Categories
پاکستان

پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاریاں،عمران خان نے پورے ملک میں احتجاج کی کال دیدی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے مسیحی برادری کے احتجاج اور عثمان ڈار کی گرفتاری کے بعد جلسے کا مقام سی ٹی آئی سے تبدیل کرتے ہوئے وی آئی پی گراونڈ کر دیا گیاہے، بلااجازت جلسہ کرنے پر پولیس کی جانب سے آپریشن کیا گیا جس میں عثمان ڈار سمیت متعدد پی ٹی آئی کارکنان کو حراست میں لیا گیا،

صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب عمران خان خود بھی میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے ہر صورت سیالکوٹ جانے کا اعلان کر دیاہے، تفصیلات کے مطابق عمران خان نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری حکومت نےکبھی انکا کوئی جلسہ،دھرنا یا ریلی وغیرہ نہیں روکی کیونکہ ہم جمہوریت سےمخلص ہیں۔ میں آج سیالکوٹ میں ہوں گا اور اپنےتمام لوگوں کو ہدایات دے رہا ہوں کہ باہرنکلیں اور بعدازنمازِعشاءاپنےشہروں/علاقوں میں اس فسطائی امپورٹڈحکومت کیخلاف احتجاج کریں۔ ‘‘عمران خان کا مزید کا کہناتھا کہ ’’جب بھی اقتدار ملتاہے،SCپر چڑھائی،ماڈل ٹاؤن میں قتلِ عام،ججوں کورشوت دینےاورنواز شریف کیجانب سےخودکوامیر المؤمنین قراردیےجانےجیسی حرکتیں کرتےہیں۔اپوزیشن میں جمہوریت کامنفی استعمال،حکومت میں جمہوری اقدارکا جنازہ نکالتےہیں۔مگرلوگ اب ان کیخلاف کھڑےہوچکے ہیں۔‘‘ سابق وزیراعظم نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ ’’کوئی شک میں نہ رہے،میں آج سیالکوٹ جاؤں گا۔امپورٹڈ حکومت نےہماری قیادت اورکارکنان کیخلاف سیالکوٹ میں جو کچھ کیاوہ اشتعال انگیزضرورہےمگرغیرمتوقع ہرگزنہیں۔ ضمانت پررہامجرموں کےاس ٹولے اورلندن میں مقیم ان کےعدالت سےسزا یافتہ قائدنےہمیشہ اپنےمخالفین کیخلاف فسطائی حربےاستعمال کئےہیں۔ادھر سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر بخاری نے عمران خان کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لینے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر بخاری نے سیالکوٹ میں صورتحال پر اپنے بیان میں کہا ہے عمران خان کوفوری طور پر سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ سید نیر بخاری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے آئینی ہتھیار سےاس سےنجات حاصل کی گئی اور عمران خان نے ماورائے آئین اقدامات کی کوششیں کیں۔ سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ عمرانی حکومت سے نجات کیلئے آئینی تبدیلی پر سمجھ داری کا مظاہرہ کیا۔ خیال رہے وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے 70ْ0 رہنماؤں اور کارکنوں کی فہرست تیار کرلی، جنہیں سابق وزیر اعظم عمران خان کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے قبل ملک بھر سے گرفتار کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فہرست میں زیادہ پی ٹی آئی کے کچھ سرکردہ رہنما اور کارکنان بھی شامل ہیں۔