Categories
پاکستان

حکومتی پالیسیاں عوام کو لے ڈوبیں!!! آٹا 200 روپے کلوتک پہنچ جانے کا خدشہ

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک )ملک بھر میں گندم کا 30 لاکھ ٹن کا شارٹ فال پیدا ہوگیا ‘گندم اور آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان‘اس وقت سو کلو کی بوری 7400 روپے ہے .فلور ملز مالکان نے آئندہ چند روز میں ملز چکی آٹے کی قیمت 100 روپےکلو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ملز مالکان کا کہنا ہے کہ 74 روپے فی کلو گندم خرید کر 65 روپے کلو میں آٹا فروخت نہیں کرسکتے۔روزنامہ جنگ میں رفیق بشیر کی شائع خبر کے مطابق پاکستان فلور ملز

ایسوسی ایشن کے چیئرمین حاجی محمد یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک میں 70 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر ہیں ،لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہ گندم مارکیٹ میں فروخت نہیں کررہیں‘ اس وقت 30 لاکھ ٹن کا شارٹ فال ہے لیکن اس کے اثرات دسمبر جنوری میں آئیں گے ‘.انہوں نے کہا کہ حکومت دسمبر تک گندم کے 30 لاکھ ٹن کے سودے کرلے تاکہ دسمبر اور جنوری میں میں گندم کی قلت نہ ہو‘اگر ایسا نہ کیا تو آئندہ سال آٹا دو سو روپے کلو ہوجائے گا،انہوں نے تجویز دی کہ اس وقت حکومتوں کے پاس جو 70 لاکھ ٹن گندم جمع ہے اس کو مارکیٹ میں لے آئے اس فیصلے سے پورے ملک میں آٹے کی قیمت 60 روپے تک آجائے گی.انہوں نے کہا کہ اس وقت حکومت سندھ اور حکومت پنجاب نے کرپشن کے لئے اتنی پابندیاں لگا رکھی ہیں جس کی وجہ سے ملوں گندم کی خریداری بند کردی ہے اور ملیں بند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔اگر حکومت نے آٹا سستا کرنا ہے تو گندم کی نقل وحمل کو فری کردیا جائے ،پنجاب اور سندھ حکومت سرحدی چوکیاں ختم کردیں تو آٹا 60 روپے کلو تک آجائے گا۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے ضلعی سطح پرگندم کی خریدو فروخت محدود کردی ہے ،اس عمل سے پورے ملک میں گندم کا بحران شدت اختیار کررہا ہے۔دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے ، اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری پیٹرولیم ڈویژن کو بھجوا دی۔نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق ذرائع کے مطابق اوگرا نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پیٹرول 29 روپے جبکہ ڈیزل 55 روپے فی لٹر مہنگا کرنے کی تجویز ہے۔تفصیلات کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات پر ورکنگ سمری پیٹرولیم ڈویژن کوبھجوادی ۔ نجی ٹی وی اے آروائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی ورکنگ تیار کی گئی ہے، سمری کا جائزہ لینے کے بعد 16 جون سے نئی قیمتوں کا تعین ہوگا۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات مزیدمہنگی ہونے کا امکان موجودہے تاہم وزیراعظم شہباز شریف قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 23 روپے 3 پیسےفی لیٹر اور لائٹ ڈیزل پرفی لیٹر 8 روپے 8 پیسے سبسڈی دی جارہی ہے جبکہ حکومت پہلے ہی پیٹرول پرفی لیٹر سبسڈی 9 روپے 32 پیسے برداشت کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت نے مٹی کے تیل پر سبسڈی ختم کردی تھی جبکہ اس وقت پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی زیرو ہے۔خیال رہے گذشتہ ماہ شہباز حکومت پیٹرول کی قیمت میں 60 روپے کا اضافی کرچکی ہے۔