پٹرول کے بعد حکومت نے کس اور چیز کو مہنگا کرنے تیاری پکڑ لی؟؟

اسلام آباد(ویب ڈیسک) شہباز حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں بجلی کی قیمت بڑھانے کی بھی حامی بھر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہباز حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کے بعد عوام پر بجلی بم بھی گرائے جانے کی تیاری ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں قیمتیں بڑھانے کی حامی بھر لی گئی۔

Almarah Advertisement

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی ٹیرف میں 7 روپے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے، بجلی ٹیرف میں یہ اضافہ بیس ٹیرف اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ یکم جولائی سے کیا جائے گا، آئی ایم ایف نے 2600 ارب روپے کے بجلی کے گردشی قرض پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے بجلی کی منافع بخش تقسیم کار کمپنیوں کی فوری فروخت کی تجویز بھی دے دی ہے، جب کہ بجلی کی نقصان میں چلنے والی تقسیم کار کمپنیوں کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز دی گئی۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی سرکاری کمپنیوں کے آڈٹ کے لیے نیپرا آڈیٹر جنرل کو معاونت فراہم کرے گا، دوسری طرف حکومت پر سرکاری شعبے میں بجلی کارخانوں کی فوری نج کاری کا بھی دباؤ ڈالا گیا ہے۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور کل سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کر رہے ہیں، لائٹ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 30 روپے اضافہ کر رہے ہیں، نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اس وقت پیٹرولیم پر فی لیٹر 56 روپے سبسڈی دے رہی ہے، 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر سخت فیصلہ لیا ہے، اس وقت ہمارے لیے ریاست کا مفاد عزیز ہے، سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مہنگائی کا سامنا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا، عوام پر کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہے، پیٹرول پر سبسڈی کا امیر اور غریب طبقہ دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔