بڑی تعداد میں کارکن کیوں نہیں لائے؟؟عمران خان اراکین اسمبلی سے سخت ناراض

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اسلام آباد مارچ کے دوران کارکنوں کو بڑی تعداد میں سڑکوں پر لانے میں ناکامی پر عمران خان پارٹی کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے خفا ہو گئے۔نجی نیوز چینل کے مطابق موصول ہوئی تفصیلات کے مطابق عمران خان نے لانگ مارچ کے لیے کم تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے پر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی

Almarah Advertisement

سے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے جبکہ اراکین اسمبلی نے پارٹی چیئرمین کی جانب سے بغیر مشاورت کے 6 روز کی ڈیڈ لائن پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی قیادت میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز 25 مئی کو صوابی سے ہوا تھا اور عمران خان نے ہر صورت ڈی چوک اسلام آباد پہنچنے کا اعلان کر رکھا تھا تاہم 26 مئی کی صبح ڈی چوک پہنچنے سے پہلے ہی عمران خان نے حکومت کو نئے الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے لیے 6 روز کا الٹی میٹم دیتے ہوئے دوبارہ اسلام آباد آنے کا اعلان کر دیا۔ گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہم بغیر تیاری کے اسلام آباد گئے تھے لیکن اس بار ہم بھرپور تیاری کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد جائیں گے اور پوری قوم میرے ساتھ ہو گی۔ دوسری طرف عمران خان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہا جا رہا ہے کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے تھے، کیا کوئی اپنے بچوں اور عورتوں کو لیکر جاتا ہے انتشار کرنے کے لیے، جس طرح سے بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، یہ یزید کے فالوورز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، اسے کوئی ہماری کمزوری نہ سمجھے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں

اگر الیکشن کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے۔ کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا اس سے ساری قوم کو پتہ لگ جانا چاہیے کہ کون اس قوم کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہے اور کون قومی اداروں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق نہیں ہے، چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے یا نہیں؟ اگر احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جائے گا تو پھر کیا آپشن رہ جاتا ہے، 6 دن میں ہمیں پتہ چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں، ہمیں عدالت سے پروٹیکشن چاہیے جو ہمارا حق ہے۔