قیمتوں میں اضافہ دل پر پتھر رکھ کر کیا،شہباز شریف پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر افسردہ

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور بیروزگاری ہے جب کہ پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا۔ لاہور کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام مہنگائی میں پسے ہوئے ہیں اور غریب خاندان

Almarah Advertisement

رو رہے ہیں، ان کے پاس دوائی اور علاج کرانے کے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور بیروزگاری ہے جب کہ پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ غریب ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، ہم نے ماہانہ 28 ارب روپے قومی خزانے سے خرچ کرکے پاکستان کے پسے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لیے سبسڈی دی ہے۔ دوسری جانب لاہور کی اسپیشل کورٹ میں منی لانڈرنگ کی کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ میں صوبے کا خادم رہا ہوں، سرکاری خزانے سےتنخواہ لی نہ کبھی ٹی اے ڈی اے لیا، پیٹرول بھی خود ڈلواتا تھا جب کہ تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے کی رقم 7، 8 کروڑ بنتی تھی جو میرا قانونی حق تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نےتو شوگرملزکو سبسڈی نہیں دی، جس سے میرے خاندان کو 2 ارب کا نقصان ہوا، اس کیس میں مجھ پر 25 ،25 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام لگائے گئے، ایک طرف تو میں اربوں روپے کا اپنے خاندان کی ملوں کو نقصان پہنچاؤں؟ کیا دوسری جانب میں 25 ،25 لاکھ روپے حرام کھاؤں گا؟ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت سے واپسی کی اجازت طلب کی جس پر عدالت نے انہیں اور حمزہ شہباز کو جانے کی اجازت دےدی۔رات کو وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کے غریب ترین گھرانوں کیلئے 2 ہزار روپے ماہانہ کے فوری ریلیف کا اعلان کردیا۔اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جس ذمہ داری کیلئے قوم نے مجھے منتخب کیا وہ میرے لیے اعزاز ہے، وزیراعظم کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں، میں اپنے قائد نوازشریف اور اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اعتماد کیا،شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے مطالبہ کیا کہ اس نااہل اور کرپٹ حکومت سے ان کی فوری جان چھڑائی جائے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے عوام کی آواز پر لبیک کہا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا، ایسی تباہی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی جو چار سال میں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا،ملک کو بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے انتھک محنت درکار ہوگی، ہماری سیاست کے ریشوں میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا۔