Categories
آرٹیکلز

مئی کے آخر میں اسلام آباد میں دھرنے کی کال کے امکانات : اگر عمران خان کا یہ پلان ناکام ہو گیا تو پھر کیا ہو گا ؟ ایک خصوصی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار راجہ اکبر داد خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد ہوئے ایک ماہ ہو گیا ہے۔ حکومت کیسے اور کیوں گئی، ایسے موضوع ہیں جن پر کسی انجانے خوف کی بنا پر بہت کم بات ہورہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے جیسے

اقتدار کی پوٹلی موجودہ حکومت کی جھولی میں دعائوں کے ساتھ رکھ دی گئی ہے اور نصیحت کردی گئی ہے کہ انہیں اپنے گزشتہ کئی ماہ پر پھیلے بیانیہ کو یاد رکھنے کی زیادہ فکر نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس بیانیہ میں مرکزی نقاط مہنگائی کو کم کرنا، بیروزگاری کو کم کرنا، پاکستان کا بیرون ملک امیج بہتر کرنا تھے۔ ان چار ہفتوں میں ان موضوعات پر بہت کم بات ہوئی ہے کیونکہ ان امور پر حکومت کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ 15ماہ میں محسوس کی جانے والی تبدیلی ممکن نہیں ہے، حکومت بناکر پرانی حزب اختلاف خود اپنے ہی جال میں پھنس گئی ہے اگرچہ پی ٹی آئی اقتدار سے باہر ہوتے ہی اپنے بیانیہ میں پُرزور انداز میں مطالبہ کررہی ہے کہ کیونکہ ان کے خلاف عدم اعتماد ہوگیا ہے، موجودہ حکومت کے لوگ بھی انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، اس لیے اب تقاضا یہ ہے کہ انتخابات کا اعلان ہوجائے مگر حکومت پارلیمنٹ کی بقیہ مدت (ایک سال تین ماہ) بھرپور انداز میں حکومت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس دورانیہ میں وہ اپنے مقصد کی تمام چیزیں پارلیمان سے منظور کرواکر انتخابات میں جانا چاہتی ہے تاکہ انتخابات سے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ پی ٹی آئی کے لیے اسمبلی نشستوں سے استعفیٰ دینا آسان فیصلہ نہ تھا، پی ٹی آئی اگر حزب اختلاف کی نشستوں پر موجود رہتی تو حکومت کے لیے من پسند فیصلے کرنے آسان نہ ہوتے، پی ٹی آئی کے نائب چیئرمین شاہ محمود قریشی ہرگز استعفوں کے حق میں نہ تھے،

ان کی اس دلیل میں بہت وزن تھا کہ ان کی جماعت کو اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جگہ پر اپنے ساتھ ہوئی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے رہنا چاہئے اور اس طرح ان کی آواز زیادہ موثر انداز میں متعلقہ جگہوں پر زیر غور آتی رہے گی، احتجاج کب اور کس انداز میں شروع کرنا ہے طے کرنے میں بھی دیر ہوگئی اور جب بالآخر انہوں نے مئی کے آخری ہفتہ کی تاریخ دے دی تب تک لوگوں کی ناراضگی میں شدت کم ہوچکی ہے، لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے عمران خان نے کئی جلسوں کے اعلان کر رکھے ہیں، ان کے اختتام تک احتجاج مزید لوگوں کے جذبات سے نکل چکا ہوگا، دوسری کوئی قابل ذکر جماعت انتخابات کی بات نہیں کررہی کیونکہ اگر عمران خان کا بیانیہ کسی اعتبار سے کمزور دکھائی دیتا ہے تو یہ اتحادی حکومت بھی کچھ عوام کو دے نہیں پا رہی، اس لیے یہ اپنے پروٹوکول کے بل بوتے پر لوگوں کو باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ ان کے اقتدار کا سفر جاری ہوچکا ہے جس کے کاندھوں پر وہ اگلا الیکشن جیت لیں گے اور جس طریقہ سے اس بار اقتدار میں تبدیلی آئی ہے، ایک شفاف نظام کے تحت انتخابات ہی اس دھبہ کو ختم کرسکتے ہیں، کیا عمران خان عوامی قوت کے دبائو کے تحت اداروں کو مجبور کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ جلد انتخابات ہوجائیں، ایک کئی ملین ڈالر سوال ہے، پچھلے انتخابات سے پہلے کے ایسے دعوے کہ ان کے پاس مختلف شعبوں میں رہنمائی کے لیے کئی درجن اعلیٰ پایہ کے

ماہرین موجود ہیں، لگتا نہیں کہ ان کی ٹیم نے اسلام آباد اجتماع کے لیے ہوم ورک اچھے انداز میں مکمل کرلیا ہے، اوّل20لاکھ افراد کا کسی ایک وقت میں اسلام آباد اکٹھا ہونا ناممکن ہے، ایسے اجتماع کے لیے آپ کو پنجاب کے کئی شہر جام کرنے پڑیں گے، تب کہیں آپ کا ٹارگٹ پورا ہوگا اور ان لوگوں کے قیام و طعام کا (بقول آپ کے) کیا انتظام ہوگا، واضح نہیں ہے، حکومت کس حد تک آپ کے ساتھ تعاون کرے گی یہ بھی واضح نہیں، مقتدرہ کا بھی فرض ہے کہ وہ اقدامات کرے تاکہ حالات پرامن رہیں، وہ کیا اقدامات ہوسکتے ہیں جن سے صورت حال کو آسان بنانے میں مدد مل سکتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے لیے کئی پاپڑ بیلے ہیں اور اربوں ہضم بھی کیے ہیں، اگر ایک قومی کرائسز سے نمٹنے کے لیے اگر مضبوط حلقے حکومت اور عمران خان کے درمیان یہ طے کروا دیں کہ چھ ماہ بعد انتخابات کروا دیئے جائیں گے تو سابق وزیراعظم کو ان لائنوں پر کسی ڈیل کو قبول کرلینا چاہئے اور اپنے اسلام آباد اجتماع کو ایک جلسہ کی شکل دے کر معاملہ سے نمٹتے ہوئے منجھی ہوئی سیاست کا ثبوت دے کر معاملات کو خوش اسلوبی سے سمیٹ لینا چاہئے، زخم دونوں طرف تازہ ہیں اور تصادم کے خطرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس سے بیچ بچائو کرنا طرفین کی ذمہ داری ہے۔پی ٹی آئی اپنی طاقت ثابت کرنے کے لیے متواتر عظیم الشان جلسے کررہی ہے

اور ان جلسوں کا عشر عشیر بھی اسلام آباد کا رخ کرلیں تو اسلام آباد اور اس سے متصل انسانوں کا سمندر بن جائے گا جس سے امن و امان، حفظان صحت اور ملکی حفاظت کے ایسے مسائل پیدا ہوجائیں گے جن سے سول انتظامیہ کیلئے نمٹنا مشکل ہوجائے گا۔ عمران خان تاحال یہ واضح نہیں کر پائے کہ ان کاآخری کھیل کیا ہے، جس کا طے ہونا نہایت اہم ہے، فیصلہ عوام کریں گے، ایک مبہم اور غیر واضح نعرہ ہے، فیصلے عمران خان کی ٹیم نے کرنے ہیں، اس لیے پلان بی اور سی بھی لوگوں کو معلوم ہونے چاہئیں، بڑی تعداد میں لوگوں کو ایک معلق صورت حال میں نہیں جھونکا جاسکتا، اہداف کے لحاظ سے یہ اجتماع شفاف نہیں ہے جس کے باعث شرکا کی اکثریت تذبذب میں پھنسی ہوئی ہے۔ اسلام آباد اجتماع سے عمران خان کیا کچھ حاصل کرسکتے ہیں، ان کا ایک بہت بڑا گیمبل ہے، لوگ عمران خان پر یقین رکھتے ہیں اگرچہ ان کے کئی فیصلوں کی بنا پر کئی لاکھ سر کھجاتے بھی رہ جاتے ہیں اور اگر اسلام آباد اجتماع عمران خان کے ذہن میں مقاصد حاصل نہیں کرپاتا تو یہ ناکامی ان کی سیاست کے لیے ایک بڑا سیٹ بیک ہوگا، اس اجتماع کو اگر ہونا تھا تو عدم اعتماد کے فوری بعد ہوجاتا، لوگوں کو اتنے اہم معاملہ پر زیادہ دیر چارج رکھنا ممکن نہیں اور ہر کسی کے لیے ان کی آواز پر آئے دن باہر بھی نہیں نکلا جاسکتا۔ تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے نظریں مقتدرہ پر ہی آ ٹھہرتی ہیں کہ جس طرح ہر مشکل قومی وقت پر یہ قومی ادارہ آگے بڑھ کر حالات بہتر کروا دیتا ہے، اس موقع پر بھی وہ اپنا بوجھ ایک ایسے فارمولے کے پیچھے باندھ دیں گے جس سے لوگوں کی خواہشات کے بڑے حصے حاصل کرلیے جائیں۔