میاں صاحب : آپ اگست 2023 میں الیکشن والا چھنکنا لاڈلے کے ہاتھ میں پکڑا کیوں نہیں دیتے ۔۔۔حنا پرویز بٹ کا وزیراعظم شہباز شریف کے لیے مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور (ن) لیگی خاتون سیاستدان حنا پرویز بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔پاکستان کو جس طرح ’’دیوالیہ‘‘ کیا گیا، معاشرتی اقدار کو بھی کچھ یوں ہی ’’زندہ درگور‘‘ کیا گیا، مریم نواز پر بھی غیر اخلاقی گند اچھال کر ’’ایامِ جاہلیت‘‘ کی یاد تازہ کی گئی جب کہ’’پراگندہ‘‘ ذہنیت کے لوگ

Almarah Advertisement

خود اپنی ’’گندگی‘‘ پر تصدیقی مہر ثبت کیا کرتے تھے، اب تو حال یہ ہے کہ سوشل میڈیا سے لے کر مین اسٹریم میڈیا تک، ہر زبان ایک ہی ٹرینڈ چلا رہی ہے ’’بدتمیز‘‘، مکافاتِ عمل کے تحت موصوف کے چہرے سے ایک ایک کرکے سارے نقاب اترتے چلے جارہے ہیں، اس کے حامیوں کو بھی ’’چانن‘‘ ہو چکا ہے کہ حواریوں کے پہلو میں رہ کر ’’ڈنڈ بیٹھکیں‘‘ لگا کر بہادری کے تمام مظاہرے محض ’’ڈھونگ‘‘ تھے کیونکہ جب انقلاب لانے کیلئے سڑکوں پر نکلنا تھا اور عوام کو باہر نکال کر اظہارِ مردانگی کرنا تھا تو وہ بذریعہ ’’سرکاری ہیلی کاپٹر‘‘ صوبے کی حدود پھلانگ کر ’’اڑان‘‘بھر گیا، درباری نوفتنوں میں حیران کن طور پر اس کے پاس ایک بھی دانا نہیں تھا جو اسے بتاتا ہیلی کاپٹر پر انقلاب نہیں آیا کرتے، جعلی ’’لانگ مارچ‘‘ کے غبارے سے ہوا نکلنے کے بعد اب وہ پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا کر چکا ہے، ’’25لاکھ‘‘ لوگ لانے کا خواہاں ’’فلاپ مارچ میں 25ہزار‘‘ لوگ نہ لاسکنے والا پتلی گلی سے نکل گیا، اب کون اس کی ’’پھوکی وارننگ ‘‘ پر یقین کرے گا کہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے ورنہ 6دن بعد دوبارہ آئوں گا، اب تو اس کے کٹر حامی بھی کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ ’’سانوں ڈی چوک بلا کے آپ باروں بار ای پتلی گلی توں نکل گیا‘‘، ویسے وزیراعظم شہباز شریف بہت ہی کٹھور ہیں، انہیں چاہیے نئے انتخابات کیلئے 2023کی تاریخ کا ’’چھنکنا‘‘ اس کے ہاتھ میں پکڑا دیں، ویسے کتنی مزاحیہ صورتحال ہوگی جب وہ یہ کہے گا ہم جیت گئے،

ہم نے حکومت کو انتخابات کی تاریخ 14اگست 2023کا اعلان کرنے پر مجبور کردیا، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے ’’مصدقہ شارٹ مارچ‘‘ کے دوران جس کمال حکمتِ عملی سے پی ٹی آئی رہنمائوں اور زومبیوں کو ڈیل کیا اس سے لگتا ہے کہ چوہدری نثار دوبارہ خواب میں ہی اس کرسی پر بیٹھ سکیں گے، انٹرویو اور تقریریں کرنے کی بیماری میں مبتلا شخص کا ریاستِ مدینہ نامی ’’چورن‘‘ مکمل طور پر فشوں ہو چکا ہے، ’’نادان درباریوں‘‘ کی فرمائش پر وہ ’’نادانِ اعظم‘‘ جب ’’سازشی خط‘‘ کی ڈگڈی بجانے کیلئے حماقت کے ’’کوہ ہمالیہ‘‘ پر جا بیٹھا تو پوری دنیا پکار اٹھی ’’جھوٹا جھوٹا‘‘، سوچیں کہاں ’’کوہِ ہمالیہ‘‘ اور کہاں چھوٹی ’’ڈگڈی‘‘ کی مدھم سی ’’ڈگ ڈگ‘‘، مجھے پورا یقین ہے کہ ضرور کسی نادان دوست کے لقمے پر ہی ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کی ٹیگ لائن کی تکرار کرنے کی منظوری دی گئی ہو گی ورنہ اس کی شادیوں، اس کے بچوں، اس کے وزراء و مشیروں میں جتنے امپورٹڈ افراد ہیں، اس کی مثال نہیں ملتی، سوشل میڈیا کے ’’فیک بوٹ اکائونٹس‘‘ کے ذریعےمقبولیت میں اضافے کا ’’جعلی پروپیگنڈہ‘‘ کرکے، اس کی ’’نرگسیت‘‘ زدہ تقریروں پر کئی ’’پپو سمراٹ‘‘ رقص رنداں کر کرکے اپنی ’’ایڑھیاں‘‘ پھڑوا بیٹھے ہیں، ’’ایاک نعبد‘‘ سے ’’عاشقِ رسول‘‘ کے فرمائشی ’’اسلامی ٹچ‘‘ کا لقمہ انہی کا لاڈلا بھیدی چینل وائرل کر چکا ہے، جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کاروبار اپنی جگہ اور دوستی اپنی جگہ، ٹی آر پی کے بے رحمانہ اصول میں صرف ’’کانٹنٹ‘‘ کا وزن دیکھا جاتا ہے نہ کہ اپنا پرایا، وہ جو واوڈا سمیت کہتے تھے کہ قوم 2سو روپے لٹر پٹرول بھی برداشت کرلے گی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پی ٹی آئیکے حکام آئی ایم ایف سے معاہدہ کر چکے تھی، گمراہی کے شعلے بھڑکانے والے ’’دیسی ب م‘‘ کا ’’ مواد‘‘ استعمال ہو چکا ہے، کتنے پیروکار، کتنے تماش بین اس کی بےسروپا باتوں سے بیزار ہو چکے ہیں، اس کا ثبوت یہ ہے کہ لانگ مارچ کو عوام نے یکسر مسترد کردیا، افسردہ ہوں کہ پہلی بار منصف کو ملزم کا وکیل بنتے ہوئے دیکھا، خود کو زمینی آمر منوانے کی ضد کرنیوالے جان لیں کہ ’’رب‘‘ ہی زمین و آسمان، کونوں و مکاں کا بادشاہ ہے، اس کے کن میں ہی سب پنہاں ہے، وہ ایک خاص حد تک رسی دراز کرتا ہے، پھر جب خدائی احتساب کی چکی چلتی ہے تو بلا امتیاز سب کچھ باریک باریک پیس ڈالتی ہے۔