Categories
شوبز

وہ وقت جب کچھ مردوں کا گروپ میاخلیفہ کو سر عام تنگ کرتا رہا

نیویارک(ویب ڈیسک) فحش فلموں کی سابق اداکارہ میا خلیفہ کو اس شرمناک انڈسٹری سے کنارہ کش ہونے کے باوجود اس کیریئر کی وجہ سے لوگوں کی طرف سے کس طرح کے سلوک کا سامنا کرنا پڑا؟اب لبنانی نژاد امریکی اداکارہ کی ایک دوست نے اس حوالے سے کچھ ایسی باتیں بتا دی ہیں کہ سننے والے دنگ رہ جائیں۔

ڈیلی سٹار کے مطابق 29سالہ میا خلیفہ کی یہ دوست جینا لی ہے جس کی میا خلیفہ سے ملاقات اس وقت ہوئی جب میا نے فحش فلم انڈسٹری سے کنارہ کشی اختیار کی۔جینا لی خود بھی ایک ماڈل اور انفلوئنسر ہے۔ اس نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ میا خلیفہ کو فحش فلم انڈسٹری میں کام کرنے کی وجہ سے ایسی خوفناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ جس کا تصور ہی کسی عورت کو خوفزدہ کر دے۔ وہ بازار میں کھانے پینے کی اشیاءخریدنے بھی نہیں جا سکتی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتی تھی لوگ اسے برے سلوک کا سامنا کرنا پڑتا۔میگزین بسٹل سے گفتگو کرتے ہوئے جینا لی نے بتایا کہ 2017ءمیں میا خلیفہ اور میں ریپر فیوچر دیکھنے اکٹھی گئیں۔ وہاں مردوں کے ایک گروپ نے میا خلیفہ کو پہچان لیا اور اسے پریشان کرنا شروع کر دیا۔ وہ لوگ میا خلیفہ پر حملہ آور ہو گئے اور اسے گھسیٹ کر مجھ سے دور لیجانے کی کوشش کرنے لگے۔ ان سے جان چھڑانے کے لیے میا خلیفہ نے ایک شخص کو منہ پر گھونسہ دے مارا۔ اس طرح کے واقعات نے میا خلیفہ کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ وہ ہنسنے کھیلنے اور زندگی سے لطف اندوز ہونے والی نارمل لڑکی تھی جسے گھومنا پھرنا بہت پسند تھا۔ اب اس کی شخصیت اس کے بالکل برعکس ہو گئی ہے۔دوسری طرف25سالہ یاسمینہ خان غالباً واحدبنگالی نژاد برطانوی اداکارہ ہے جو بالغوں کی ویب سائٹ ’اونلی فینز‘ سے وابستہ ہے اور اس پر اپنی فحش ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرکے ماہانہ لاکھوں کما رہی ہے۔ ڈیلی سٹار سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمینہ خان نے بتایا ہے کہ وہ سیلز کی جاب کرتی تھی، جو اسے سخت ناپسند تھی۔