’ لانگ مارچ اور پولیس کا لاٹھی چارج ‘ وفاقی حکومت کاتحریک انصاف کے ساتھ مفاہمت نہ کرنے کا واضع اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف آج لانگ مارچ کرنے جارہی ہے جو کہ خیبر پختون خوا سے عمران خان کی قیادت میں شروع ہو گا جبکہ حکومت کی جانب سے طاقت سے اسے روکنے کی بھر پور کوششیں کی جارہی ہیں اور رکاوٹیں بھی کھڑی کر دی گئی ، اب وفاقی حکومت نے اعلان کیاہے کہ تحریک انصاف

Almarah Advertisement

سے کسی قسم کی کوئی مفاہت نہیں کی جائے گی ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ ،ا نتشارپھیلانا جمہوری حق نہیں ہے ،مصدق ملک نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی آواز اٹھانے کا حق ہے ، کیا قتل و غارت کرنا بھی آئینی حق ہے ، پی ٹی آئی رہنما خود کہتے ہیں احتجاج خونی ہے ، عمران خان سے پوچتاہوں جلاﺅ گھیراﺅ ، قتل و غارت آئینی حق ہے ، عمران خان نے جلسے کیئے کسی نے نہیں روکا ۔ دوسری جانب لاہور میں پی ٹی آئی کارکناں اور پولیس کے درمیان کشیدگی بڑھتی جارہی ہے ، بتی چوک پر کارکنوں نے کنٹینرز کو ہٹا دیاہے جبکہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جارہی ہے ، پولیس نے اب تک بیس سے زائد افراد کو گرفتار بھی کر لیاہے ۔دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی کال پر لانگ مارچ میں شرکت کیلئے جانے والی ڈاکٹر یاسمین راشد کے قافلے پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کردی گئی ۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اپنے قافلے کے ہمراہ لانگ مارچ میں شرکت کیلئے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئیں ، جب ان کا قافلہ بتی چوک کے قریب پہنچا تو پولیس کی جانب سے ان کے قافلے پر آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی ۔پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے بھی جوابی مزاحمت کی گئی ۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے میڈیا کو بتایا کہ میرے ساتھ بد تمیزی اور ہاتھا پائی کی گئی ، مجھ سے میری گاڑی کی چابی چھیننے کی کوشش بھی کی گئی ، خواتین سے بد تمیزی کرتے شرم نہیں آتی ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق بتی چوک پر پی ٹی آئی کے بہت سے کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ کارکنوں کی جانب سے سڑک پر موجود رکاوٹیں ہٹا دی گئیں ۔