نئے الیکشن کب ہونگے؟؟وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بتا دیا

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ڈیڑھ سے دو سو اہل کاروں کی سکیورٹی ملی ہوئی ہے اور بھی چاہیے تو بتائیں۔ نجی نیوز چینل کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءللہ نےکہا کہ عمران خان جان کے خطرے کی ویڈیو کہیں چھپائی ہے تو شیئر کرو،

Almarah Advertisement

ہم اس پر جوڈیشل کمیشن بنانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان فتنہ ہے، فساد فی الارض ہے، اس ناسور کا قلع قمع کرنا ہوگا، ہر اتحادی کو پتہ ہے کہ سابق وزیر اعظم فسادی ہے، اس لیے کوئی اتحادی ادھر اُدھر نہیں ہوگا۔ اداروں کی بھی یہی سوچ ہے ،سب کو اب ان کی اصلیت پتہ ہے۔ رانا ثناءاللہ نے کہاکہ جو شخص ملک کا وزیر اعظم رہا ہے اور دوبارہ وزیر اعظم بننے کا اُمیدوار ہے،کیا اُسے نہیں پتہ کہ ڈاکٹر رضوان کی موت اگر زہر سے واقعہ ہوتی تو ان کے اہل خانہ ضرور پوسٹ مارٹم کراتے۔ ہرذی شعور آدمی کو ان کے جھوٹوں کا پتہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی ضروری ہے،فیصلہ ہوگیا ہے ۔ غریب آدمی پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ نہیں آئے گا، امیر آدمی پر آئے گا۔ ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں، معاشی استحکام آتے ہی الیکشن میں جائیں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین کے موبائل فون چوری سے متعلق راناثنا نے کہا کہ عمران خان کے آگے پیچھے جس قسم کے لوگ ہوتے ہیں انہی میں سے کسی نے ان کے موبائل فون نکالے ہوں گے۔اس سے قبل بھی رانا ثناء اللہ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے اپنی جان کو خطرے سے متعلق بیان پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی پیشکش کی تھی ۔ ایک بیان میں رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نیازی امریکی سازش کی طرح اب مسلسل اپنی جان کو خطرے کا بیانیہ بنا رہے ہیں، جان کو ممکنہ خطرے سے متعلق اگر ٹھوس ثبوت عمران نیازی کے پاس ہیں تو اسے وزارت داخلہ سے شیئر کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عمران نیازی کو ممکنہ خطرے سے متعلق معاملے کی تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہے، عمران نیازی چاہیں تو جان کو خطرے سے

متعلق معاملے پر جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر سکتے ہیں، جوڈیشل کمیشن عمران نیازی کے فراہم کردہ شواہد اور معلومات کا جائزہ لیکر آزادانہ فیصلہ دے سکتا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران نیازی معلومات فراہم نہیں کرتے تو امریکی سازش کی طرح ممکنہ خطرے کو بھی سیاسی اسٹنٹ تصور کیا جائے گا۔