Categories
پاکستان

’’لوگوں کو سچ بتائیں کہ۔۔۔۔‘‘ شوکت ترین نے مُقتدر حلقوں سے بڑا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نےمفتاح اسماعیل کی پریس کانفرنس کے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں ؟لوگوں کو سچ بتائیں کہ پچھلی حکومت اچھا کام کر رہی تھی اور اپنی نالائقی کا اعتراف کریں۔سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہ ڈالر کہاں تھا اور آج کہاں ہے یہ سب کو معلوم ہے، ہمارے دور حکومت میں مختلف شعبوں میں گروتھ ہوئی، انہوں نے مفتاح

اسماعیل کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو سچ بتائیں کہ پچھلی حکومت اچھا کر رہی تھی اور اعتراف کریں کہ آپ کی نالائقی کی وجہ سے ملک موجودہ حالات سے دوچار ہے۔شوکت ترین نے مزید کہا کہ یہ لوگ ہمارے اچھے کاموں کا کریڈٹ لے رہے ہیں جبکہ ہم نے سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ اور کامیاب جوان پروگرام پی ٹی آئی حکومت نے ہی شروع کیا تھا، ہمارے شروع کردہ منصوبوں کے نام تبدیل کیے گئے۔دوسری جانب تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ امریکا کی کال پر بائیس کروڑ عوام کے فیصلے ہوں گے تو ملک نہیں چلے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ طاقت سے ملک بند تو کر سکتے ہیں تاہم چلا نہیں سکتے،طاقتوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ اب قوم بدل چکی اب آپ بھی بدلیں۔اسد عمر نے کہا کہ مراسلہ پہلی بار آیا اور نہ ہی رجیم چینج پہلی بار ہوا، ایک طرف امریکا کا مفاد ہے کہ اسرائیل کو متعارف کرایا جائے تو دوسری طرف امریکا چاہتا ہے کہ اس خطے میں بھارت کی اجارہ داری کو قبول کریں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ خرم دستگیر کا سب کو شکریہ ادا کرنا چاہیے انہوں نے سب کا ابہام دور کر دیا، انہوں نے کہا کہ ہم تو سزائیں دیکھ رہے تھے اس لیے عمران خان کو چھوڑ نہیں سکتے تھے اور عمران خان بہت بڑی سازش کرنے والے تھے۔اسد عمر نے کہا کہ خرم دستگیر نے بتایا کہ جو آرمی چیف تبدیل ہونا تھا اس کے بعد آزاد عدالتیں اور احتساب نہیں بچنا تھا، اس کے بعد من مانی کر کے سب کو اندر پھینک دیا جانا تھا۔انہوںنے کہاکہ جب بند کمرے میں 22 کروڑ عوام کے فیصلے ہوں گے تو یہ ملک نہیں چلے گا، بند کمرے میں کچھ لوگ کبھی امریکا کی کال یا کبھی بغیر کال فیصلہ کرتے ہیں۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کی وجہ سے اس ملک میں سیاسی شعور آگیا ہے، یہ قوم کسی بند کمروں کی سازشی فیصلوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں، اس قوم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ حقیقی آزادی کے لیے نہیں رکیں گے۔ دوسری

جانب تحریک انصاف کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر فوادچوہدری نے کہا ہے کہ ن لیگ کیساتھ طے کر لیا گیا تھاکہ اسمبلیاں توڑی جائیں گی۔ایک انٹرویومیں فوادچوہدری نے کہا کہ طے ہواتھاکہ ہم اسمبلی میں جائیں گے اور اسمبلیاں توڑی جائیں گی یہ بھی طے ہوا تھا کہ اسمبلیاں توڑنے کے بعدالیکشن کی کال دی جائیگی لیکن راتوں رات ن لیگ اپنے مؤقف سے مکرگئی۔فوادچوہدری نے کہا کہ معاملات طے ہوگئے تھے ،ن لیگ سمجھی ہم کمزورہوگئے توپیچھے ہٹ گئی اس وقت شریف اور زرداری خاندان کے ذاتی مسائل ہیں یہ دونوں خاندان چاہتے ہیں کہ ان کے کیسز معاف کر دیئے جائیں ،دونوں خاندانوں پر اربوں کے کیسز ہیں کیسے چھوڑاجاسکتاہے دونوں پارٹیاں ان ہی دونوں خاندانوں کے زیراثرہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے معاملات ہوتے ہیں جہاں نیوٹرل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی نیب قانون میں جوترمیم ہوئیں اس میں اداروں نے گنیوٹرل ہوناہے توتباہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کوہم کہتے ہیں لیکن اصل قصور سیاستدانوں کاہے۔سابق وزیر کا کہنا تھا کہ اگرادارے نہ چاہتے توہماری حکومت نہیں گرتی، پاکستان کی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ پلیئرہے وہ کیسے نیوٹرل ہوسکتاہے ۔ انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیاکے ذریعے انقلاب آگیاہے اب سب عوام کو پتہ چل جاتاہے ،ہمارے کئی لوگوں نے بتایا انہیں فون آرہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹس نہ لیں۔فوادچوہدری نے کہا کہ میرا اسٹیبلشمنٹ کیساتھ احترام کاتعلق ہے ،بات یہاں نہیں پہنچنی چاہیے تھی ،پاکستان میں بہت چیزیں خراب ہوکرٹھیک ہوجاتی ہیں ،یہ بھی ٹھیک ہوجائے، پاکستان میں کوئی رولز ہے ہی نہیں،ساری کرسی کی سیاست ہے ،کرسی کی سیاست میں پاکستان آگے ہی نہیں بڑھ رہا۔