پاکستان میں ہر سال پانی کی قلت میں اضافہ : آئندہ سالوں میں صورتحال کیا ہو گی ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد زبیر خان بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔پاکستان میں پانی کے حوالے سے مجاز ادارے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق مئی کے آخر میں پاکستان کے ڈیموں میں پانی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ ارسا کے مطابق

Almarah Advertisement

ڈیموں میں جتنا پانی آ رہا ہے، وہ تقریباً سارا یا اس سے کچھ کم زیادہ ملکی ضروریات کے لیے ڈیموں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ارسا کے مطابق 20 مئی کو مجموعی طور پر ڈیموں میں 0.344 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود تھا جبکہ 28 مئی کو یہ 0.115 ملین ایکڑ فٹ رہ گیا۔ آٹھ دن میں پاکستان کے ڈیموں میں پانی کی سطح میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس سے قبل ارسا کی جانب سے 20 مئی کو بتایا گیا تھا کہ پانی کے منبع کے علاقوں اور سکردو میں درجہ حرارت میں اونچ نیچ سامنے آ رہی ہے جس وجہ سے پانی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ارسا کے مطابق اس وقت پانی کی قلت 40 سے 50 فیصد ہے جس کو مجموعی طور پر صوبوں پر تقسیم کیا جائے گا۔بین الاقوامی ادارے مرکز برائے مربوط ترقی پہاڑی علاقہ جات (آئی سی آئی ایم او ڈی) کے آبی وسائل اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہر ڈاکٹر فیصل معین قمر کے مطابق 25 مئی کی سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ہم اخذ کر رہے ہیں کہ اس سال تربیلا اور منگلا میں گذشتہ دو برسوں کے مقابلے میں پانی کم آ رہا ہے۔ڈاکٹر فیصل معین قمر کے مطابق اس صورتحال کے کئی پہلو اور وجوہات ہیں جس میں طویل عرصے سے جاری موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل کے علاوہ کچھ وجوہات کسی ایک سیزن اور طویل عرصے پر بھی محیط ہوتی ہیں۔ان موسمیاتی تبدیلیوں کی بدولت لگتا ہے کہ پاکستان کو اب مستقل طور پر آبی وسائل کی کمی کا سامنا رہے گا جبکہ

اس میں ہر سال موسمی صورتحال کی بنا پر اونچ نیچ ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرخ بشیر کے مطابق گلیشیئرز پر جب سورج کی شعاعیں پڑتی ہیں تو وہ پگھلتے ہیں اور پانی دیتے ہیں لیکن اس وقت دیکھا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان اور گلیشیئرز والے علاقوں پر بادل چھائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے گلیشیئر معمول سے کم پگھل رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’جس وقت بھی بادل چھٹیں گے تو گرمی کی لہر پیدا ہو گی جس سے توقع کی جاتی ہے کہ گلیشیئر پگھلیں گے اور ممکنہ طور پر دریاؤں بالخصوص دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال بہتر ہو گی جس سے تربیلا کی صورتحال بہتر ہونے کا امکان پیدا ہو گا۔‘ڈاکٹر فرخ بشیر کا کہنا تھا کہ اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ ہمارے نمی والے علاقوں میں نمی اور خشکی والے علاقوں میں خشکی بڑھ رہی ہے۔ اب نمی بڑھنے کا مطلب زیادہ عرصے تک بادلوں کا چھائے رہنا ہو گا جس کا ہم اس وقت مشاہدہ کر رہے ہیں۔آئی سی آئی ایم او ڈی کے ماہر گلیشیئر ڈاکٹر شیر محمد کے مطابق اگر ہم پچھلے پانچ برس کا تجزیہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ سنہ 2020 اور 2019 کے علاوہ تین سال خشک تھے۔ ان میں برفباری اور بارشیں کم ہوئیں اور اس سال مئی میں اوسط سے کوئی آٹھ گنا کم بارشیں ہوئی ہیں۔ڈاکٹر فیصل معین قمر کے مطابق پاکستان میں پانی کی یہ صورتحال کوئی ایسی نہیں جس کے بارے میں ہمیں پہلے سے پتا نہیں تھا بلکہ سائنسدان اس صورتحال کے بارے میں چند ماہ پہلے ہی سے جانتے تھے۔

ڈاکٹر فیصل معین قمر کے مطابق سائنسدان جو یہ بات کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت پانی کی قلت کا سامنا ہے، اب شاید یہ کمی کچھ عرصے تک جاری رہے کیونکہ اس وقت موسمیاتی تبدیلی کی بدولت پورا کا پورا قدرتی نظام ہی گڑبڑ کر چکا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پانی کا انحصار نومبر سے لے کر مارچ ہونے والی برفباری اور بارشوں پر ہوتا ہے اور اسی وقت سمجھ میں آ جاتا ہے کہ پانی کی کیا صورتحال ہو گی۔ پاکستان کے تربیلا ڈیم کا زیادہ تر انحصار گلیشیئرز پر ہوتا ہے جبکہ منگلا ڈیم کا انحصار بارشوں اور برفباری پر ہوتا ہے اور اب بارشیں اور برفباری دونوں کم ہوئی ہیں۔ڈاکٹر فیصل معین قمر کا کہنا تھا کہ انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں آبپاشی کا ایک بڑا نظام جو تقریباً 25 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا ہے، اس کا 50 فیصد انحصار برف اور گلیشیئرز کے پگھلنے پر ہے۔ایک اور توقع یہ ہوتی ہے کہ مون سون میں مناسب اور اوسط بارشیں ہو جائیں تو شاید کسی حد تک پانی کا مسئلہ کم ہو سکے مگر اس وقت پیشگوئی یہ ہے کہ مون سون کے دوران ہمارے پاس اوسط کے قریب بارشوں کی توقع کی جا رہی ہے جس بنیاد پر لگتا یہ ہی ہے کہ مون سون کی بارشیں پاکستان میں برف باری کی کمی کو پورا نہیں کر پائیں گی۔‘ڈاکٹر فیصل معین قمر کہتے ہیں کہ اس سال دوسری اہم بات یہ رہی کہ ہمارا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر چلا گیا جس وجہ سے زمین میں نمی کم ہوئی اور کم ہوتی نمی کی وجہ سے اب کسانوں اور زمینداروں کو زیادہ پانی کی ضرورت پڑ رہی ہے، چنانچہ پانی معمول سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اُنھیں خدشہ ہے کہ ربیع کی فصل کی طرح پاکستان میں خریف کی فصل پر بھی کوئی اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے جس کے نتیجے میں خوراک کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو گندم باہر سے بھی منگوانی پڑ سکتی ہے۔ڈاکٹر فیصل معین قمر کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے سبب پانی کی قلت ایک حقیقت ہے اور اس کے باعث پانی کی دستیابی میں بہتری کے امکانات بہت کم ہیں، چنانچہ پاکستان جیسے ملک میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پانی کی بہتر انتظام کاری کی جائے۔اُن کے مطابق پانی کے استعمال کے طریقوں پر توجہ دینا ہو گی، جدید آبپاشی کو عام کرنا اور عام کسانوں کی پہنچ تک پہنچانا ہو گا۔ اس کے علاوہ ایسی فصلیں جن کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت پڑتی ہے ان پر توجہ کم کر کے دوسری فصلوں کی جانب اپنی توجہ کرنا ہو گی جو کم پانی میں بھی اچھے نتائج فراہم کرتی ہیں۔