Categories
منتخب کالم

جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی یا پی ٹی آئی ان میں شامل ہو گئی ؟ عاصمہ شیرازی نے حقائق سے پردہ اٹھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون کالم نگار عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔عکس معکوس ہو جائے تو تصویر دھندلی رہ جاتی ہے البتہ عکس سائے کا ہو تو تصویر میں ڈھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم سایوں کے عکس میں تصویر ڈھونڈتے ہیں اور سائے ہیں

کہ ہمارا پیچھا ہی نہیں چھوڑتے۔پاکستان کی سیاست میں پس آئینہ کردار ہی اصل کردار ہیں۔ تصور سے تخلیق اور پھر تکمیل سے تحسین تک ان کا خفیہ کردار اس قدر واضح ہوتا ہے کہ سوائے ان کے سب کو ہی نظرآتا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔ جو دکھائی دے وہی حقیقت ہے لہذا اب حقیقت منظر پر عام ہو چکی ہے۔ سنہ 2014 کے دھرنے کے پس منظر کے اصل کردار اب ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام کی مہربانی سمجھیے کہ اُنھوں نے اسی مناسب وقت پر اپنے ’سچ مُچ نیوٹرل‘ ہونے کی قسم اٹھائی جب اصل نیوٹرل اپنی نیوٹریلٹی کے باعث زیر عتاب ہیں۔ یہ تصویر تحریک انصاف پراجیکٹ کی کامیابی کا اظہار ہے یا سر عام اعتراف۔۔ بہرحال یہ اعتراف بروقت بھی ہے اور بر محل بھی۔ملکی تاریخ میں پس منظر سے منظر عام پر آنے والے سیاسی جرنیلوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے سو یہ کریڈٹ جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام کو دینا بنتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہی سہی مگر اپنی جماعت کو علی لاعلان شناخت تو دی۔ اب دیکھیے اُن جیسے کئی جرنیل گُم نامی میں ہی گزر گئے۔جنرل ریٹائرڈ جیلانی کے سر مسلم لیگ ن کی قیادت چُننے کا کریڈٹ جاتا ہے تو جنرل ریٹائرڈ حمید گُل تحریک انصاف کے بانیان میں گردانے جاتے ہیں۔ جنرل ریٹارڈ ایوب خان، جنرل ریٹائرڈ یحییٰ، جنرل ضیا الحق اور جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے سر عام آئین معطل کیا لیکن خفیہ طور پر حلف توڑنے والے جرنیلوں کی فہرست کافی طویل ہے۔ہائبرڈ سیاسی جرنیلوں اور اہلکاروں

کی اس فہرست سے نکل کر اسائمنٹ کو باقاعدہ طور پر تسلیم البتہ کم جرنیلوں نے ہی کیا ہے۔جنرل ریٹائرڈ ظہیر الاسلام نے سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی یا سیاسی جماعت اُن میں شامل ہوئی اس سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایسے وقت میں یہ تصویر بمعہ تقریر سامنے آئی جب ادارہ تحریک انصاف کی خفیہ اور اعلانیہ نشانے پر ہے۔بے چہرہ اکاؤنٹس سوشل میڈیا پر نہ صرف فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف مہم چلا رہے ہیں بلکہ موجودہ آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم کردار کُشی کی جا رہی ہے۔ یہ کس کی عنایت اور حمایت سے ہے اداروں کو خبر ہو یا نہ ہو مگر عوام ضرور جانتے ہیں۔جو بات دل میں کہنے سے علی وزیر سزا بھگت رہے ہیں وہ کھلم کھلا مغلطات دینے والوں کے لیے کوئی بات ہی نہیں۔ جو بات سماجی پلیٹ فارم پر محض سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر کرنے والے ارسلان خان کو غائب کر دیتی ہے وہ بات ایک مخصوص جماعت کے لیے کس متانت سے ادارے برداشت کر رہے ہیں یہ بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے مگر کچھ تو ہے جو پس آئینہ ہے۔ریٹائرڈ جنرل صاحب نے تحریک انصاف کے بینر لگے ڈائس پر اپنی تقریر میں یہ بھی فرمایا کہ وہ ’سچ مُچ کے نیوٹرل‘ ہیں اور کسی سیاسی جماعت کے ساتھ نہیں لیکن اس بات پر بھی زور دیا کہ ووٹ سسٹم کے لیے دیں اور سسٹم صرف تحریک انصاف میں ہے۔اب آپ صرف سادگی ملاحظہ کیجیے کہ جنرل صاحب سادہ الفاظ میں ’سسٹم‘ کی حمایت کے لیے ووٹ مانگ

سکتے تھے مگر اُنھوں نے ’سچ مُچ نیوٹرل‘ ہونے کا جو الزام خود پر لگایا ہے اسی سے اُن کی سچائی بھی ظاہر ہوتی ہے۔رہی بات سسٹم کو ووٹ دینے کی تو یہ بات بھی درست ہے کہ سسٹم کی تبدیلی کا جو منصوبہ اُنھوں نے تخلیق کیا تھا وہ تو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا البتہ اب ایک اور سسٹم کا خواب کہیں گوشے میں ضرور پنپ رہا ہے۔دوران ملازمت بظاہر غیر سیاسی جنرل سیاست سے اسی طرح دور رہتے ہیں جیسے شہد سے دور مکھی اور دودھ سے دور مکھن، البتہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب یہ سچ مُچ کے نیوٹرل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کچھ اسی طرح کے مناظر سامنے آتے ہیں کہ سیاسی جھنڈے کے نیچے نیوٹریلیٹی کا عزم اور سسٹم کی بہتری کی قسم۔ایک بات پر تو جنرل صاحب کی ستائش بنتی ہے کہ جو شاہکار اُنھوں نے تعمیر کیا وہ آج بھی اُسی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ماہ و سال نے اُن کی وفاداری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی، جنھوں نے ایسا نہیں کیا وہ آج کل زیر عتاب ہیں اور نیوٹرل ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں۔نہ جانے اب اس کے بعد جنرل ریٹائرڈ پاشا بھی منظر عام پر آئیں اور ایسے تمام پس آئینہ کردار خفیہ پراجکیٹس کا اعتراف کریں۔ عمران خان کو جنرل ریٹائرڈ ظہیر اور جنرل ریٹائرڈ پاشا جیسے نیوٹرل چاہئے لیکن شاید موجودہ قیادت وہ خدمت اور سہولت مزید دینے سے قاصر ہے۔دعا ہے کہ سچی مچی نیوٹرل ہونے کی یقین دہانی کرنے والے پاکستان کے آئین کے حلف کی پاسداری کریں کہ اب وہ کبھی سیاست میں کردار ادا نہیں کریں گے۔