شہباز شریف حکومت کی کمال پھرتیاں، نیب اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل سینٹ سے بھی منظور کرالیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سینیٹ نے نیب اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نیب ترمیمی بل پیش کیا جب کہ مرتضیٰ جاوید عباسی نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پیش کیا جسے ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

Almarah Advertisement

چیئرمین سینیٹ نے سوال کیا کہ انتخابات ترمیمی بل کو کمیٹی کے سپرد کروں یا ابھی پاس کرانا ہے؟ اس پر اعظم نذیر نے کہا کہ یہ وہ بل ہے جسے سینیٹ کمیٹی نے منظورکیا تھا، سمندرپارپاکستانیوں کے ووٹ کا حق واپس نہیں لیا گیا، الیکشن کمیشن کوکہا ہے کہ سیکریسی کو نظر رکھ کر ووٹ کا حق ڈالنا یقینی بنائیں۔ اعظم نذیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن یقینی بنائے کہ سمندرپارپاکستانیوں کا ووٹ پڑے۔ سینیٹ میں دونوں بل کی منظوری کے موقع پر پی ٹی آئی اراکین نے شدید مخالفت کی اور چیئرمین سینیٹ کے ڈائس پر آکر احتجاج کرتے ہوئے امپورٹڈ حکومت کے نعرے لگائے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے شہزاد وسیم نے کہا کہ ہم کسی کوسمندرپارپاکستانیوں کے ووٹ کے حق پرڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے، ہم ای وی ایم پرسمجھوتا نہیں کریں گے۔ اس پر اعظم نذیر نے بتایا کہ شبلی فراز اور اعظم سواتی اس کمیٹی میں تھے جہاں یہ بل منظور ہوا۔یاد رہے اس سے قبل قومی اسمبلی کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017ء میں ترمیم کا بل منظور کرلیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ دینے سے متعلق سابق حکومت کی ترامیم ختم کر دی گئیں۔ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی احتساب آرڈیننس 1999ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا تھا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ووٹنگ مشین کے ذریعے ملک بھر میں ایک ہی روز الیکشن کرانا ممکن نہیں، الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) پر مختلف جماعتوں کے تحفظات ہیں، گزشتہ حکومت نے مشین پر فریقین کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ رولز بلڈوز کرتے ہوئے بل منظور کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے اعتراضات اور واک آؤٹ کے باوجود انتخابات میں رائے شماری کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کا ترمیمی بل منظور کیا گیا تھا۔ اس بل کے تحت 2017ء کے الیکشن ایکٹ میں دو ترامیم کی گئی تھیں جو کہ ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینوں کے استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق تھیں۔ بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ایوان سے واک آؤٹ کر گئے تھے۔