Categories
آرٹیکلز

اگر پاکستان میں شو روم سے لی گئی زیرو میٹر گاڑی میں کوئی نقص نکل آئے تو کیا کرنا چاہیے ؟ ایک خصوصی معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور خاتون صحافی ثنا آصف ڈار بی بی سی کے لیے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہم نے سوزوکی کی دو آلٹو کاریں کراچی کے ایک آٹو ڈیلر سے بک کی تھیں اور عید سے پہلے جب ہم گاڑیوں کی ڈیلیوری لینے پہنچے تو ایک گاڑی تو ٹھیک تھی

لیکن دوسری گاڑی کے دروازے پینٹ ہوئے تھے۔ ہمیں کہا گیا کہ ایسا مسئلہ ہو جاتا ہے اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی۔‘ہمیں عید سے پہلے گاڑی لینے کی جلدی تھی تو ہم گاڑی تو لے آئے لیکن عید کے بعد دوبارہ ڈیلر کے پاس گئے لیکن انھوں نے ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔ ہم نے سوزوکی کے کسٹمر کیئر سے بھی رابطہ کیا لیکن وہاں سے کوئی ردعمل نہیں آیا تو پھر ہم نے سوچا کہ ہم اس معاملے کو وائرل کرتے ہیں۔‘سوشل میڈیا پر معاملہ وائرل ہونے کے بعد ہمیں بلایا گیا تو ہم نے ان سے نئی گاڑی کا مطالبہ کیا لیکن وہ اس پر نہیں مانے اور پھر آخر میں ہم نے گاڑی کے دروازے تبدیل کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔‘یہ واقعہ ہمیں کراچی سے تعلق رکھنے والے اسد عظیم بیگ نے سنایا، جن کی اسی سے متعلق ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے کافی وائرل ہے۔اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے آٹو مینوفیکچر کمپنیوں پر نہ صرف غصے کا اظہار کیا بلکہ اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے چند واقعات کا ذکر کیا اور اسد عظیم بیگ کو قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ بھی دیا۔اس واقعے کے حوالے سے ہم نے پاکستان سوزوکی سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی اور انھیں بذریعہ ای میل اپنے سوالات بھی بھیجے تاہم ابھی تک ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔دوسری جانب اسد عظیم بیگ نے ہمیں بتایا کہ متعلقہ ڈیلر نے گاڑی کے دورازے تبدیل کرنے کے لیے

ان سے گاڑی واپس لے لی ہے جو دو سے تین دن میں ان کو مل جائے گی۔پاکستان میں نئی گاڑی کی خرید و فروخت سے متعلق سوشل میڈیا پر جاری بحث کے بعد ہم اس تحریر میں یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ پاکستان میں کسی بھی کمپنی سے زیرو میٹر گاڑی خریدتے ہوئے کن چیزوں کو مدِ نظر رکھنا چاہیے اور اگر کسی شخص کو ایسی گاڑی (جس میں کوئی نقص ہو) ڈیلیور کر دی جاتی ہے تو وہ کمپنی کے خلاف کیا قانونی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔پاکستان میں گاڑیوں کی خرید و فروخت کی معروف ویب سائٹ ’پاک ویلز‘ کے چیف ایگزیکٹو سنیل منج دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی بھی گاڑی، جو زیرو میٹر کہہ کر فروخت کی جاتی ہے، وہ زیرو میٹر نہیں ہوتی۔وہ کہتے ہیں کہ ’تمام آٹو مینوفیکچرنگ کمپنیاں فیکٹری میں 30-35 کلومیٹر کی ٹیسٹنگ کر کے کاروں کو ٹرک پر لوڈ کر دیتے ہیں، ٹرک پر سوار یہ گاڑیاں پھر ٹرک اڈے پر آتی ہیں (کیونکہ کار کیرئیر بڑا ہوتا ہے اور کمرشل ٹرانسپورٹ ہونے کی وجہ سے شہر کے اندر نہیں آ سکتا)۔ بہترین طریقہ تو یہ ہے کہ گاڑی جب اڈے پر آئے تو وہاں سے ایک ایک گاڑی کو سنگل کار کیرئیر سے شو روم پہنچایا جائے لیکن کیا یہ جاتا ہے کہ اڈے سے گاڑیاں چلا کر شوروم لائی جاتی ہیں۔‘سنیل منج نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’کوئی ایک نہیں بلکہ سب مینوفیکچررز ایسے ہی کرتے ہیں۔ جب یہ گاڑیاں ایسے سڑک پر چلا کر لائی جاتی ہیں تو اس بات کے امکانات موجود ہوتے ہیں کہ

کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے، کوئی موٹر سائیکل یا سائیکل والا یا دوسری گاڑی والا اس گاڑی کو ٹکر مار سکتا ہے۔‘سنیل منج نے بتایا کہ ایسا ہونے کی صورت میں کمپنی یہ نہیں کرتی کہ اس گاڑی کی جگہ آپ کو نئی گاڑی دے بلکہ آپ کو وہی گاڑی مرمت کر کے دی جاتی ہے۔سنیل نے مزید بتایا کہ ’باہر کے ملکوں میں جب آپ گاڑی خریدتے ہیں تو آپ ایک گاڑی پسند کرتے ہیں لیکن اس میں کوئی نقص دیکھ کر آپ جب یہ کہتے ہیں کہ مجھے دوسری گاڑی دے دیں تو وہ آپ کو شوروم میں کھڑی دوسری گاڑی دے دیتے ہیں کیونکہ وہ ساری گاڑیاں اوپن لیٹر پر ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔‘پاکستان میں نئی گاڑی خریدنے کے لیے آپ اپنا شناختی کارڈ دیتے ہیں تو آپ کے نام پر ہی وہ گاڑی بنائی جاتی ہے لیکن راستے میں آتے آتے اگر اس گاڑی کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو آپ کو نئی گاڑی نہیں بلکہ اسی گاڑی کو پینٹ یا سپرے کر کے دے دیا جاتا ہے۔‘سنیل کہتے ہیں کہ یہ دراصل دھوکہ دہی ہے اور پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے۔ سنیل کا مزید دعویٰ ہے کہ پاکستان میں اگر سالانہ بنیادوں پر دو سے ڈھائی لاکھ گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں اور وہ ساری سڑک پر چل کر شو روم تک جا رہی ہیں تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان میں سے دس گاڑیوں کو کوئی نہ کوئی نقصان تو پہنچے گا۔وہ کہتے ہیں کہ ’کمپنی چھوٹے موٹے نقصان کی صورت میں

آپ کو وہی گاڑی مرمت کر کے دے دیتی ہے لیکن بڑے نقصان کی صورت میں گاڑی تبدیل کی جاتی ہےاگر کسی نقص کے ساتھ آپ کو گاڑی ڈیلیور ہو گئی تو آپ کیا کریں؟سنیل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی کمپنی سے زیرو میٹر گاڑی لیتے ہوئے بھی ان پر اندھا اعتماد نہ کیا جائے۔وہ کہتے ہیں کہ ’گاڑی کی ڈیلیوری دینے سے پہلے آپ سے ایک فارم پر دستخط کرائے جاتے ہیں تو وہ سائن کرنے سے پہلے گاڑی کی اچھے طریقے سے جانچ کر لیں۔‘شوروم سے گاڑی لے کر نکلتے ساتھ ہی کمپنی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اس لیے آنکھیں کھول کر گاڑی کا معائنہ کریں، اسے اچھے طرح سے چیک کریں۔‘وہ کہتے ہیں کہ’گاڑی خریدتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس پر پینٹ تو نہیں ہوا، اصل اور دوبارہ پینٹ میں فرق معلوم ہونا چاہیے، دروازے چیک کریں، گاڑی کے کارنر چیک کریں، اگر گاڑی میں آڈیو سسٹم موجود ہے تو اس کے ریمورٹ تک کو چیک کریں، انوائسز اور ورانٹی بک بھی چیک کریں۔‘سنیل منج کہتے ہیں کہ پاکستان میں بد قسمتی سے زیرو میٹر گاڑی کو بھی ایسے ہی چیک کرنا ہوتا ہے، جیسے پرانی گاڑی کو خریدتے وقت آپ مختلف چیزیں دیکھتے ہیں۔لیکن ایک عام صارف ان باریکیوں کو کیسے پرکھ سکتا ہے؟اس حوالے سے سنیل منج کہتے ہیں کہ نئی گاڑی کی ڈیلیوری لینے کے وقت اپنے ساتھ کسی ایسے فرد کو لے کر جائیں جو ان باریکیوں کو سمجھتا ہو۔سنیل منج نے مزید بتایا کہ اگر آپ کے ساتھ گاڑی کی ڈیلیوری کے وقت ساتھ جانے والا کوئی شخص نہیں تو پھر بہت سی پروفیشنل کمپنیاں بھی

موجود ہیں جو گاڑی کے معائنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ’اس سہولت کا استعمال کرتے ہوئے آپ گاڑی کی ڈیلیوری سے قبل اس کا معائنہ کرا سکتے ہیں۔ اگر آپ نئی گاڑی بھی لینے جا رہے ہیں تو انسپیکشن ٹیم کو بلائیں اور اس سے گاڑی کا معائنہ کرائیں اور پھر گاڑی کی ڈیلیوری لیں۔‘لیکن ان تمام احتیاطوں کے باوجود بھی اگر کسی کسٹمر کو کسی نقص کے ساتھ گاڑی ڈیلیور ہو جاتی ہے تو اس کے بعد وہ کیا قانونی راستہ اختیار کر سکتا ہے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسلام ہائی کورٹ کی وکیل فاطمہ بٹ نے ہمیں بتایا کہ جب ایک صارف کسی کمپنی سے کوئی بھی چیز یا شے خریدتا ہے اور اس میں کوئی نقص نکل آئے یا وہ چیز کمپنی کے بتائے ہوئے معیارات پر پوری نہ اترتی ہو تو، صارف اس کمپنی کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ’اس کے لیے کنزیومر پروٹیکشن کا قانون موجود ہے۔ اس حوالے سے وفاق کا اپنا قانون جبکہ صوبائی سطح پر بھی قانون موجود ہیں۔‘وکیل فاطمہ بٹ بتاتی ہیں کہ جب آپ کو اس بات کا پتا چل جائے کہ پراڈکٹ میں کوئی نقص ہے یا اس کی کوالٹی وہ نہیں جس کا کمپنی نے دعوی کیا تھا تو آپ 15 دن کے اندر اندر متعلقہ کمپنی کو لیگل نوٹس بھیج سکتے ہیں۔ کمپنی قانونی طور پر ان 15 دن کے اندر آپ کو جواب دینے کی پابند ہے۔‘اگر کمپنی آپ کے لیگل نوٹس کا جواب نہیں دیتی تو آپ اپنا کیس کنزیومر کورٹ میں لے کر جا سکتے ہیں۔ ڈسٹرکٹ سطح پر ہر صوبے میں کنزیومر کورٹ موجود ہیں۔‘وکیل فاطمہ بٹ نے مزید بتایا کہ ’عدالت متعلقہ کمپنی کو بلا سکتی ہے، نوٹس جاری کر سکتی ہے، عدالت کمپنی کو یہ حکم دے سکتی ہے کہ وہ اس پراڈکٹ کو تبدیل کر کے صارف کو نئی چیز دے، جس میں کوئی نقص نہ ہو لیکن اگر پراڈکٹ تبدیل نہیں ہو سکتی تو کمپنی صارف کو جرمانہ ادا کرے۔ یہاں تک کہ اگر کمپنی صارف کے نقصان کا ازالہ نہیں کرتی تو عدالت کمپنی کے مالکان کو سزا بھی سنا سکتی ہے اور کچھ عرصے کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔‘فاطمہ بٹ نے واضح کیا کہ کنزیومر پروٹیکشن کا قانون صرف گاڑیوں یا بڑی چیزوں پر ہی نہیں بلکہ کسی بھی کمپنی سے خریدی گئی چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔(بشکریہ : بی بی سی )