Categories
آرٹیکلز

سلطان راہی بمقابلہ مصطفیٰ قریشی : عطاالحق قاسمی کی موجودہ سیاسی حالات پر زبردست تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار عطاالحق قاسمی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اصل میں ہمارے ان دوستوں نے جو اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، یہ بات میں اپنے پاکستانی بھائیوں کو مخاطب کرکے کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے ان قوموں کی تاریخ نہیں پڑھی

جو انقلاب کے نام پر خونریزی کی طرف مائل ہونے اور انقلاب تو نہیں آیا البتہ خود انہوں نے ایک دوسرے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ہمارا ملک مختلف اطراف سے پہلے ہی دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اور دشمن صرف اس ’’انقلاب‘‘ کا منتظر ہی نہیں ہے بلکہ وہ تو امن کے دنوں میں بھی اس خطہ پاک کو نشانے پر رکھے ہوتا ہے اور اگر خدانخواستہ ہم خود اس کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں تو سوچئے کیا ہو گا ؟اور ہاں ملکی معیشت اگر مضبوط بنیادوں پر استوار نہ ہو تو قومی نفاق اور بدامنی کی صورت میں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو خود کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ملک دیوالیہ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد لوگ نان شب کو بھی ترس جاتے ہیں گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں معاشیات کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں دیکھنے والی آنکھیں فردا کے ہولناک مناظر ابھی سے دیکھ سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف سے ایسے معاہدے کئے گئے ہیں کہ نہ صرف ان سے واپسی ممکن نہیں بلکہ یہ ساہوکار ادارہ ’’ہل من مزید‘‘ کے نعرے لگا رہا ہے اس وقت سری لنکا کی مثال ہمارے سامنے ہے خدا کےلیے اپنے ملک کو اس انجام تک نہ پہنچائیں سیاست کوئی امر ممنوع نہیں ہے، ہر پاکستانی کو اپنے نظریے کے مطابق سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنا چاہئے مگر باہمی نفرت کی فضا پیدا نہیں کرنی چاہئے اور جو رہنما ہیں انہیں بھی مدبرانہ انداز اختیار کرنا چاہئے اگر وہ قوم سے سلطان راہی کے انداز میں خطاب کریں گے اور دوسری طرف سے مصطفیٰ قریشی ’’جواب آں غزل‘‘ کے طور پر ویسا ہی جارحانہ انداز

اپنائیں بلکہ ان کے پیروکار بھی ہاتھوں میں گنڈاسے لیے کھڑے ہوں تو سوچیں ملک کا کیا بنے گا۔ خدا کے لیے پاکستانیوں کے ہاتھوں میں گنڈاسے نہ پکڑائیں۔اس کے علاوہ خطرناک صورتحال یہ بھی ہے کہ قومی اداروں کی اس برے انداز سے کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان سے وابستہ شخصیتوں پر گالم گلوچ کا سلسلہ جاری ہے، وہ خطرناک ہی نہیں ہے کیونکہ قومیں جب کسی بحران کا شکار ہوتی ہیں اور ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی نظر آتی ہے تو یہ ادارے ہیں قوم کو صحیح پٹری پر ڈالتے ہیں بدامنی کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کنٹرول کرتے ہیں قانون کی تشریح عدالتیں کرتی ہیں ملکی صورتحال کی صحیح ترجمانی میڈیا کرتا ہے اور ان اداروں کو جببے اثر بنانے کے لیے ان پر گھٹیا الزامات اور ان کی کردار کشی کا عمل شروع کر دیا جائے تو پھر اس انارکی پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے جس کی طرف قوم کو لے جایا جا رہا ہوتا ہے اس وقت یہی کام بہت منظم طریقے سے ہو رہا ہے، میں آج بھی اس حسنِ ظن میں مبتلا ہوں کہ جو لوگ ایسا کر رہے ہیں ان کی نیت ملک کو برباد کرنے کی نہیں ہے بلکہ وہ خود پرستی اور خبط عظمت کا شکار ہیں، ان کا خیال ہے کہ وہ ہیں تو ملک ہے اگر وہ نہ رہے تو پھر ملک کی بھی کوئی گارنٹی نہیں۔ ایسے لوگوں کو ماہر نفسیات کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے مگر کوئی پاگل کب یہ سمجھتا ہے کہ وہ پاگل ہے وہ تو پاگل سمجھنے والوں کو پاگل اور اللہ جانے کیا کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ بہرحال اس وقت میرا ملک کوئی نارمل ملک نہیں لگ رہا۔ ٹی وی لگائیں، اخبارات پر نظر ڈالیں، سوشل میڈیا دیکھیں تو یہی لگتا ہے کہ ہم کسی پاگل خانے میں رہ رہے ہیں چارہ گروں کو اس کا کچھ نہ کچھ علاج تو کرنا ہی پڑے گا!