Categories
آرٹیکلز

مختلف افواج اور پولیس فورسز میں پہنے والے اس سرخ پٹے کی تاریخ کیا ہے ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاد اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ماضی کی یادوں کے بہت سے خزانے اس scarlet band یا لال دوپٹے کے پلو سے بندھے ہوئے ہیں۔ لہٰذا اس کی ایک جھلک مجھے ماضی کے جھروکوں میں لے جاتی ہے۔ بحرین پولیس میں بھرتی اور

ٹریننگ کے دوران ہمارے ڈرل انسٹرکٹرز نے یہ Red sash پہنا ہوتا تھا ہم اس کو لال پٹی یا لال دوپٹہ کہتے تھے۔ بحرین پولیس کے زیادہ تر Trainer پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی اور افسر ہوتے تھے جن میں زیادہ تر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ٹریننگ کا تجربہ رکھتے تھے جس کی وجہ سے ہمیں پاکستان آرمی میں سروس کیے بغیر ہی ان کی روایات کا اندازہ ہوتا رہتا تھا ہم نے اپنے انسٹرکٹرز کو کبھی سنجیدگی سے نہ لیا ان کی اردو سے ہمارا ہاسہ نکل جاتا تھا۔ البتہ عرب انسٹرکٹرز کے ساتھ ہمیں عربی زبان اور دیگر پیشہ ورانہ امور سمجھنے کا زیادہ اچھا موقع ملتا تھا مگر دونوں کے scarlet band ایک جیسے ہی تھے۔ بحرین پولیس کی ٹریننگ پولیس سے زیادہ ملٹری سے ملتی جلتی تھی جس کی ایک وجہ پاکستانی انسٹرکٹرز تھے۔ یہ ایک طرح کی پیرا ملٹری فورس تھی۔ پولیس کی وردی ، ملٹری بوٹ کندھے پر ریفل اٹھا کر ڈھول کی تھاپ پر قدم سے قدم ملا کر پریڈ کرنا ایک ایسی پرفارمنس تھی اور ہم اس کے اتنے عادی ہو چکے تھے کہ پریڈ گراؤنڈ سے باہر بھی ڈھول کی آواز پر سول کپڑوں میں بھی ہمارے قدم میدان سے ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔تو بات ہو رہی تھی اس ملٹری لائف کی جس میں Red sash ایک صدیوں پرانا فیشن ہے جو آج بھی جاری و ساری اور تقریبات میں اچھا لگتا ہے۔ صدیوں پرانی روایت اور ہزاروں میل کی مسافت کے باوجود دنیا بھر کے افواج میں یہ پٹکا کسی نہ کسی رنگ اور کسی نہ کسی طرز میں آج بھی زندہ ہے۔

یہ برٹش آرمی کے ڈریس کا حصہ تھا اور ان کے ذریعے برصغیر کی فوجوں کو منتقل ہوا لبتہ پرانے زمانے میں یہ ایک کمبل کی شکل میں ہوتی تھی جسے socmetic مقاصد کے لیے سمارٹ بنانے کے لیے ایک پٹے کی شکل دے دی گئی۔ برصغیر میں بھی یہ فوج کے دوران فیلڈ ڈریس کا حصہ تھی۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کمپنی سر جینٹ میجر کی یہ ڈیوٹی ہوتی تھی کہ میدان میں زخمی ہونے والے فوجیوں کو کندھے پر اٹھا کر میدان سے لانا اور ان کے علاج کا بندوبست کرنا سر جینٹ میجر کے فرائض میں شامل تھا اس لیے یہ ریڈ سیش اس کے یونیفارم کا حصہ تھی اس کا رنگ اس لیے سرخ رکھا گیا کہ دوسرے رنگ کے کپڑے پر زخمیوں کا خون گرنے کی وجہ سے وہ رنگ برنگے ہو جاتے تھے لہٰذا فیصلہ کیا گیا کہ اس کا رنگ خون کا رنگ ہونا چاہیے تا کہ استعمال کے بعد بھی اس کے ظاہری look میں تبدیلی نہ آئے۔پرانے زمانے میں چونکہ زخمیوں کو شفٹ کرنے کے لیے سٹریچر نہیں تھے اس لیے سرخ کمبل میں زخمی کو ڈال کر دو آدمی دو دو کونے پکڑ کر اسے محفوظ مقام تک پہنچاتے تھے اور یہ سفر بعض اوقات میلوں پر محیط ہوتا تھا اس وقت فوج میں ایمبولینس استعمال نہیں ہوتی تھی۔برصغیر میں مروجہ Red sash کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ 72 انچ لمبی اور 16 انچ چوڑی یہ پٹی wool کے بنے ہوئے 29 دھاگوں (strands) کو جوڑ کر بنائی جاتی ہے۔ 29 کا یہ ہندسہ تاج برطانیہ کی29 Royal Regiment کو ظاہر کرتا ہے یہ وہ رجمنٹ تھی جس نے پہلی بار انڈیا کی سر زمین پر قدم رکھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم کر کے ہندوستان کو براہ راست برطانوی استعمار میں شامل کر دیا۔اگر ملٹری استعمال سے ایک اور قدم پیچھے جائیں تو پرانے دور کے بادشاہوں اور نوابوں کے regalia یا لباس شاہی میں sash کا استعمال برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ آخر میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیکن ہاؤس سکول کے یونیفارم کوڈ میں لڑکیوں کے لیے Blue sash یونیفارم کا حصہ ہے جبکہ لڑکوں کے یونیفارم میں اس sash کو شامل نہیں کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکول انتظامیہ فوج کی نسبت عالمی ملکہ حسن سے زیادہ متاثر ہے۔ اس غلط فہمی کی درستی ضروری ہے۔ ویسے بھی sash کو ایک مخصوص Gender کے لیے محدود کرنا ایک امتیازی نظریہ ہے جس کی اس دور میں گنجائش نہیں بنتی۔