Categories
پاکستان

ملکی اثاثوں کو بیچ کر رقم اکٹھی کرنے کا فیصلہ! شہباز حکومت نے ایک اور حیران کُن فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی اور دوست ممالک کے اتنا تعاون کریں گے کہ ان ڈالرز کی مدد سے ہم بیرونی ادائیگیاں بھی کرلیں گے اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی مستحکم کرلیں گے۔نجی چینل کے پروگرام شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ ہمیں 21 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ 12ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ہے، ان 33 ارب ڈالر کے علاوہ بھی ہمیں 15

ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر چاہییں یہ سب کیسے ہوگا؟اس سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل نے بڑے پُرامید انداز میں کہا کہ بالکل ہم کر کے دکھائیں گے۔ ہمارے دوست ممالک نے کہا ہے کہ وہ ری رول کر دیں گے۔ ہم پرائیویٹائزیشن پر بات کر رہے ہیں۔ ہم ملکی اثاثوں کو بیچ کر رقم اکٹھی کریں گے۔انہوں نے کہا ورلڈ بینک اور ایشین بینک، ایشین انفرااسٹرکچر بینک سے ساڑھے 18 بلین ڈالر کے معاہدے پائپ لائن پر ہیں جو تقریباً منظور ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے دعویٰ کیا کہ 25 28 بلین ڈالر تو تیار ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ یہ اتنا مشکل ہوگا۔مزید برآں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہےکہ وہ یقین دلاتے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر تیل سستا ہوا تو پاکستان میں جو کرسکتے ہیں وہ کریں گے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں بڑھایا، ہم نے غریب افراد پر ٹیکس کا بوجھ نہیں ڈالا، شوگر ملز پر ٹیکس بڑھایا ہے، امیروں پر ٹیکس لگارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سےمعاہدے میں پیشرفت ہوئی ہے جب کہ چین سے بھی پیر تک پیسے آجائیں گے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عمران حکومت پاکستان کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر چھوڑ کر گئی، ہمیں 200 ارب کا خسارہ ملا، ہم نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھاکر پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، عمران خان بتائیں کہ وہ پاکستان کو سری لنکا کیوں بنانے جارہے تھے؟ ہم ساری ساری رات بیٹھ کر آئی ایم ایف سے بات کرتے ہیں اسی وجہ سے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نے پہلے دن سے کہا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا لازمی ہے، یہ فیصلے وزیراعظم کے لیے بہت مشکل تھے، ہم ایک ایک چیز کی قیمت کے ذمے دار ہیں چاہے ہماری غلطی ہو یا نہ ہو، ہماری ذمہ داری ہےکہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچائیں، آج اللہ کی مہربانی سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ مارکیٹ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے لیکن آج اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی ہے اور روپے کی قدر بھی مستحکم ہونے جارہی ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھاکہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑا اور یکطرفہ طور پر تیل کی قیمت کم کی، اب عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو دیکھ رہے ہیں اور یقین دلاتا ہوں اگر جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو پاکستان میں جو کچھ کرسکتے ہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد یہ پہلے 15 دن ہیں جن میں پیٹرول اور ڈیزل پر کوئی نقصان نہیں ہورہا، اس سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کو نقصان میں بیچ رہے تھے۔