Categories
پاکستان

پی ٹی آئی کو ان کی مرضی کے مقام پر جلسہ کرنے کی اجازت کیوں نہ ملی ؟؟ مریم نواز نے صاف صاف بتا دیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے عمران خان سے پوچھا ہے کہ تمہیں پورے سیالکوٹ میں چرچ کے علاوہ کہیں اور جگہ نہیں ملی؟۔ مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ذمے داری،پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کی رکھوالی ہے، کئی دنوں سے مسیحی برادری اس بات پر سراپا احتجاج ہے کہ چرچ کے گراؤنڈ میں جلسہ انکی عبادت گاہ کی توہین ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جلسہ کرنا تمھارا حق ہے، مگر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نا تمھارا حق ہے نا تمھیں اس کی اجازت ہوگی، اپنی بے مقصد کی سیاست اور فتنے بازی کہیں اور جا کر کرو۔ اسکے لیے پورے سیالکوٹ میں چرچ کے علاوہ اور کہیں جگہ نہیں ملی؟۔ادھر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ریاست ہر صورت اپنی اقلیتوں کا تحفظ کرے گی اور انکے مذہبی مقامات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیگی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں انہوں نے لکھا کہ خونی مارچ والوں نے آج سیالکوٹ میں گرجا گھر پر حملہ کیا۔ عمران نیازی پہلے توہین مسجد نبوی کا مرتکب ہوا اور آج اس نے گرجا گھر کو جلسہ گاہ بنانے کی کوشش کر کے مسیحی برادری کے مذہبی جذبات کو اکسایا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے لکھا کہ ریاست مدینہ کا نام لیکر اپنی سیاسی دکان چمکانے والا عمران نیازی ملک میں مذہبی انتشار پھیلا رہا ہے۔ پی ٹی آئی چیئر مین ریاست پاکستان کے لئے خطرہ بن چکا ہے۔ اس کے شر سے نہ کوئی ادارہ محفوظ ہے اور نہ کوئی مسجد اورکوئی گرجا گھر۔ انہوں نے کہا کہ گرجا گھر کی جگہ جلسہ کر کے فسطائی ذہنیت کا بنی گالا میں بیٹھا ہوا ایک شخص مسیحی برادری پر اپنی حاکمیت جتانا چاہتا ہے۔ عمران نیازی اپنی مذموم حرکت سے مذہبی اقلیتوں کا کیا پیغام دینا چاہتا ہے۔ ریاست ہر صورت اپنی اقلیتوں کا تحفظ کرے گی اور انکے مذہبی مقامات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیگی۔ چرچ کی جگہ کو سیاسی جماعت کے جلسہ گاہ کی اجازت نہ دینے کے مسیحی برادری کے فیصلے کو ریاستی تحفظ دینا قانونی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ رانا ثناء اللہ نے لکھا کہ ریاست پاکستان کسی بھی جماعت کو دھونس اور زبردستی سے ملک میں ملوکیت نافذ کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتی۔ میں عمران نیازی کو خبردار کرتا ہوں کہ ملک کے کسی بھی حصے میں نقض امن پیدا کرنے کی صورت میں قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔