عمران خان صرف اپنی بدزبانی پر قائم ہے ، زبان پر قائم نہ وہ پہلے تھا اور نہ آئندہ رہے گا ۔۔۔۔ توفیق بٹ کی ایک چبھتی ہوئی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔25مئی کو سابق وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں لانگ مارچ ودھرنے کا اعلان کررکھا تھا، بار بار یوٹرن لینے والے شخص کے بارے میں اللہ جانے کچھ لوگوں کو کیوں یہ یقین تھا اپنے اعلان کے مطابق

Almarah Advertisement

وہ اس وقت تک اسلام آباد سے نہیں اُٹھے گا جب تک اُسے الیکشن کی تاریخ نہیں مِل جاتی، اِس بار بھی اپنی زبان پر وہ قائم نہیں رہ سکا، آگے بھی یہی کچھ اُس نے کرنا ہے، وہ صرف اپنی ’’بدزبانی‘‘ پرقائم رہ سکتا ہے زبان پر نہیں رہ سکتا ، اُسے چاہیے تھا پُرامن دھرنا دیتا اور اُس کے لیے وہی مقام منتخب کرتا جو سپریم کورٹ نے وقف کیا تھا۔ الیکشن کی تاریخ تو خیر اُسے پھر بھی نہیں مِلنی تھی پر کچھ بھرم اُس کا رہ جاتا۔ مگر اُسے شاید سخت نیند آئی ہوئی تھی، چنانچہ جلدی جلدی دھرنا بھگتا کے وہ بنی گالہ میں سونے چلے گیا، ’’اگاں لاکے ساہنوں ’’ دھرنے ‘‘ دیاں، تے آپ میٹھی نیند سونا ایں‘‘ …وہ کہہ رہا تھا میں پچیس لاکھ لوگوں کو لے کر اسلام آباد آئوں گا۔ جتنے بڑے بڑے وہ جلسے کررہا تھا ہمارا خیال تھا دھرنے میں پچیس لاکھ سے زیادہ لوگ آئیں گے۔ ہم حکومتی ترجمانوں کے مطابق یہ تو نہیں کہتے پچیس ہزار لوگ بھی نہیں آئے مگر پچیس لاکھ لوگوں کے نہ آنے کاصِرف ہمیں ہی نہیں خان صاحب کو بھی یقیناً بڑا دُکھ ہے۔ دُکھ کے شاید اِسی عالم میں اُنہوں نے دھرنا ملتوی کردیا۔ دھرنے سے پہلے جو وارننگز وہ حکومت کا نام لے لے کر اِس مُلک کے اصل مالکوں کو دے رہے تھے وہ اُن کی فطرت کے عین مطابق تھیں۔ اُن کے پیروکار وپُجاری اُن سے بھی آگے نکلنے کی کوششوں میں ’’ٹھاہ‘‘ سے زیادہ ’’ٹھاہ‘‘ کے وفادار بنے ہوئے تھے۔ خصوصاً شیخ رشید احمد جنہیں فی الحال پارٹی بدلنے کی کوئی جگہ نہیں مِل رہی ایسی ایسی وارننگز دے رہے تھے کہ ایسی وارننگز وہ اگر ہندوستان کو دیتے ممکن ہے ہندوستان اُن کی وارننگز میں آکر یٰسین ملک کو رہا کردیتا ۔بلکہ شاید کشمیر ہی آزاد کردیتا۔ شیخ رشید احمد وارننگز اچھی دے لیتے ہیں۔ ویسے بھی اِس عمر میں وہ سوائے وارننگز کے لوگوں کو اور کچھ دے بھی نہیں سکتے۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا بڑا جھوٹا اتنا بڑافنکار اتنا بڑا شعبدہ بازپوری دنیا میں نہیں دیکھا۔ مگر کیا کریں اُس کا جھوٹ بِکتا ہے، اور صرف اُسی کا نہیں اُس کے حالیہ لیڈر کا بھی بِکتا ہے، اِن کے علاوہ بھی بے شمار لوگوں بلکہ پورے معاشرے کا آج کل یہی ایک ’’کاروبار‘‘ چل رہا ہے۔ اصل میں لوگوں کو پتہ ہے سچ کی کوئی قدر اب یہاں نہیں رہی، اُلٹا اِس کے نقصانات ہیں ۔ ’’سچ بولے گا تو قلم تیرا سرہوجائے گا … جھوٹ بول کر توزیادہ معتبر ہوجائے گا۔ بلکہ ہوسکتا ہے وزیراعظم ہی بن جائے۔