Categories
پاکستان

منی لانڈرنگ کیس،پاکستان کا وزیر اعظم اور سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلیٰ کی عدالت میں پیشی

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں عدالت میں پیش ہوگئے۔ لاہور کی اسپیشل کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰؒ پنجاب حمزہ شہباز کو طلب کیا تھا۔ وزیراعظم کی عدالت آمد پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور عام سائلین کو عدالتی احاطے سے باہر نکال دیا گیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز بھی کیس کی سماعت کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوگئے۔ کیس کی سماعت کے آغاز پر شریک ملزم سلیمان شہباز، طاہر نقوی، ملک مقصود اور غلام شبیر کی گرفتاری سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کاغذ پیش نہیں کر رہا جو حکومت کے بدلنے کے بعد ریکارڈ پر آیا ہو، تمام ریکارڈ پچھلے دور حکومت کا ہے، 10سال میں کھلنے اور بند ہونے والے کسی اکاؤنٹ کا شہباز شریف سے تعلق نہیں، پچھلی حکومت کا شہباز شریف پر مقدمات بنا کر پابند سلاسل رکھنے پرفوکس تھا، قانون کے مطابق کسی کے خلاف 10 مقدمات ہوں توباری باری گرفتاری نہیں کی جائےگی۔ کیس کی سماعت کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر بیان دیا کہ میں صوبے کا خادم رہا ہوں، سرکاری خزانے سےتنخواہ لی نہ کبھی ٹی اے ڈی اے لیا، پیٹرول بھی خود ڈلواتا تھا جب کہ تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے کی رقم 7، 8 کروڑ بنتی تھی جو میرا قانونی حق تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نےتو شوگرملزکو سبسڈی نہیں دی، جس سے میرے خاندان کو 2 ارب کا نقصان ہوا، اس کیس میں مجھ پر 25 ،25 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزام لگائے گئے، ایک طرف تو میں اربوں روپے کا اپنے خاندان کی ملوں کو نقصان پہنچاؤں؟ کیا دوسری جانب میں 25 ،25 لاکھ روپے حرام کھاؤں گا؟ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے عدالت سے واپسی کی اجازت طلب کی جس پر عدالت نے انہیں اور حمزہ شہباز کو جانے کی اجازت دےدی۔ لاہور کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ عوام مہنگائی میں پسے ہوئے ہیں اور غریب خاندان رو رہے ہیں، ان کے پاس دوائی اور علاج کرانے کے پیسے نہیں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے اور بیروزگاری ہے جب کہ پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ غریب ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، ہم نے ماہانہ 28 ارب روپے قومی خزانے سے خرچ کرکے پاکستان کے پسے ہوئے کروڑوں لوگوں کے لیے سبسڈی دی ہے۔