عمران خان کے ادھورے لانگ مارچ کے بعد (ن) لیگی قیادت سپریم کورٹ کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے ؟ اصل حقائق جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نجم ولی خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس منظرنامے پر غور کیجئے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت قید خانوں سے ایوان اقتدار میں پہنچ چکی ہے۔ شریف فیملی سے دو مرتبہ گرفتار ہونے والے شہباز شریف وزیراعظم ہیں اور سابق دور میں بائیس ماہ کی

Almarah Advertisement

سب سے لمبی قید کاٹنے والے حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب ہیں۔ وہ ایف آئی اے، پولیس اور دیگر ادارے جو ان کے گھروں پر ریڈ کرتے اور انہیں تنگ کرتے تھے اب ان اداروں کے سربراہ یہ خود لگا رہے ہیں اور وہ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، ان کے لئے ہٹو بچوکی صدائیں لگا رہے ہیں۔ اپنے ملک اور صوبے کا خزانہ ان کے پاس آ چکا ہے۔ یہ اپنے ساتھیوں کو وزیر اور مشیر بنا رہے ہیں۔ وہ مقتدر حلقے جو ان کے سخت ترین مخالف سمجھے جاتے تھے ان کے اقتدار پر ہرگز کوئی اعتراض نہیں کر رہے مگراس کے باوجود پٹواریوں کے نام سے مشہور ان کے حامیوں سے رو، رو کے حال بر اکر رکھا ہے۔ لگتا ہے انہیں مظلوم بننے کا بہت شوق ہے۔ تھوڑی سے مشکل پر وہ ٹسوے بہاتے ہیں کہ اللہ توبہ، موت کو سینے پر لگانے پر اتر آتے ہیں۔دوسری طرف عمران خان ہیں جو مقتدر حلقوں کی آنکھ کا تارہ ہواکر تے تھے ۔ ایوان وزیراعظم سے نکل کر سڑکوں پر للکارے دے رہے ہیں کہ فوج نیوٹرل نہ رہے، انہیں دوبارہ گود لے لے۔ وہ ایوان وزیراعظم سے نکل چکے ہیں اور اب مئی ، جون کی تپتی دوپہروں میں شہر، شہر خوار ہوتے پھر رہے ہیں، اپنے کارکنوں کو پولیس کے ڈنڈوں، آنسو گیس کے شیلوں ہی نہیں سیدھی بلٹس کے سامنے کھڑا کر رہے ہیں، ان کے لانگ مارچ ناکام ہو رہے ہیں، ان کے ممی ڈیڈی کارکن اپنے گھروں میں چھپ رہے ہیں ۔ وہ دھرنا دینے اور حکومت الٹانے کے لئے آئے تھے

مگر اپنے کارکنوں کو جوتے پڑوا کے، انہیں مقدمات میں الجھا کے فرار ہو رہے ہیں مگر وہ بڑھکیں لگا رہے ہیں، وارننگز دے رہے ہیں، وکٹری کے نشانات بنا رہے ہیں۔ اس فرق کو محسوس کیجئے۔یہ فرق گلاس آدھا بھرا ہونے اور آدھا خالی ہونے کی مشہور روایت جیسا ہے۔ نواز لیگیوں کا خالی گلاس اقتدار کے مشروب سے بھر دیا گیا ہے مگر ایوان صدر میں عارف علوی کی موجودگی اورعدلیہ کے روئیے جیسی عینکیں لگا کے یہ دیکھتے ہیں تو انہیں آدھا خالی نظر آتا ہے تو یہ روتے دھوتے ہیں، چیخیں مارتے ہیں دوسری طرف پی ٹی آئی والوں کا بھرا ہوا گلاس خالی ہوچکا ہے مگر وہ اسے اپنی لیڈر شپ کے جوش و جذبے پراعتماد کرتے ہوئے آدھا بھرا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ آپ اسی وقت کسی پٹواری اور کسی یوتھیے سے بات چیت کرلیجئے۔ پٹواری آپ کو روتا ہوا ملے گا اور یوتھیا آپ کو جوش وجذبے سے بھرا ہوا۔ آپ اسی وقت یقین کرلیں کہ ہار تب ہوتی ہے جب ہار مان لی جائے اور جیت اس وقت ہوتی ہے جب جیت کا احساس ہو، خوشی ہو، فخر ہو۔ پٹواری وہ لوگ ہیں جو لاہور کے لبرٹی چوک پر جیت کا جشن تک نہیں منا سکے مگرا س کے مقابلے میں پی ٹی آئی والے وہاں چھتیس مرتبہ جمع ہو چکے ہیں۔اب اس منظر نامے میں عدلیہ کو شامل کیجئے کیونکہ نون لیگ والوں کا ماتم عدلیہ کے حوالے سے ہی ہے۔ وہ نوحہ کناں ہیں کہ عدالت نے پی ٹی آئی کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت دے دی

اور اگر رانا ثناءاللہ کے ہاتھ میں ہی معاملات ہوتے تو وہ اٹک کے پل پر ہی روک لئے جاتے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر حکومت نے پی ٹی آئی کا مقابلہ پولیس کے ذریعے ہی کرنا ہے تویہ بھی علامت ہے کہ وہ سیاسی بیانیے کی لڑائی ہار چکے ہیں مگر ہماری چوہتر برس کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ اپوزیشن سے پولیس ہی نمٹ سکتی ہے، بہرحال، مانو کہ یہی عدالتیں ہیں جن کے فیصلوں کی وجہ سے آج پٹواریوں کی حکومتیں ہیں۔ آپ یقین کر لیجئے کہ اگر عدالتوں کے فیصلے ان کے حق میں نہ ہوتے تو یہ کبھی اقتدار نہ لے سکتے۔سپریم کورٹ اگر صدارتی ریفرنس کی تشریح عمران خان کے ایوان وزیراعظم سے نکلنے سے پہلے کر دیتی تو عمران خان کبھی وہاں سے نہ نکلتے۔ مجھے یہ بھی کہنے میں عار نہیں کہ اگر لاہور ہائیکورٹ کے ایک،د و ، تین فیصلے نہ ہوتے تو حمزہ شہباز الٹے بھی ہوجاتے تو ان کا بطور وزیراعلیٰ حلف نہ ہوپاتا بلکہ وہ الیکشن ہی غیر آئینی اور غیر پارلیمانی قرار پاتا۔آج کے منظرنامے میں فوج کے غیر جانبدار ہونے کے بعدسب سے بڑا کردار انہی عدالتوں کا ہے۔ اب پٹواری ان عدالتوں کو اتنا بھی حق اور موقع دینے کے لئے تیار نہیں کہ وہ عمران خان کو رونے دھونے کی اجازت ہی دے دیں۔ آپ پچیس مئی والے فیصلے کو ہی دیکھ لیجئے۔ عمران خان ایک جلوس لے کر خیبرپختونخوا سے آ رہے ہیں اور وہ ڈی چوک میں غیر معینہ مدت کے لئے دھرنا دینا چاہتے ہیں مگر عدالت فیصلہ دیتی ہے کہ وہ ڈی چوک سے

بہت دور ایک گراونڈ میں رات دس بجے تک اپنا جلسہ ختم کریں اور اچھے بچوں کی طرح گھروں کو واپس جائیں۔ عمران خان یہ فیصلہ صرف اتنا تسلیم کرتے ہیں کہ انہیں اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت مل گئی ہے اورا س کے بعد ان کے کارکن اسلام آباد میں آگ لگا دیتے ہیں ۔ اب یہاں مسلم لیگ نون کا کردار ہے کہ وہ توہین عدالت کی رٹ تیار کرے اور عدالت میں عمران خان کو مجرم ثابت کرے مگر ان کے دانشور اورانفلوئنسرز عدالتوں پر برس رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عدالتیں مسلم لیگ نون کا لائیرز ونگ بن جائیں مگر یہ ممکن نہیں ہے، انہوں نے اب بیلنس کرنا ہے۔نواز لیگ کے حامیوں کی بڑی تعداد ابھی تک نواز شریف کے ویژن پر اٹکی ہوئی ہے کہ انہیں حکومت چھوڑ دینی چاہئے اور الیکشن کی طرف چلے جانا چاہئے۔ یہ عملی طور پر عمران خان کے فلسفے کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔ حکومت چھوڑنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص زندگی کی مشکلات سے تنگ آکے موت کو سینے سے لگانے کے بارے سوچ لے اور دوسرے کہیں ، ہاں ہاں، یہی بہادری ہے جبکہ بہادری مقابلہ کرنے میں ہے۔ مسلم لیگ نون والوں کو بھاگنے کی ایسی عادت پڑ گئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا لیں گے تو طوفان سے بچ جائیں گے مگر انہیں رانا ثناءاللہ کی حکمت عملی سے ہی سیکھنا چاہئے کہ فتح اور کامیابی مقابلہ کرنے سے ہی ملتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ مجھے مریم نواز اور رانا ثناءاللہ کے علاوہ کسی کے بیانات میں ہمت اور جرا ت نظر نہیں آئی۔ سب نجانے کیوں رو رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مقتدر حلقے اس پرپنجابی کی اندھے والی وہی مثال سوچ رہے ہوں گے جس میں اندھے کو گھر بھی چھوڑ کے آنا پڑتا ہے۔نون لیگیو! ہمت کرو۔مرد بنو۔ ٹسوے بہانا بند کرو۔ حکومت تمہارے پاس ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا خواب ہوتی ہے اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم لوگ حکومت لے کر پھنس گئے ہو ، تمہارا گلاس آدھا خالی ہے مگر دوسری طرف عمران خان مقبولیت حاصل کر رہا اور موجیں مار رہا ہے،ا س کا گلاس آدھا بھرا ہوا ہے تو حکومت اسے دے دو، وہ سب کچھ ٹھیک کر لے گا۔ تم نے اقتدار کے محلوں میں بھی رونا ہے اور قید میں بھی۔ کم از کم قید میں رونا جچتا تو ہے، ہم جیسوں کے لئے تمہارے رونے دھونے پر لکھنے کا جواز تو بنتا ہے۔