حکومت چلانے میں مشکلات کا سامنا،شہباز شریف سخت پریشان، اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلا لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس آج بلالیا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اجلاس میں ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال کے بارے میں اہم فیصلے متوقع ہیں جب کہ وزیر اعظم شہباز شریف دو تین روز میں قوم سے خطاب بھی کرسکتے ہیں۔ شہبازشریف کی قیادت میں (ن) لیگ کے وفد نے لندن میں تین روز

Almarah Advertisement

تک سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے مشاورت کی تھی۔ وزیراعظم شہبازشریف برطانیہ اور یواے ای کا دورہ مکمل کرکے گزشتہ روز وطن واپس پہنچے ہیں۔دوسری طرف حکومت کو فیصلہ سازی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنےکا اعلان کردیا۔وفاقی وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنےکا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 149 روپے 86 پیسے برقرار ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 144 روپے 15 پیسے برقرار ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت 125 روپے 56 پیسے برقرار ہے، لائٹ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 118 روپے 31 پیسے برقرار ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی اوگرا کی سمری مسترد کردی ہے۔اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا اس وقت حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے عوام پر بوجھ ڈالنے سے انکار کر دیا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کریں گے، ہم آئی ایم سے مذاکرات کریں گے اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔معروف کاروباری شخصیات کے بعد معاشی ماہرین نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے اور قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔معروف کاروباری شخصیات کے بعد معاشی ماہرین نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے اور قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق معاشی امور کے ماہر یوسف نذر اور محمد سہیل کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھائیں تو ڈالر کی قیمت اور بڑھ جائے گی جس کے نتیجے میں مہنگائی بھی اور بڑھے گی۔

اس دورا ن معاشی ماہرین ممتاز صنعتکار خاقان نجیب اور عابد سلہری نے غریب اور موٹرسائیکل رکھنے والے افراد کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی کی تجویز پیش کی۔خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ ملک میں اسمارٹ کارڈ اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ڈیٹا موجود ہے جس سے مدد لے کر موٹربائیک والوں کو سبسڈی دی جا سکتی ہے، پاکستان میں تیل پر سبسڈی کی وجہ سے ذخیرہ اندوز تیل کی اسمگلنگ کر رہے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبرزیدی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر ڈیڑھ سال رہنا ہے تو سخت فیصلے کرنے ہوں گے، الیکشن جیتنا ہے تو ابھی سخت فیصلے لیں اور ڈیڑھ سال میں چیزیں بہتر کریں، اگر موجودہ حکومت کو ڈٹ کر فیصلے نہیں کرنے تو گھر جائیں