“یہ لوگ سیاست بچانے نکلے ہیں ریاست بچانے نہیں”ماہرین نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا

کراچی(ویب ڈیسک) ماہر معیشت ظفر موتی والا نے متحدہ حکومت کی پالیسییوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آتے ہی مراعات کا اعلان کردیا، بادشاہت میں بھی خزانہ خالی ہوتا تھا تو مراعات نہیں دی جاتی تھیں، یہ لوگ سیاست بچانے نکلے ہیں ریاست بچانے نہیں۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘دی رپورٹرز’ میں گفتگو کرتے ہوئے

Almarah Advertisement

ماہر معیشت ظفر موتی والا نے کہا کہ ڈالر اوپر جانے سے پتہ لگتا ہے کہ ملک کے ڈیفالٹ کا خطرہ کتنا بڑھ گیا، اسٹاک مارکیٹ میں مندی سے بھی ملک کی معاشی حالت کا پتہ چل رہا ہے، بادشاہت میں بھی خزانہ خالی ہوتا تھا تو مراعات نہیں دی جاتی تھیں، موجودہ حکومت نے آتے ہی مراعات کا اعلان کردیا۔ ظفر موتی والا نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں یا دوست ملکوں کے پاس لیکن پہلے صورتحال تو دیکھیں، ہمیں بھی پتہ ہے سبسڈی ہٹے گی تو مہنگائی آئے گی، سبسڈی ہٹا کر اصل قیمتوں پر آئیں گے تو آئی ایم ایف جان چھوڑے گا، موجودہ حکومت اس وقت اپنے الیکشن کا سوچ رہی ہے، یہ سمجھتے ہیں سبسڈی ہٹائیں گے تو مہنگائی بڑھے گی الیکشن میں نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی نہیں ہٹاتے تو ملک ڈیفالٹ ہونے کی طرف جارہا ہے، حکومت فیصلہ نہیں کر پارہی دورائے پر تقسیم ہے، جو سبسڈی اس وقت دی جارہی ہے اس سے ملک کا قرض بھی بڑھ رہا ہے، ڈالر اوپر جانے سے بھی ملکی قرض میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہر معیشت کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عالمی اداروں کیساتھ معاملات طے نہیں کر پارہی، یہ لوگ سیاست بچانے نکلے ہیں ریاست بچانے نہیں۔دوسر ی جانب سابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت ہر گزرتے دن کے ساتھ تباہی کی جانب جا رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے ملک کی معاشی صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ حماد اظہر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ہر دن روپیہ اپنی قدر کھو رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ روزانہ کریش کررہی ہے لوڈشیڈنگ بڑھتی جارہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر نے مزید لکھا کہ مہنگائی میں

اضافہ اور کاروبار برباد ہوگئے ہیں جب کہ معیشت ہر گزرتے دن کے ساتھ تباہی کی طرف جارہی ہے۔ حماد اظہر نے ٹوئٹ کے آخر میں اپنی حکومت کی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وہی معیشت ہے جسمیں دو ماہ پہلے تک استحکام تھا اور 5.5 فیصد سےترقی کر رہی تھی۔