو گی ورنہ دوسری صورت میں حالات ان کے ہاتھ سے بھی نکل جائیں گے‘ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گااور اس کے بعد سیاست پر پابندی لگ جائے گی۔ملک میں آنے والے دن کیسے ہوں گے؟ میں نہیں جانتا تاہم یہ دیوار پر لکھا ہے ہم سوئی کی نوک پر اٹکے ہوئے ہیں‘ہماری ایک غلطی‘ ہماری مزید ایک حماقت ہمیں کھائی میں گرا دے گی لہٰذا اب تو عقل استعمال کر لیں‘ اب تو گنجائش بھی نہیں بچی۔