حکومت اور بیورو کریسی کی نئی چال ،نیب کو ختم کرنے پراتفاق کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ اور اعلیٰ بیوروکریسی نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ختم کرنے کیلیے اتفاق کیا ہے جو مبینہ طور پر بیوروکریسی کو ڈرانے، سیاسی اپوزیشن کو ستانے اور کاروباری برادری کو ہراساں کرنے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔کابینہ کے بعض ارکان اور بیوروکریٹس نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے

Almarah Advertisement

مقدمے بازی کے عمل میں شفافیت لانے کیلیے نیب آرڈیننس میں ترمیم کرنے کی سفارش کی ہے۔کابینہ ارکان نے نیب کی زیادتیوں، ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ساتھ قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے۔وزیر قانون و انصاف نے کابینہ کے حالیہ اجلاس کے دوران روشنی ڈالی کہ قومی احتساب (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کی میعاد 2 جون کو ختم ہو رہی ہے اور آئین کے تحت اس میں مزید توسیع نہیں کی جا سکتی۔انھوں نے کہا یہ مناسب وقت ہے ترامیم پر نظرثانی کی جائے۔کابینہ کے ارکان نے اس پر اتفاق کیا کہ نیب نے احتساب کے بجائے صرف ہراساں کرنے کے آلے کے طور پر کام کیا ہے۔نیب افسران نے سیاستدانوں، سرکاری ملازمین اور نامور تاجروں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ انتہائی اذیت ناک اور توہین آمیز تھا۔یہاں تک کہ نجی محفلوں میں سرکردہ شخصیات کی ان افسران کے ہاتھوں تذلیل کی خبریں بھی آئی تھیں۔کابینہ کے بعض ارکان کا موقف تھا صوبوں میں انسداد بدعنوانی کے اداروں اور وفاقی سطح پر ایف آئی اے کی موجودگی میں احتسابی ادارے کی ضرورت نہیں لہٰذا نیب ختم کر دیا جائے۔بیوروکریسی کے کچھ نمائندوں نے بھی نیب کو ختم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے خیال ظاہرکیا کہ یہ ادارہ اصلاحات سے بالاتر ہے۔دوسری جانب خبر یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا اہم مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں ملکی سیاسی صورتحال، تحریک اںصاف کے لانگ مارچ اور قبل از وقت انتخابات پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت (ن) لیگ کی اعلیٰ قیادت موجود تھی جب کہ پارٹی قائد میاں نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئی ایم ایف سے ہونے والے مذاکرات پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں نواز شریف نے مشورہ دیا کہ اگر آئی ایم ایف سے عوامی ریلیف پیکیج نہیں ملتا تو بڑے فیصلے کیے جائیں، پچھلی حکومت کا ملبہ ہم کیوں اپنے سرلیں نواز شریف نے ہدایت دی کہ ملک کو انتشار کرنے والوں کے رحم و کرم نہ چھوڑا جائے،

لانگ مارچ کا شور آئی ایم ایف سے مذاکرات کو متاثر کرنے لیے مچایا گیا، لانگ مارچ کے خلاف حکمت عملی پر اتحادیوں کو مکمل اعتماد میں لیا جائے اور ہر فیصلے میں آصف زرداری کو ساتھ رکھا جائے