نیویں مسجد : لاہور کی وہ 100 سال پرانی مسجد جو سطح زمین سے 50 فٹ نیچے ہے مگر اس میں بارش کا پانی نہیں جا سکتا ۔۔۔مگر کیوں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار واصف ناگی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔لاہور میں کئی تاریخی مساجد ہیں، ہم نے پچھلے کالم میں نیویں مسجد کا ذکر کیا تھا، یہ مسجد چوک متی کے نزدیک کوچہ ڈوگراں لوہاری دروازے اورشاہ عالمی دروازے کے درمیان واقع ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ زمین سے پچاس فٹ نیچے

Almarah Advertisement

ہونے کے باوجود بارش، وضو کا پانی اور دیگر پانی کبھی مسجد کے صحن میں کھڑا نہیں ہوا۔ یہ مسجد سات سو برس قدیم ہے، اس وقت اس مسجد کا طرزِ تعمیرقدرے مختلف تھا البتہ وقت کے ساتھ ساتھ اس مسجد میں سنگ مرمر اور پتھر وغیرہ لگایا گیا ہے، اس مسجد کا اصل نام تو نیویں مسجد ہے مگر اب اس کو جامع مسجد کریمیہ نیویں مسجد کہا جاتا ہے۔ ہم نے یہ مسجد اپنے طالب علمی کے زمانے میں کئی مرتبہ دیکھی،اس وقت ہمیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اس کا پانی کہاں جاتا ہے، اس مسجد میں غرقیاں ہیں ان کے ذریعے بارش اور وضو کا پانی زمین کے نیچے چلا جاتا ہے۔۔عزیز قارئین! آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہو گی کہ 1985 تک لاہور کینٹ اور کیولری گرائونڈ میں سیوریج سسٹم نہیں تھا بلکہ ہر گھر کے مالک کواپنے لان میں یا کسی بھی جگہ سو سے دو سو فٹ گہری غرقی بنانا پڑتی تھی، لاہور کینٹ کے کئی علاقوں میں سیوریج سسٹم تو ہمارے دیکھتے دیکھتے رائج ہوا ہے، نیویں مسجد کو آج سے سات سو برس قبل لودھی خاندان کے ایک فرد ذوالفقار نے تعمیر کرایا تھا اس مسجد کا کچھ حصہ آج بھی سات سو برس قدیم ہے البتہ 1908 میں لاہور کے زلزلےمیں مسجد کو کچھ نقصان پہنچا تھا تووہ حصہ نیا بنایا گیا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ہم نے آج سے کئی برس پہلے یہ مسجد دیکھی تھی تو اس وقت ارد گرد اتنے اونچے مکانات نہیں تھے مگراب صورتحال یہ ہے کہ مسجد کے میناروں سے بلند لوگوں کے مکانات ہیں اور کچھ مکانات آج بھی وہاں چھوٹی اینٹ سے تعمیر کردہ ہیں۔

چھوٹی اینٹ کا استعمال برصغیر میں سینکڑوں سال پہلے ہوتا تھا۔ بہرحال کچھ لوگوں نےچھوٹی اینٹ کے اوپر بڑی اینٹیں بھی لگا دی ہیں جو بہت بدنمالگتی ہیں، یہ مسجد زمین سے نیچے نہیں بنائی گئی تھی بلکہ اس وقت یہ زمین کے برابر ہی تعمیر کی گئی تھی، لاہور شہراصل میں آہستہ آہستہ اونچا ہوتا چلا گیا اور مسجد زمین سے تیس چالیس فٹ نیچے آ گئی۔ ابھی حال ہی میں لاہور میں ایک جگہ کھدائی کے دوران ایک سرنگ اور کچھ تعمیرات بھی برآمد ہوئی ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اس شہر کے نیچے بھی کبھی کوئی شہر آباد تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ مسجد پہلے سطح زمین سے نیچے بنائی گئی تھی۔ہمیں یاد ہے کہ جب سرگنگا رام اسپتال کی نئی ایمرجنسی تعمیر کرتے وقت ایک انتہائی خوبصورت تاریخی کوٹھی کو گرایا گیا اور تقریباً کوئی ستر فٹ تک زمین کی کھدائی کی گئی تو ہم نے خود وہاں ایک کنواں اور کچھ تعمیرات دیکھی تھیں ہمارے ہمراہ اس وقت فاطمہ جناح میڈیکل کالج (بالک رام میڈیکل کالج اب یونیورسٹی) کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر اکبر چوہدری بھی تھے خیر ہم نے ان سے کہا کہ اس کے بارے میں محکمہ آثارِ قدیمہ کو آگاہ کرنا چاہئے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا، ویسے اس شہر کی تاریخی عمارتوں اور پرانی تہذیب سے کسی کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔آپ نے کبھی غور کیا کہ اندرونِ شہر جو کہ تیرہ دروازوں کے اندر واقع ہے، اس میں کئی بازار، گلیاں اور کوچے اونچے نیچےہیں جس طرح اسپین اور اٹلی کے اندر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ لاہور شہر کبھی تین ٹیلوں پر واقع تھا۔ ایک ٹیلہ اندرون شہر سے شاہی قلعہ تک ہے،

شاہی قلعہ کا شیش محل اور اس کے ساتھ جو مغل دور کے کمرے ہیں،وہ زمین سے 80 فٹ بلند ہیں اگر آپ شیش محل کےقریب سکھ دور کی تعمیرات دیکھیںاور ان کمروں میں چلے جائیں تو وہ زمین سے سو فٹ سے بھی بلند ہیں۔ دوسرا ٹیلہ بدھو کا کے نام سے مشہور تھا اور تیسرا ٹیلہ چوبرجی (Mound) تھا۔ باغبانپورہ میں آج سے ساٹھ برس قبل ہم نے مقبرہ شہزادہ پرویز کو زمین سے کچھ بلند ضرور دیکھا تھا ہمیں یاد ہے کہ ہم نے اس وقت اس پر ایک فیچر بھیلکھا تھا۔ مقبرہ شہزادہ پرویز کے اردگرد کوئی آبادی نہیں تھی بلکہ دھول اڑ رہی تھی۔ کسی زمانے میں وہاں کھیت بھی تھے۔ دوپہر کا وقت تھا اور سارا علاقہ سنسان تھا۔ مقبرے کی حالت اچھی نہ تھی۔ باغبانپورہ کے علاقے میں کبھی کئی چھوٹے بڑے مٹی کے ٹیلے تھے۔ باغبانپورہ کے پرانے لوگ اور خصوصاً یہاں کےآرائیں خاندان ہماری اس بات کی تصدیق کریں گے۔ شہزادہ پرویز جہانگیر کا بیٹا اور شاہ جہاں کا بھائی تھا۔ اس کے بارے میں مختلف کتابوں میں مختلف لکھا ہوا ہے۔ بہرحال ہم بڑی دیر تک یہاں رہے پھر چار سال پہلے ہم اپنے فوٹوگرافر عرفان نجمی کو شہزادہ پرویز کے مقبرے پر لےگئے۔ بڑی تلاش کے بعد ہم مکانوں میں گھرے ہوئے اس مقبرے تک پہنچے۔ مقبرے کے پاس محلے کے چند لڑکے تاش کھیل رہے تھے ۔ لاہور میں دوسرا ٹیلہ چوبرجی میں تھا، اب اس کا کوئی نام و نشان نہیں۔ لاہور میں ایک ٹیلہ بابا فریدؒ کے ٹبے کے نام سے آج بھی موجود ہے۔ یہ ٹیلہ زمین سے تقریباً سو فٹ کے قریب بلند ہے، یہ لاہور کے ڈی آئی جی آفس (جسے کبھی ایس ایس پی لاہور کا آفس کہا جاتا تھا) کے پچھلی طرف موجود ہے۔