Categories
پاکستان

عدالتیں غیر جانبدار رہیں ورنہ۔۔۔۔مریم نواز شریف ایک بار پھر عدالتوں پر چڑھ دوڑیں

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے عمران خان کی پریس کانفرنس پر رد عمل میں کہا کہ عدالت کو چوکنا رہنا ہوگا اور ا س سیاسی لڑائی سے خود کو الگ رکھنا ہو گا ورنہ جانبداری کا تاثر ابھرے گا۔ ایک بیان میں مریم نواز نے کہاکہ دعوے 30 لاکھ کے اور تماشائی دس ہزار،

خان کی آئیں بائیں شائیں سوائے شرمندگی اور ناکامی کے اعتراف کے اور کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اپنا راستہ خود بناتا ہے، پولیس کے روکنے سے نہیں رکتا، پولیس کو دیکھ کر دوڑ جانے والے انقلاب کو ڈوب مرنا چاہیے، بندے جمع نہ کرپانے پر عمران کی ذہنی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کھسیانی بلی کے پاس نوچنے کو کھمبا ہوتا ہے، عمران کے پاس وہ بھی نہیں، جس سپریم کورٹ کو وہ چند دن پہلے گالیاں دے رہے تھے، آج اسی کی آڑ میں انتشار کے ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں، عدالت کو کو چوکنا رہنا ہو گا، ا س سیاسی لڑائی سے خود کو الگ رکھنا ہو گا ورنہ جانبداری کا تاثر ابھرے گا۔دوسری طرف عمران خان نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، رات کے اندھیرے میں لوگوں کے گھروں پر حملے کیے گئے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہا جا رہا ہے کہ ہم انتشار کرنے کے لیے جا رہے تھے، کیا کوئی اپنے بچوں اور عورتوں کو لیکر جاتا ہے انتشار کرنے کے لیے، جس طرح سے بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، یہ یزید کے فالوورز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اپنی قوم کا خیال نہ ہوتا اور میں بیٹھ جاتا تو بہت خون خرابہ ہونا تھا، نفرتیں بڑھنی تھیں لیکن پولیس بھی ہماری ہے اس لیے ہم نے اپنے ملک کی خاطر فیصلہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کوئی نہ سمجھے کہ میری اسٹیبلشمنٹ سے کوئی ڈیل ہوئی ہے، اسے کوئی ہماری کمزوری نہ سمجھے، حکومت کو 6 روز دے رہا ہوں اگر الیکشن کا اعلان نہ ہوا تو بھرپور تیاری کے ساتھ جائیں گے

کیونکہ اس بار ہماری تیاری نہیں تھی۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا اس سے ساری قوم کو پتہ لگ جانا چاہیے کہ کون اس قوم کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑا ہے اور کون قومی اداروں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق نہیں ہے، چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ جمہوریت میں احتجاج کا حق ہے یا نہیں؟ اگر احتجاج کا حق بھی نہیں دیا جائے گا تو پھر کیا آپشن رہ جاتا ہے، 6 دن میں ہمیں پتہ چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے یا نہیں، ہمیں عدالت سے پروٹیکشن چاہیے جو ہمارا حق ہے۔