Categories
پاکستان

ایان علی کیس کا تفتیشی انسپکٹر سلیم زندہ نکلا ۔۔۔تہلکہ خیز حقیقت سامنے آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ڈالرز کی غیر قانونی نقل و حمل کے کیس سے شہرت حاصل کرنے والی معروف ماڈل اور گلوکارہ ایان علی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے میں اپنا تذکرہ کیے جانے پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ

مجھ پر جھوٹا الزام لگائے بغیر آپ کی تقریر اور خبر نہیں بنتی۔پی ٹی آئی کے جلسے میں ایان علی کا نام لیے جانے پر معروف ماڈل سے منسوب ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی جانے والی سلسلہ وار ٹوئٹس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ آپ نے ایک 20 سالہ لڑکی پر بہتان باندھ کر اپنی رکیک سیاست کی۔انہوں نے لکھا کہ میں نے آپ کو توجہ یا جواب کے قابل نہ سمجھا، مگر آپ اپنی حرکتیں بدلنے کو تیار نہیں تو آپ کو جواب دوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ میرے کیس میں تفتیشی افسر ایک انسپکٹر سلیم تھے،جو آج بھی زندہ ہیں اور اپنے ڈیپارٹمنٹ سے انعام لے رہے ہیں، مجھ پر جھوٹے کیس ڈالنے کے ہر عدالتی دستاویز پر اُن کا نام ہے۔انہوں نے کہا ’ان سمیت ہر شخص جس کا نام عدالتی دستاویز میں ہے وہ زندہ ہے، آپ شاید کسی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے اس لیے الف لیلا کی کہانیاں سناتے ہیں، جن کی موت ہوئی ان کا نام انسپکٹر اعجاز تھا (اللہ مغفرت کرے) دور دور تک میرے کیس سے تعلق نہ تھا، یہ ہائی کورٹ میں ثابت ہوا‘۔ایان علی نے مزید لکھا کہ مجھے سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے آزاد کیا، جانتے ہیں اس بینچ میں کون تھا؟ جسٹس ثاقب نثار اور شیخ عظمت سعید، جن کی آپ تک نے تعریف کی‘۔ایان علی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ تک سے میرے بری ہونے کے بعد اگر آپ کے شکی دماغ میں خلل تھا تو اپنے 4 سالہ منحوس دور میں دوبارہ تحقیقات یا اپیل کرتے۔